قبائلی اضلاع میں عوام اور سیکورٹی اداروں کی مشترکہ قربانیوں سے امن قائم ہو چکا : محمود خان

قبائلی اضلاع میں عوام اور سیکورٹی اداروں کی مشترکہ قربانیوں سے امن قائم ہو ...

مہمند (نمائندہ پاکستان )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے قبائلی ضلع مہمند میں روزگار سکیم اور صحت سہولت کارڈ کا باضابطہ افتتاح کیا ہے۔ روزگار سکیم کے تحت ضلع مہمند کے نوجوانوں اور خواتین کوروزگار کیلئے بلا سود قرضے دیئے جائیں گے ۔ روزگار سکیم کیلئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ رفتہ رفتہ مزید پیسے بھی اس سکیم کیلئے مختص کئے جائیں گے ۔ روزگار سکیم کے تحت غریب اور مسکین خواتین کو بھی خود روزگاری کیلئے قرضے فراہم کئے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صحت انصاف کارڈ سے ضلع مہمند کے تمام عوام کو صحت کی تمام سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے آج قبائلی ضلع مہمند کا مصروف ترین دورہ کیااور قبائلی ضلع مہمند کی تاریخ میں پہلی بار کابینہ اجلاس کا بھی انعقاد کیا گیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی ، وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے قبائلی اضلاع وصوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر ، ایم این اے ساجد مہمند اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ نے گنداؤ سمال ڈیم کا بھی دورہ کیا۔حکام نے وزیراعلیٰ کو گنداؤ سمال ڈیم پر تفصیلی بریفینگ دی ۔ یہ ڈیم 449 ملین روپے کی لاگت سے بنایا جارہا ہے ۔ستمبر 2013 میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد ڈیم پر ترقیاتی کام بند کر دیا گیا تھا ۔ دہشت گردوں کے خلا ف آپریشن کے بعد ڈیم کی تعمیر دوبارہ شروع کی گئی جو کہ جون2019 میں مکمل کی جائے گی ۔ ڈیم کی کل سٹوریج کیسپٹی 810 ایکڑ فٹ ہے ۔ ڈیم کی لمبائی 250 فٹ جبکہ اونچائی 105 فٹ ہے ۔ اس ڈیم کی تکمیل سے 22 ہزار مقامی لوگ مستفید ہو ں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کیپٹن روح اﷲ شہید سپورٹس سٹیڈیم میں جشن بہاراں سپورٹس فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب بھی کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صحت انصاف کارڈ اور انصاف روزگار سکیم حکومت کی طرف سے ضلع مہمند کے عوام کیلئے ایک تحفہ ہے ۔ وزاعظم عمران خان کی ہدایت پر قبائلی اضلاع کی ترقی و خوشحالی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ قبائلی عوام کے ساتھ یہ عہد کرتاہوں کہ ان کے تمام مسائل حل کروں گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی عوام نے بہت عرصے تک مشکلات جھیلی ہیں۔ اب تمام قبائلی اضلاع میں عوام اورسکیورٹی اداروں کی مشترکہ قربانیوں سے امن قائم ہو چکا ہے ۔ یہاں کے نوجوانوں نے اب مستقبل سنبھالنا ہے اور بڑھ چڑ ھ کرملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ یہاں پر دہشت گردی اور بد امنی سے جو علاقائی روزگار کو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کریں گے ۔قبائلی اضلاع کی تیز تر ترقی کیلئے تحریک انصاف کی حکومت اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی ۔ عوامی ترجیحات کے مطابق حکمرانی ہو گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلع مہمند کی تحصیل خویزئی، بیزئی اور حلیم زئی کیلئے پینے کے صاف پانی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے ۔ قبائلی اضلاع میں عوام کی محرومیوں کا بخوبی اندازہ ہے ۔ان تمام محرومیوں کا ازالہ کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ مہمند ڈیم منصوبے میں نوکریوں میں مقامی افراد کو سو فیصد ترجیح دیں گے ۔ ضلع مہمند میں بہت جلد تھری جی اور فورجی انٹرنیٹ سروس کا آغاز کر دیا جائے گا۔ صوبائی حکومت ضلع مہمند میںیونیورسٹی کیمپس کا قیام یقینی بنائے گی ۔ضلع مہمند میں تمام مساجد اور عوامی مقامات کی سولرائزیشن کو بھی جلد یقینی بنائیں گے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پختونوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے صرف سہولیات کی کمی ہے، صوبائی حکومت یہ تمام سہولیات قبائلی اضلاع میں یقینی بنائے گی اور پختونوں کی ترقی کیلئے تمام راستے اختیار کرے گی ۔ ہم نے یہاں پر تعلیم کو عام کرنا ہے ۔ صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ زیادہ تر وقت قبائلی اضلاع کے عوام کے مسائل کے حل پرصرف کیا جائے۔ انہی احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے آج پہلی دفعہ ضلع مہمند میں کابینہ اجلاس منعقد کیا اور مختلف تقریبات میں شرکت یقینی بنائی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ یہاں بار بار آؤں گا اور آپ کے سارے مسائل حل کروں گا۔ وزیراعظم عمران خان بھی بہت جلد ضلع مہمند کا دورہ یقینی بنائیں گے ۔ جشن بہاراں سپورٹس فیسٹیول کے موقع پر کیپٹن روح اﷲ شہید سٹیڈیم میں کھلاڑیوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے روبرو مختلف کرتب بھی دکھائے ۔ وزیراعلیٰ نے جشن بہاراں سپورٹس فیسٹیول میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے مختلف کھلاڑیوں میں ٹرافیاں بھی تقسیم کیں ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس پیر کے روز ضم شدہ قبائلی ضلع مہمند کے صدر مقام غلنئی میں منعقد ہواجس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کی۔صوبائی وزراء اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے علاوہ صوبائی محکموں کے انتظامی سربراہوں نے اجلاس میں شرکت کی۔صوبائی کابینہ اجلاس کے بعدوزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع مہمند میں صوبائی کابینہ اجلاس کا انعقاد تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے قبل کابینہ کا اجلاس ضلع خیبر کے ہیڈ کوارٹر لنڈی کوتل میں منعقد کیا گیا تھا اور آنے والے دنوں میں دیگر قبائلی اضلاع میں بھی کابینہ اجلاس منعقدکئے جائیں گے تاکہ ان علاقوں کی ترقی کو تیز کرنے اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد ملے۔کابینہ اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکاٹکس بل 2019ء کی منظوری دیدی جس کے تحت منشیات اور خصوصاً آئس نشے کی روک تھام کیلئے سخت سزائیں تجویز کی گئیں۔18ویں آئینی ترمیم کے بعد نارکاٹکس کنٹرول کا معاملہ صوبوں کو منتقل کیا گیاتھا مگر اس سلسلے میں صوبے میں ابھی تک قانون سازی نہیں کی گئی تھی اور محکمہ ایکسائز ،ٹیکسیشن اینڈ نارکاٹکس کنٹرول پرانے وفاقی قوانین کے تحت نارکاٹکس کنٹرول کا کام کرتی تھی جو موجودہ وقت کے تناظر میں موثر نہیں تھے اس لئے صوبے کی سطح پر ایک قانون بنانے کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔اس قانونی مسودے میں درج سزاؤں کی تفصیل کے مطابق اگر کسی شخص سے برآمد ہونے والی آئس نشے کی مقدار پچاس گرام تک ہو تو دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔پچاس گرام سے سو گرام تک آئس کیلئے تین سال تک قید اور پچاس ہزار سے لیکر ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوگی جبکہ ایک سو گرام سے لیکر ایک کلو گرام آئس کیلئے سات سال تک قید اور ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔اسی طرح ایک کلو گرام سے زیادہ آئس کیلئے سزائے موت، عمر قید یا چودہ سال تک قید اور پانچ سے دس لاکھ تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ اس قانون کا مقصد دیگر منشیات کے استعمال کے علاوہ خصوصاً تعلیمی اداروں میں آئس کے استعمال کی روک تھام ہے۔ قانون منظور ہونے کے بعد محکمہ ایکسائز میں اس مقصد کیلئے خصوصی نارکاٹکس کنٹرول ونگ قائم کیا جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے جوڈیشل اکیڈمی کے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کے سلسلے میں جوڈیشل اکیڈمی ایکٹ 2012ء میں ترامیم کی بھی منظوری دیدی۔شوکت یوسفزئی اور اجمل وزیر نے بتایا کہ کابینہ کو سابقہ قبائلی علاقوں کی صوبے کے ساتھ انضمام پر اب تک کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیدی گئی اور بتایا گیا کہ ان علاقوں کی انتظامی، مالی، قانونی اور عدالتی انضمام سے متعلق معاملات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں ۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن بنیادی کام مکمل کئے جا چکے ہیں جن میں ضم شدہ اضلاع تک عدالتی نظام کی توسیع اور لیویز /خاصہ دار فورس کی صوبائی پولیس انضمام وغیرہ شامل ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے تعینات کردہ جوڈیشل افسران ملحقہ اضلاع میں بیٹھا کرتے ہیں مگر اگلے دو سے تین ہفتوں کے اندر تمام جوڈیشل افسران اپنے متعلقہ اضلاع میں شفٹ کر دیئے جائیں گے جس کیلئے تمام اقدامات مکمل کر لئے گئے ہیں تاکہ ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کو انہی اضلاع کے اندر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اسی طرح کابینہ نے صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے موجودہ سروس رولز میں ترامیم کی بھی منظوری دیدی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں ہری پور میں قائم ہونے والے بین الاقوامی معیار کے تعلیمی ادارے پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ آف ایپلائیڈ سائنسز اینڈٹیکنالوجی کیلئے بطور ضمنی گرانٹ2000 ملین روپے کی بھی منظوری دیدی۔کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے انضمام کو انتظامی، مالی اور قانونی ہر لحاظ سے مکمل کرنے کیلئے اقدامات تیز کرنے اور ان علاقوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو جلد سے جلد مکمل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی تاکہ ان علاقوں کی محرومیوں کا جلد سے جلد ازالہ کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ نارکاٹکس کنٹرول کے قانون کے عملی نفاذ سے اورسزاؤں پر عمل درآمد سے پہلے لوگوں میں شعور اجاگرکرنے کیلئے روایتی اور غیر روایتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے وسیع پیمانے پر آگہی مہم چلائی جائے۔ ضم شدہ قبائلی ضلع مہمند کے علاقے غلنئی میں منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آئس و دیگر منشیات کی روک تھام کے لئے محکمہ ایکسائز کا تیارد کردہ بل منظور کرلیا گیا جسے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ سیکرٹری و ڈی جی ایکسائز سمیت محکمے کے اعلٰی افسران نے بل پاس ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے محکمے کو مزید فعال بنانے کیلئے سنگ میل قرار دیا ہے۔بل کے تحت آئس کی خریدو فروخت پر زیادہ سے زیادہ دس سال قید، سزائے موت اور 14 سال قید کی سزا ہوگی جبکہ سو گرام آئس پرسات سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔ اسکے علاوہ منشیات بنانے والے، خرید و فروخت میں ملوث لوگوں کو 25 سال قید کی سز ا سنائی جائیگی ۔ بل کے متن کے مطابق منشیات کی خرید و فروخت میں کمائے گئے پیسے اور جائیداد بھی ضبط کیا جائے گا جبکہ منشیات کی روک تھام کے لئے نارکاٹیکس کنٹرول ونگ کا قیام بھی عمل میں لایا جائیگا۔ بل میں منشیات سے متعلق مقدمات کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی جسے منظور کرلیا گیا ہے اور اسی طرح صوبہ بھر میں منشیات کے عادی افراد کی رجسٹریشن سمیت سرکاری خرچہ پر علاج بھی بل کا حصہ ہے۔

مزید : صفحہ اول