پنجاب ،بلوچستان میں شدید آندھی ، بارشیں ، کراچی میں تیز گرد آلود ہوائیں، 21افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

پنجاب ،بلوچستان میں شدید آندھی ، بارشیں ، کراچی میں تیز گرد آلود ہوائیں، ...

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان میں بارشوں کے باعث حب، دکی اور نوشکی میں ٹریفک حادثات اور مکانات گرنے سے بچے سمیت 6 افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہوگئے۔دریائے ناڑی،دریائے بولان اور دریائے لہڑی میں نچلے درجے کے سیلابی ریلے گزر رہے ہیں ۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جیوانی میں 90، تربت 39، گوادر 32، پسنی 19، بارکھان اور کوئٹہ 17 جبکہ سبی میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ بارشوں کے باعث اندرون بلوچستان ندی نالوں میں طغیانی آگئی، دریائے بولان میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔کوئٹہ کے علاقے تارو چوک پر سڑک کا بلیک ٹاپ پانی میں بہہ گیا جبکہ ٹرانسپورٹروں کو مشکلات کا سامنا ہے، سیوریج لائنیں ابل پڑیں، گندہ پانی سڑکوں پر آنے سے شہریوں کی پریشانی بڑھ گئی شدید بارشوں کے باعث کوئٹہ میں بجلی کے کئی فیڈر بھی ٹرپ کر گئے اور کئی علاقوں میں 8سے 10گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جس سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حب میں پھسلن اورگردوغبار کے باعث پانچ مسافر کوچز الٹنے سے 3افراد جاں بحق جبکہ پچیس زخمی ہوگئے جبکہ دیگر حادثات میں تین افراد جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوئے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کے پیش نظر حکومت نے بلوچستان بھر میں الرٹ جاری کر دیا۔تمام ڈپٹی کمشنروں کو اور پی ڈٰی ایم اے کو آپس میں رابطے رکھنے کی ہدایت کی ہے، صورتحال سے نمٹنے کے لئے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو بھی کنٹرول فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔شدید بارشوں کے باعث دریائے ناڑی میں مٹھڑی وئیر کے مقام پر 28000کیوسک پانی کانچلے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے دریائے لہڑی میں 6600 اور دریائے بولان میں 3000 کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے جس کی وجہ سے ہائی فلڈ کا امکان ہے ہیوی مشینری لہڑی پروٹیکشن بند پر پہنچا دی گئی ہے ممکنہ فلڈ کے پیش نظر پٹ فیڈر کینال کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر ڈی سی آفس کچھی میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے ہنگامی صورت میں شہری رابطہ کریں انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سیلابی ریلے کے پیش نظر تفریحی مقامات پر پکنک منانے سے گریز کریں۔گوادر میں بارشوں کے بعد آکڑہ اور بیلار ڈیم بھرگئے ہیں جبکہ ڈیموں میں پانی آنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔سیلاب کے باعث ہرنائی کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

بلوچستان بارش

کراچی (آئی این پی ) کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز گرد آلود ہوا ؤ ں کے باعث مختلف واقعات میں 3افرادجاں بحق جبکہ سکول کی چھت گرنے اور مختلف واقعات میں 5طالبعلموں سمیت 20افراد زخمی ہوگئے، فضا میں دھول مٹی کی مقدار معمول سے کئی گنا بڑھ گئی ہے اور حد نگاہ کم ہوگئی ، کئی علاقوں میں بجلی کی تاریں ٹوٹنے سے بجلی کی فراہمی متاثر ہو گئی ۔سمندر میں چلنے والی طوفانی ہواؤں کی وجہ سے 2کشتیاں ڈوب گئیں،3ماہی گیروں کو بچا لیا گیا جبکہ 12ماہی گیر تاحال لا پتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق مغربی ہوا ؤ ں کا سسٹم شہر میں (آج) منگل تک موجود رہے گا ۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں گزشتہ رات سے تیز ہوا ؤ ں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے بجلی کے تار ٹو ٹنے سے کئی علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی جب کہ فون لائن اور انٹر نیٹ سروس بھی متاثر ہے۔فضا میں دھول مٹی کے باعث حد نگاہ کم ہوگئی جس کے باعث پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق پیپلز چورنگی کے قریب درخت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جب کہ ٹیپو سلطان سگنل کے قریب سکول کی چھت گرنے سے 5طالبعلم زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ لانڈھی تین نمبر میں گھر کی دیوار کا حصہ گر گیا جس کے بعد 2 افراد زخمی ہوئے، سرجانی ٹان سیکٹر 7ڈی میں گھر کی چھت کا حصہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔لیاری چاکیوڑا میں مدرسے کی چھت گر گئی جبکہ تیز جھکڑ سے جامع مسجد فش ہاربر کی عارضی چھت اڑ گئی جس سے مذن زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان ہے، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ کل رات گرد و غبار کا طوفان توقع سے زیادہ تھا جس کے دوران ہوائیں 65 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں۔سردار سرفراز کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ہوا ؤ ں کا سسٹم شہر میں موجود ہے جو(آج) شام تک نکل جائے گا تاہم آج بھی ہواں کی رفتار زائد رہے گی۔سمندر میں چلنے والی طوفانی ہواؤں کی وجہ سے 2کشتیاں ڈوب گئیں،3ماہی گیروں کو بچا لیا گیا جبکہ 12ماہی گیر تاحال لا پتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے المناک حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب سمندر میں چلنے والی طوفانی ہواؤں کی وجہ سے ساحلی علاقے گاڑو کے قریب ڈبہ اور چھان کے مقام پر لنگر انداز الجیلانی چھوٹی کشتی نمبر 17176رات 2بجے کے قریب ڈوب گئی۔کشتی میں سوار 11ماہی گیر لاپتہ ہو گئے۔سمندری حدود کی نگرانی کے ذمہ دار ادارے لاپتہ ماہی گیروں کو تلاش کر رہے ہیں۔الجیلانی نامی کشتی میں سوار کشتی کے مالک عزیز شیخ،رفیق ولد عالم،نذیر،حسین ولد منصور،اقبال ولد محمد علی،یحیی ولد حاجی احمد،عبدالستار،ولد قاسم اور جمن ولد امین کے نام معلوم ہوئے ہیں۔جبکہ دوسراحادثہ کورنگی کے قریب واقع سمندری علاقے میں پیش آیا۔جہاں بے رحم تیز طوفانی ہواؤں نے ایک چھوٹی کشتی کو الٹ دیا جس میں 4ماہی گیر سوار تھے،یہ حادثہ بھی اتوار اور پیر کی درمیانی شب رات تقریبا ایک بجے پیش آیا۔اس کشتی میں ناکوا محمد صدیق، بابل، محمد عالم اور نورالاسلام سوار تھے۔تین ماہی گیروں محمد صدیق، بابل اور محمد عالم کو بچا لیا گیا جبکہ نورالاسلام تاحال لاپتہ ہے۔زندہ بچ جانے والے ماہی گیروں نے بتایا کہ جب ان کی کشتی کو طوفانی ہواؤں نے الٹ دیا تو ان تینوں نے کشتی کو پکڑے رکھا اور سمندر کی تیز بے رحم موجوں کا مقابلہ کرتے رہے۔مگر ان کا چوتھا ساتھی نورالاسلام سمندر کی تیز لہروں کا مقابلہ نہ کر سکا۔اور وہ ان سے بچھڑ گیا۔زندہ بچ جانے والے ماہی گیرناکوا محمد صدیق نے بتایا کہ پیر کی صبح تقریبا 9بجے عبداللہ کچھی نامی ماہی گیر کشتی نے وہاں پہنچ کر ان کی جانیں بچائیں۔چیئرمین فشر مینز کو آپر یٹو سوسائٹی عبدالبر نے ان المناک حادثات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش کا کام جاری ہے۔اس المناک حادثے کے موقع پر جہاں ایف سی ایس انتظامیہ دکھی ہے ۔چیئرمین ایف سی ایس نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی لاپتہ ماہی گیروں کے ورثاء کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام ممکنہ سہولیات انہیں پہنچانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔چیئرمین ایف سی ایس عبدالبر نے مزید کہاکہ سمندر میں موجود 273چھوٹی بڑی کشتیوں کو واپس بلا لیا گیا ہے جو کہ کل صبح تک واپس پہنچ جائیں گی۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

کراچی تیزہوائیں

لاہور،رحیم یار خان،فیصل آباد،بہاولپور،لودھراں( کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) لاہور سمیت صوبہ پنجاب میں شدید آندھی اور بارش کے باعث 6 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں طوفانی آندھی اور بارش کے باعث رات کے وقت شادی ہال کی دیوار گرنے سمیت مختلف واقعات میں 2افرا د جاں بحق جبکہ 20سے زائد جاں بحق ہو گئے شہر میں شاد باغ کے علاقہ عامر روڈ پرپرنس مارکی کی دیوار گرنے سے دودرجن کے قریب شادی کی تقریب میں مصروف افراد دیوار کے ملبے تلے دب جانے سے زخمی ہو گئے جنہیں مقامی ہسپتال بھجوا دیا گیا اسی طرح نشاط کالو نی میں چھت گرنے ، کاہنہ میں چھت گرنے ،بلیرڈ کی چھت گرنے اور رائیونڈ میں چھت گرنے کے واقعات میں بھی 20سے زائد افراد ملبے تلے دب جا نے سے زخمی ہوئے جنہیں مقامی ہسپتالوں میں بھجوا دیا گیا جن میں ایک کمسن بچی سمت دو افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہو ئی ہے ۔پرنس مارکی کے مالک کے خلاف مقد مے کے اندراج کی بھی درخواست پولیس نے وصول کر لی ہے ۔ جبکہ لاہور میںآندھی کے باعث لیسکو کے 150سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے ، شہر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ لیسکو حکام کا کہنا ہے فیڈر ٹرپ کرنے سے بجلی کی سپلائی میں عارضی تعطل آیا ہے آندھی کم ہونے پر مرمت کا کام شروع کردیا جائے گا،ادھر خانیوال میں مختلف علاقوں میں گھروں کی چھتیں گر گئیں جس کے باعث چار افراد جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہوگئے۔ریسکیو 1122 نے ابتدائی طبی امداد کے بعد متاثرہ افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا۔پنجاب کے جنوبی اضلاع میں بارشوں اور ژالہ باری شروع ہوگئی۔مغربی ہواں سے بننے والے نظام کے باعث گزشتہ کئی روز سے بلوچستان میں بارشیں برسا رہا ہے جو اب پنجاب میں داخل ہو چکا ہے۔ اس نظام کے باعث پنجاب کے جنوبی اضلاع بہاولپور، لودھراں اور دیگر علاقوں میں بارشیں برس رہی ہیں۔گزشتہ روز شام کے وقت اچانک تیز آندھی شروع ہو گئی جس سے نظام زندگی معطل ہو گیا ۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے کئی مقامات پر تشہیری بورڈ گر گئے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہوا جس سے کئی علاقوں میں بجلی بند ہو گئی۔ محکمہ موسمیات کی طرف سے بتایا گیا ہے لاہور میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بارشیں آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں تک جاری رہیں گی۔ اس دوران تیز ہوائیں بھی چلتی رہیں گی۔ صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں کی طرف سے سفر کرنیوالوں کو بہت محتاط رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ملتان اور گردونواح میں 84 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز آندھی اور پھر موسلا دھار بارش نے ملتان اور گردونواح میں بجلی کے نظام کو شدید متاثر کیا ۔ شدید آندھی اور بارش کے باعث میپکو ریجن میں 115 فیڈرز ٹرپ کر گئے جبکہ بارش کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے 8افراد بھی زخمی ہو گئے جنہیں نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری طرف شدید بارشوں کے باعث آم کے باغات اور گندم کی فصل بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔فیصل آباد میں شام کے وقت 55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز آندھی نے کئی درخت اکھاڑ دیے جبکہ عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ آندھی کے بعد تیز ہواؤں کے ساتح موسلا دھار بارش نے جھل تھل کر دیا۔ گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش سے سٹرکیں پانی سے بھر گئیں جبکہ کئی علاقوں میں فیڈر ٹرپ ہونے سے بجلی غائب ہو گئی۔ادھر فیسکو ریجن کے مختلف اضلاع میں شدید طوفان سے ریجن بھر کے 110 فیڈرز سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

مزید : صفحہ اول