بلیک ہول اور اس کے اسرار و رموز

بلیک ہول اور اس کے اسرار و رموز
 بلیک ہول اور اس کے اسرار و رموز

  

چند روز پہلے پرنٹ میڈیا میں ایک تصویر شائع ہوئی۔ اس کا چوکھٹا سیاہ رنگ کا تھا، درمیان میں ایک نارنجی رنگ کا دائرہ بنا ہوا تھا، اس دائرے کا محیط مدوّر نہیں تھا یعنی جیومیٹری کی اصطلاح میں اس کو دائرہ نہیں کہا جا سکتا، اس کے اندر اور ایک اور چھوٹا سا دائرہ تھا جس کا رنگ سیاہ تھا اور اس کا محیط بھی گول نہیں تھا بلکہ دائرہ نما کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ یہی بلیک ہول (Balck Hole) ہے۔۔۔ اسے آسٹروفزکس کے موضوع میں اب تک کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔ میں اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس طرح کی خبریں پڑھتا ہوں اور نہ صرف خود سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں بلکہ قارئین کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔

قارئین میں وہ احباب شامل نہیں جو فزکس اور آسٹروفزکس کے پروفیسر یا طالب علم ہیں کہ ان کا تو اوڑھنا بچھونا ہی یہی موضوع اور یہی علم ہوگا۔ میں اپنے جیسے ان قارئین کو سمجھانا چاہتا ہوں جو اردو زبان کے طالب علم ہیں، زیادہ انگریزی نہیں جانتے اور جانتے بھی ہوں گے تو سائنسی علوم کی لسانی مشکلات سے آگاہ نہیں ہوں گے۔ قارئین بلاشبہ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ ایک اندھا دوسرے اندھے کو کیا بتا اور سمجھا جا سکتا ہے کہ کون سی چیز کس رنگ و روپ کی ہے، اس کا سائز کیا ہے اور اس کے حصوں پرزوں کی شکل و صورت کیا ہے۔۔۔ آپ اسے میری بے وقوفی بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اب تو یہ عادت پختہ ہو کر گویا فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے، لہٰذا بلیک ہول کی درج بالا خبر کو بھی ڈی کوڈ کرنے کی سعی کرتا ہوں۔

اس خبر کے ادراک میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ اس میں بیان کی گئی بہت سی اصطلاحوں کی کچھ نہ کچھ خبر تو تھی لیکن اتنی نہیں تھی کہ دوسروں کو بتا سکوں مثلاً انگریزی کی یہ اصطلاحیں دیکھئے Cosmic Body۔۔۔ Event Horizon۔۔۔ Supermassive۔۔۔ 87 Galaxy۔۔۔ Light Year۔۔۔ Space Time۔۔۔ Relavtivty۔۔۔ Astroplysics۔۔۔

ان چند اصطلاحوں میں بعض کا اردو ترجمہ کیا جا چکا ہے مثلا لائٹ ائر (نوری سال)۔۔۔ سپیس ٹائم (خلائی وقت) ۔۔۔ ریلے ٹی وی ٹی(اضافیت) وغیرہ وغیرہ لیکن باقی ایسی اصطلاحات بھی ہیں جو نہ صرف اردو ترجمہ چاہتی ہیں بلکہ اس کی سلیس اور سادہ اردو میں تشریح بھی مانگتی ہیں۔ جب تک یہ کام نہ ہو، بلیک ہول جیسے موضوعات کو سمجھا اور سمجھایا نہیں جا سکتا۔ ہماری یونیورسٹیوں میں اگرچہ ان علوم کے انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں(مثلاً کراچی یونیورسٹی کا انسٹی ٹیوٹ آف سپیس اینڈ Planatary آسٹروفزکس) لیکن مجھے معلوم نہیں کہ ان جامعات نے ان علوم (خلائیات، فلکیات، ستارگان، ماورائے خلائیات، کائنات وغیرہ) کی توضیح و تصریح کے لئے اردو زبان میں ان علوم کو عام پڑھنے والوں کو دسترس تک پہنچانے کی کوئی کوشش بھی کی ہے یا نہیں۔

میں نے بہت برس پہلے عثمانیہ یونویرسٹی (حیدرآباد، دکن) کی بعض تصانیف سے استفادہ کیا تھا جن کے نام مرورِ ایام سے بھول چکا ہوں۔ مسلمان سائنس دانوں اور ماہرینِ علومِ فلکیات نے ماضی میں اس ذیل میں ایک قابل لحاظ کام کیا ہے۔ عمر خیام نہ صرف ایک شاعر تھا بلکہ خلائی علوم کے سلسلے میں اس نے کئی بیش قیمت رسالے (Booklets) تحریر کئے جو ہم تک پہنچ چکے ہیں اور ان کے تراجم وغیرہ بھی شائع ہو چکے ہیں۔ کئی رصدگاہیں بھی مسلم سائنس دانوں کے نام سے منسوب ہیں۔ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ سرکاری، عسکری اور عدالتی نہ سہی قومی سطح پر تو عوام کی ترجمان ہے اس لئے ان علوم و فنون کی مبادیات کو اردو زبان میں بھی تحریر و تصنیف کرنے کی ضرورت ہے۔

سائنس دان (بالخصوص مغرب کے سائنس دان) ایک عرصے سے یہ راز جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس کائنات کا نقطہ ء اختتام کیا ہے۔ یہ کہاں جا کر ختم ہوتی ہے (اور شروع ہونے کا نظریہ تو آپ نے پڑھ ہی رکھا ہو گا کہ بس ایک ’’بڑا دھماکہ‘‘ (Big Bang)ہوا اور یہ ساری کائنات وجود میں آ گئی۔) اب اس کے انجام کی ’’فکر‘‘ تھی کہ یہ بھی کسی ’’بڑے دھماکے‘‘ پر منتج ہو گا یا ’کچھ اور‘ دیکھنے کو ملے گا۔۔۔ برسبیل تذکرہ اس کیفیت کو کسی فارسی زبان کے شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے:

شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشودیم

دید پیم کہ باقی ست شبِ فتنہ، غنودیم

[ایک شور برپا ہوا اور ہم نے خواب عدم سے آنکھ کھولی۔۔۔۔ لیکن دیکھا کہ شبِ فتنہ ہنوز باقی ہے، اس لئے دوبارہ سو گئے]

میرا خیال ہے مغرب کے ہزار سائنس دانوں کی مساعی کے بالمقابل اگر اس فارسی شاعر کے استدلال کو دیکھا جائے تو یہ زیادہ قابلِ قبول اور سریع الفہم ہو گا۔۔۔ بتایا جا رہا ہے کہ کئی سال پہلے ساری دنیا سے 200سائنس دانوں کو اکٹھا کرکے ان کو یہ مشن سونپا گیا تھا کہ دریافت کریں کہ کائنات کی انتہا کیا ہے۔

ان کو اتنا یقین تھا کہ اگر ذمین سے اوپر اٹھ کر آسمانوں کا رخ کیا جائے، اپنے نظام شمسی کو عبور کر لیا جائے، کہکشاؤں کے اس پار پہنچ کر دیکھا جائے تو کہیں نہ کہیں تو وہ نقطہ ء اختتام مل ہی جائے گا۔ لیکن ان سائنس دانوں نے یہی دیکھا کہ جہاں تک دور بینی نگاہ جاتی ہے، بس ایک نہ ختم ہونے والا خلا ہے، ایک اندھیرا ہے اور اس اندھیرے میں ایک غار سی ہے جس کو بلیک ہول کا نام دیا جاتا ہے جس میں تمام کے تمام اجزامِ فلکی سما کر نجانے کہاں غائب ہو جاتے ہیں۔۔۔ وہ کہاں چلے جاتے ہیں اس کا کچھ پتہ نہیں:

کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں

کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے

پھر ان سائنس دانوں نے یہ دریافت کرنے کی کوششیں شروع کیں کہ اس بلیک ہول کی کوئی تصویر ہی لے سکیں۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے۔۔۔ اندھیری خلا کی تصویر کیسے دیکھی اور دکھائی جا سکتی تھی؟ پھر انسان نے زمین کے مختلف حصوں میں سات آٹھ پاور فل دور بینوں کو لگایا اور ان کو آپس میں مدغم (سنکرو نائز) کر دیا۔ اس پراجیکٹ کو Event Horizen ٹیلی سکوپ پراجیکٹ کا نام دیا گیا۔

اس ٹیلی سکوپ نے معلوم کیا کہ زمین سے 53نوری سال (Light Year) کی دوری پر، 87کہکشاؤں کے ایک جھرمٹ میں ایک بلیک ہول نظر آ گیا ہے جس کی تصویر کا ذکر اس آرٹیکل کے آغاز میں کیا گیا ہے اور دلیل لائی گئی ہے کہ ایک زرد (نارنجی) رنگ کا تقریباً گول سا دائرہ ہے جس کا مرکزہ سیاہ رنگ کا ہے اور اس نارنجی رنگ کے قریب جو شے بھی جاتی ہے وہ بلیک ہول کی شدید مقناطیسی کشش کے زیر اثر اس غار (Hole) میں کہیں جا کر گم ہو جاتی ہے۔ یہ شے خواہ کوئی نظام شمسی ہو یا کہکشاؤں کا کوئی جھرمٹ ہو، سب کی سب اس ’’غار‘‘ میں غرق ہو جاتی ہیں۔۔۔

دوسرے لفظوں میں انسان نے اپنی زمین سے 53نوری سال آگے اور اوپر جا کر دیکھ لیا ہے کہ اس کی زمین (Earth) سے زیادہ آباد کوئی بھی دوسری دنیا اس کائنات کی وسعت میں موجود نہیں جس میں زندگی کے آثار پائے جائیں۔ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ اس کے منٹ، گھنٹے، دن، ہفتے، مہینے اور سال بنائیں تو شائد کوئی سپر کمپیوٹر بھی اس گنتی کو مشکل ہی سے شمار کر سکے۔ یعنی اس ’بے شمار‘ دوری پر بھی انسان کے پلے کچھ نہیں پڑا۔ نجانے 200سائنس دانوں کے اس طائفے پر کتنا خرچہ اٹھا ہو گا؟

اب یہ سائنس دان ایک بار پھر یہ کہہ رہے کہ اس بلیک ہول کی تصویر نے ایک نیا جہان، ایک نئی کائنات کی وسعتیں کھول کر انسان کے سامنے رکھ دی ہیں کہ جاؤ سراغ لگاؤ کہ اس سوراخ (Hole) کے آگے کیا ہے؟

ان سائنس دانوں سے تو ہماری مرحومہ نانی اماں ہی ہزار درجے عقل مند تھیں جو ہمیں بتایا کرتی تھیں کہ یہ ستارے کیا ہیں اور کہکشائیں کیا ہیں۔۔۔ گرمیوں کے موسم میں ہم لوگ چھتوں پر سویا کرتے تھے۔ پاک پتن میں اس وقت بجلی نہیں ہوتی تھی ۔ سرِشام سارا ماحول اندھیروں میں ڈوب جایا کرتا تھا۔ رات کو چار پائی پر لیٹے لیٹے آسمان پر نگاہیں پڑتی تھیں تو بے شمار ستارے جھلملاتے نظر آتے تھے۔

ان کے بیچوں بیچ ایک سفید دودھیا رنگ کا راستہ سا بنا ہوتا تھا۔ ہمارے پوچھنے پر نانی اماں بتایا کرتی تھیں کہ یہ وہ راستہ ہے جس پر ایک براق کے ذریعے ہمارے نبی اکرمؐ ساتویں آسمان سے آگے اللہ کے پاس پہنچے تھے۔ اسی سفر کو سفرِ معراج کہتے تھے اور جب ستاروں نے سنا تھا کہ محمدؐ آسمان کی طرف تشریف لا رہے ہیں تو وہ ان کے راستے میں آکر اکٹھے ہو گئے تھے۔ یہ کہکشاں جو دودھیا دودھیا سی نظر آتی ہے یہ وہی راستہ ہے جو ہمارے پیغمبرؐ کا روٹ تھا۔

فلک پہ پاؤں دھرے کہکشاں کو جادہ کیا

یہ کس سفر کا نبی پاکؐ نے ارادہ کیا

پھر ہمارے شہروں میں برقی روشنیاں آ گئیں اور ان کا عکس جب رات کو آسماں تک گیا تو راتوں کو ستارے نظر آنا بند ہو گئے۔ آج آسمان کو دیکھیں تو ستارے تو موجود ہوں گے لیکن نظر نہیں آئیں گے۔ ہاں چاند یا ایک آدھ بڑا ستارہ نظر آ جائے گا۔

پھر جب ہم نے فوج جوائن کی تو رن آف کچھ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سینکڑوں میلوں تک پھیلی ہوئی طویل اور تاریک وسعتیں ہیں۔ ایک رات میں ایک کانوائی میں جیپ پر سوار جا رہا تھا تو وہی منظر اوپر آسمان میں تخلیق ہو گیا جو ہمارے بچپن میں چھتوں پر سونے والوں کو نظر آیا کرتا تھا۔ میں نے جیپ روک لی اور تادیر اس منظر کو تکتا رہا۔۔۔ وہی جگمگاتے ستارے،دب اکبر، کیسوپیا، ثریا (جس کو غالب نے ’’بنات النعش گردوں‘‘ کہا ہے) سب کے سب سامنے اور اوپر نظر نواز تھے۔ اور نہ صرف یہ بلکہ اسی گُھپ اندھیری رات میں ان ستاروں کی مدھم سی روشنی زمین پر پڑ رہی تھی۔ میں نے گاڑیوں کی لائٹیں آف کروا دیں تو معلوم ہوا کہ ستاروں کی اس روشنی میں گاڑیوں کو بغیر ہیڈ لائٹس کھولے ڈرائیو کیا جا سکتا ہے۔

عصرِ حاضر کے سائنس دانوں نے بلیک ہول کی تصویر دکھا کر انسانی عجز و نیاز اور اوج و تفوق دونوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ عجز یہ ہے کہ سینکڑوں خلائی سائنس دانوں کی برسوں کی محنت کے بعد بھی یہ معلوم ہوا ہے کہ کائنات کے نقطہ ء اختتام کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔۔۔ یہ انسان کی انتہائے عاجزی ہے اور انتہائی اوج یہ ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہہ رکھا ہے:

راہِ یک گام ہے ہمت کے لئے عرشِ بریں

کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

مزید : رائے /کالم