سرکاری محکموں میں رشوت بڑھ گئی؟

سرکاری محکموں میں رشوت بڑھ گئی؟
 سرکاری محکموں میں رشوت بڑھ گئی؟

  



جس ملک میں یہ بحث جاری ہو کہ پہلے اوپر والوں کی کرپشن ختم ہو گی یا نیچے والوں کی، وہاں بدعنوانی ختم ہونے کی امید رکھنا چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ سنا ہے آج کل نچلی سطح پر دفاتر، تھانوں، پٹوار خانوں، ہسپتالوں، کارپوریشنوں، شہروں میں قائم ترقیاتی محکموں غرض سرکار کے عوامی خدمت پر مامور اداروں میں رشوت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس وقت حکومت کے وزراء روزانہ اربوں روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے قصے سناتے ہیں صرف دو خاندانوں کی لوٹ مار کا ذکر کرتے ہیں چلیں جی مان لیتے ہیں کہ نوازشریف، زرداری اور شہباز شریف نے بہت لوٹ مار کی ہے۔ اُن کے خلاف پوری ریاست ثبوت تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

نیب بھی ہاتھ دھو کے ان کی کرپشن تلاش کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہا ہے، مگر صاحبو کیا صرف یہی کرپشن ہے، کیا اسی کھیل تماشے سے عوام کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے۔ اب یہ بیانیہ بھی پہلی بار سنا ہے کہ ملک میں اس وقت مہنگائی اور غربت اس وجہ سے ہے کہ نوازشریف اور آصف زرداری سرمایہ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں چلو یہ بھی مان لیتے ہیں مگر سوال تو یہ ہے کہ حکومت نے ابھی تک عوام کو روز مرہ رشوت خوری سے نجات دلانے کا کیا پلان تیار کیا ہے۔ میں اپنا ذاتی تجربہ بتاتا ہوں۔ میرے بھائی رانا سلیم اختر کی بیٹی ڈاکٹر ہیں اس نے نشتر ہسپتال سے ایف سی پی ایس کیا تو اس کی پوسٹنگ کا مسئلہ آیا۔ پوسٹنگ محکمہ صحت سول سکریٹریٹ سے ہونی ہے۔

وہاں فائل پہنچی تو متعلقہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا اگر ملتان پوسٹنگ کرانی ہے تو دو لاکھ روپے لگیں گے۔ وگرنہ شجاع آباد یا جلالپور پیروالہ ہسپتال میں بھیج دیا جائے گا۔ بھائی صاحب نے اِدھر اُدھر سے سفارش تلاش کی لیکن سکریٹری لیول تک یہی کہا گیا کہ ملتان پوسٹنگ نہیں ہو گی، البتہ وہ سپرنٹنڈنٹ آج بھی فائل رکھے ہوئے ہے اور دو لاکھ میں تعیناتی کا عندیہ دے رہا ہے۔ اس کے خلاف شکایت اس لئے نہیں ہو سکتی کہ شہر میں تعیناتی نہ ہونے کا پورا کیس تیار کر کے بیٹھا ہے یہ تو وہ کیس ہے جو ذاتی طور پر میرے نوٹس میں ہے۔ اس کے علاوہ کیا گنگا بہہ رہی ہے گلی گلی محلے محلے میں شور ہے حکومت قائم ہوئی تو بڑا شور سنا کہ حکومت کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔

اس حوالے سے زیرو ٹالرنس وزیر اعظم کا ایجنڈا ہے مگر آپ خدا لگتی کہیئے کہ حکومت نے ایسا کون سا قدم اٹھایا ہے جس سے یہ لگے کہ وہ عوام کی سطح پر پائی جانے والی کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اب صوبے کے چیف سیکرٹری اور آئی جی تبدیل کرنے کی خبریں آ رہی ہیں اس سے کیا ہوگا، بیورو کریٹس اور پولیس افسر تو سارے ایک سے ہوتے ہیں ان کا کام تو اپنے افسروں اور اہلکاروں کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی غالباً شرم کے مارے نہیں بتاتے کہ کوئی افسر ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ ملتان کا حال یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کے ارکانِ اسمبلی کونے کھدروں میں چھپ چکے ہیں، کیونکہ اس وقت ملتان کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ان کو بری طرح نظر انداز کر رہے ہیں۔

ایک ڈویژنل صدر پی ٹی آئی اعجاز جنجوعہ ہیں جو آواز اٹھاتے ہیں کہ انتظامی افسران لوگوں کے کام نہیں کر رہے اور ان کے نیچے سارا نظام کرپٹ ہو چکا ہے، کسی آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی شہباز شریف دور کو لوگ اب یاد کرنے لگے ہیں ان کا کم از کم خوف تو ضرور موجود تھا۔ بیورو کریسی اتنی بے لگام نہیں تھی۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ بیورو کریٹس کو قابو میں کیسے رکھنا ہے۔ وہ ویڈیو کال پر افسروں کو سامنے بھی بٹھا لیتے تھے اور ان کے پاس جو معلومات ہوتی تھیں انہیں بتا کر وارننگ بھی دیتے تھے کہ اپنے آپ کو عوام کا حاکم نہیں خادم سمجھیں۔ اب کیا ہو رہا ہے سنا ہے چیف سکریٹری نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو یہ واضح پیغام دیا ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کی سفارش نہ مانی جائے۔

اپنے فیصلے آپ کریں کچھ غلط اشارے وزیر اعظم خان نے بھی شروع میں دیئے کہ ارکانِ اسمبلی افسروں کے کام میں مداخلت نہ کریں۔ شاید وہ اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ اس طرح بیورو کریسی ٹھیک ہو جائے گی، جو اُلٹا بے لگام ہو گئی۔ کسی ضلع میں اگر سرکاری محکموں سے عوام کو ریلیف نہیں ملتا، انہیں چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے، تو اس کا ذمہ دار ڈپٹی کمشنر ہے۔

لیکن اسے کون جوابدہ بنا سکتا ہے، کیا یہ بات غلط ہے کہ جو ایک بار سال دو سال کے لئے ڈپٹی کمشنر لگتا ہے، اس کی نسلیں سنور جاتی ہیں اس کے پاس یہ پیسہ آسمان سے تھوڑا برستا ہے، یہ اس کے نیچے موجود محکمے اور ادارے کما کر دیتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ ضلع میں پولیس کی کرپشن ختم کرنی ہے تو ڈی پی او کو ایماندار بنایا جائے، کیونکہ جب وہ تھانوں سے بھتہ لے گا تو ایس ایچ او عوام سے نکلوا کر اسے پہنچائے گا۔

کوئی بتائے کہ پنجاب میں ایساکون سا نظام ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جا سکے کہ نچلی سطح پر عوام کو کرپٹ دفتری و محکمہ جاتی نظام سے نجات مل گئی ہے۔ لے دے کے ایک انٹی کرپشن کا محکمہ ہے، مگر یہ محکمہ اس قدر پٹ چکا ہے کہ اس کی کارکردگی پر تین حرف بھیجنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔ یہ تو خود ’’آنٹی کرپشن‘‘ بن گیا ہے، جب حسین اصغر کو اس کا ڈی جی لگایا گیا تو بڑی توقعات باندھ لی گئیں، مگر اکیلا آدمی کیا کر سکتا ہے۔ ڈویژن کی سطح پر تعینات ڈائریکٹرز اینٹی کرپشن ان کے راستے کی دیوار بن گئے۔

حسین اصغر سپریم کورٹ گئے کہ 20ویں گریڈ تک کے افسران کو گرفتار کرنے کا اختیار محکمے کو دیا جائے اور اس کی پیشگی اجازت وزیراعلیٰ سے نہ لینی پڑے۔ سپریم کورٹ نے یہ اجازت دے دی، مگر کوئی بتائے کہ اب تک کتنے بیسویں گریڈ کے افسران کو کرپشن پر گرفتار کیا گیا ہے۔ شاید ایک بھی نہیں، جس کا واضح مطلب تو یہی ہے افسران حاجی نمازی ہیں یا پھر اینٹی کرپشن کے پَر جلتے ہیں۔ اصل خرابی یہ ہے کہ بیورو کریسی نے اپنے لئے ایسے ضابطے اور قواعد بنا رکھے ہیں کہ ان پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں ہوتا۔ صرف چھوٹے ملازمین قابو آتے ہیں۔ بڑے افسران تک تو اینٹی کرپشن کے محکمے کی گرد تک نہیں جاتی۔

اینٹی کرپشن کے محکمے میں زیادہ تر ملازمین ڈیپوٹیشن پر دوسرے محکموں سے آئے ہوتے ہیں۔ وہ بھلا کیسے یہ جرات کر سکتے ہیں کہ کسی کرپٹ بیورو کریٹ پر ہاتھ ڈالیں اور بعد میں بیورو کریسی کے عتاب کا نشانہ بن جائیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بیورو کریسی نے سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ انہیں 7کلب روڈ تک محدود کر دیا گیا ہے، جس طرح شہبازشریف جگہ جگہ پہنچ جاتے، چھاپے مارتے، کسی زیادتی کے واقعہ پر خود جا کر جائزہ لیتے، اس طرح سے تو عثمان بزدار نے کچھ بھی نہیں کیا۔ شاید انہیں یہ خطرہ رہتا ہے کہ انہوں نے ایسا کچھ کیا تو نجانے اس کا کیا نتیجہ نکلے۔ سو اس وقت پنجاب کی بیورو کریسی اطمینان سے اپنا عوام دشمن رویہ جاری رکھے ہوئے ہے۔عوامی نقطہ ء نظر سے اسو قت ایک مفلوج گورننس چل رہی ہے، جس میں عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں، انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کی یہ تربیت ہو چکی تھی کہ مسائل حل کرانے کے لئے کسی ڈی سی یا ایس پی کے پاس جانا ہے۔ وہ بے دھرک چلے بھی جاتے تھے۔ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اس اعتماد سے محروم ہیں، انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ عوام کا کوئی مسئلہ لے کر کسی افسر کے پاس گئے تو وہ انکار نہ کر دے۔ انکار کر دیا تو وہ اپنی پارٹی سے شکایت بھی نہیں کر سکتے، کیونکہ پارٹی خود بیورو کریسی سے مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سو جناب عوام کو اسی نظام پر گزارا کرنا پڑے گا۔ انہیں تبدیلی کے جو خواب دکھائے گئے وہ جاگتی آنکھوں کے خواب تھے جو تعبیر سے محروم ہوتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...