پہلی قومی ادبی نعت کانفرنس

پہلی قومی ادبی نعت کانفرنس
پہلی قومی ادبی نعت کانفرنس

  

نعتیہ شاعری پڑھنے اور سننے والا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جس نے سرور حسین نقش بندی کی یہ نعت نہ سُنی ہو:

حدودِ طائرِ سدرہ، حضورؐ جانتے ہیں

کہاں ہے عرشِ معلیٰ؟ حضورؐ جانتے ہیں

میں اس یقین سے نکلا ہوں حاضری کے لئے

مرے سفر کا ارادہ، حضور جانتے ہیں

بروزِ حشر شفاعت کریں گے چُن چُن کر

ہر اک غلام کا چہرہ، حضورؐ جانتے ہیں

پہنچ کے سدرہ پہ روح الامینؑ کہنے لگے

یہاں سے آگے کا رستہ، حضورؐ جانتے ہیں

خدا نے اس لیے قاسم انھیں بنایا ہے

کہ بانٹنے کا قرینہ، حضورؐ جانتے ہیں

سکھائی بات یہ سرور ہمیں صحابہؓ نے

کہ جانتا ہے خدا، یا حضورؐ جانتے ہیں

21 اپریل 2019ء کو سرور حسین نقش بندی لاہور میں ایک قومی ادبی نعت کانفرنس منعقد کروا رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں نعتیہ مشاعرے اور نعت خوانی کی محافل تو ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن ادبی نعت کانفرنس، میرا خیال ہے

کہ پہلی بار ہو رہی ہے۔ اس کانفرنس میں جہاں ملک بھر کے نعت گو اور نعت خواں شرکت کریں گے وہاں وہ ناقدین اور محقیقین بھی شامل ہوں گے جنہوں نے نعت پر تحقیقی و تنقیدی کام کر رکھا ہے۔

اس کانفرنس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں نعتیہ شاعری کے مجموعوں کی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف نمائش نہیں ہو گی بلکہ نعتیہ شاعری کے شائقین ایک ہی چھت تلے اپنے پسندیدہ شاعروں کی نعتیہ شاعری کے مجموعے خرید بھی سکیں گے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سرور حسین نقش بندی نے اس نعت کانفرنس کو ادبی نعت کانفرنس کا عنوان کیوں دیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے بعض ادبی جریدوں کے مدبرانِ گرامی اپنے جریدوں میں یہ کہہ کر چھاپنے سے انکار کر دیتے تھے کہ اگر آج ہم نے نعت چھاپی تو کل انڈیا کے شاعروں کی طرف سے آنے والے بھجن بھی شاملِ اشاعت کرنا پڑیں گے۔ آج یہ مدیرانِ گرامی اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ بھجن لکھنے والوں کا کہیں نام و نشان نہیں لیکن نعتیہ شاعری کرنے والوں کا ڈنکا ساری دنیا میں بج رہا ہے۔ اب نعت کو ایک باقاعدہ صف کا درجہ حاصل ہے۔

نعتیہ شاعری کسی کے کہنے پر نہیں ہو رہی۔ اندر سے پھوٹ رہی ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ نعت کی صنف اب ایک مکمل تحریک بن چکی ہے اور اس تحریک کا احاطہ کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اس طرح کی کوئی قومی ادبی نعت کانفرنس منعقد ہو جس کا خیال پہلے پہل صرف سرور حسین نقش بندی کے ذہنِ رسا اور دلِ پر نور میں آیا ہے۔ سرور حسین نقش بندی کی خوبی یہ ہے کہ وہ نعت کہتے بھی ہیں اور نہایت خوش الحانی سے پڑھتے بھی ہیں۔ اگلے شعرا میں یہ دونوں اوصاف صرف اور صرف مظفر وارثی میں تھے۔ آج بھی ان کی نعتیں ان کی آواز میں گونجتی ہیں تو دل کے تار ہلا دیتی ہیں سرور حسین نقش بندی حفیظ تائب کے فیض یافتہ ہیں گویا کہا جا سکتا ہے کہ انہیں تائب صاحب کا فیضانِ نظر حاصل ہے۔

سرور حسین نقش بندی دل سے نعت کہتے ہیں اور دل سے پڑھتے ہیں۔ ان کے دل میں عشق نبیؐ یوں موج زن ہے کہ جب نعت گوئی اور نعت خوانی سے بھی ان کی تسلی اور تشفی نہیں ہوئی تو انہوں نے ’’مدحت‘‘ کے نام سے ایک ادبی جریدہ نکال لیا۔ ’’مدحت‘‘ نے نعت کی تحریک کو مزید تیز کر دیا ہے۔ وہ شاعروں سے بار بار رابطہ کرتے ہیں۔ ان سے نعتیں منگواتے ہیں اور اپنے جریدے میں شامل کرتے ہیں۔ اگر سرور حسین نقش بندی چاہیں تو اپنی نعتیں، محفلوں میں ترنم سے پڑھ پڑھ کر دولت جمع کر سکتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ عقیدت کی دولت سے مالا مال ہیں اور اسی عقیدت کی دولت کو بروئے کار لا کر وہ نعت کو تحریک بنانے کی ٹھان چکے ہیں۔ میں چشمِ تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ آنے والے وقت میں وہ نعت گو شاعروں اور نعت خوانوں کے سرخیل ہوں گے۔

یہ چند سطریں لکھ کر میں در اصل اپنی خِفت مٹانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کیونکہ جب 21 اپریل کو پنجاب قرآن اینڈ سیرت انسٹی ٹیوٹ اپر مال لاہور میں یہ پہلی قومی ادبی کانفرنس ہو رہی ہو گی تب میں اسلام آباد میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے دسویں کتاب میلے میں ہوں گا۔ میں اپنے دوست سرور حسین نقش بندی کو اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے اس کامیابی کی مبارک باد دیتا ہوں ویسے بھی جہاں حضورپاکؐ کا ذکر ہو وہاں کوئی ناکامی دیکھ ہی نہیں سکتا۔

آخر میں میری نعت کے شعر بھی پڑھ لیجئے:

ہوتی ہے جہاں مِدحتِ سرکار مسلسل

رہتی ہے وہاں بارشِ انوار مسلسل

اِک دن وہ پہنچ جاتا ہے محبوبؐ کے دَر پر

جَو کرتا رہے عشق کا اظہار مسلسل

حَسّان سے نسبت رہے کچھ مجھ کو بھی ناصر

کہتا رہوں میں نعت کے اشعار مسلسل

مزید : رائے /کالم