اس وقت ملک کی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے: شہرام ترکئی

اس وقت ملک کی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے: شہرام ترکئی

  



صوابی( بیورورپورٹ) صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی معاشی حالات انتہائی خراب ہے اور صرف قرضوں کی مد میں روزانہ کی بنیاد پر پاکستان چھ ارب روپے سے زیادہ سود ادا کر تا ہے ۔اور یہ سب کچھ سابقہ حکمرانوں کی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے ہو رہا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے تورڈھیر تاجر فیڈریشن اور صدر بازار تاجران کی حلف وفاداری تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا جس سے صوبائی معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم خان اور صدر تاجران بابو سلطان اور دیگر نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جب تاجر برادری کاروبار کو فروغ دیتا ہے تب بے روزگاری پر قابو پالیا جاتا ہے اور جب تجارت نہ ہو تو بے روزگاری کا دور دورہ ہو تا ہے اور اسی طرح تاجر برادری ملک کی معیشت کو سپورٹ دے رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ پاکستان معاشی اور مالی لحاظ سے کمزور ہو رہا ہے لیکن اس پر وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ان کی حکومت جلد قابوپا لے گی اور معاشی حالات بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ ملک میں مالی بحرانوں پر قابو پانا اور بے روزگاری کا خاتمہ عمران خان کا نمبر ون ایجنڈا ہے انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے بارے میں شک کی کوئی بات نہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان خود اس پر قابو پانے کے لئے سوچ و فکر کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس پر بھی جلد قابو پالیا جائیگاانہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو ستر سالہ دور کا گند ملا ہے اس کو صاف کرنے میں ضرور وقت لگے گاانہوں نے کہا کہ پاکستان میں پلاسٹک شاپنگ بیگ کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا ہے پلاسٹک کو پاکستان سے ختم کیا جائیگا اور اس کے لئے حکومت نے عملی اقدامات اُٹھائی ہے انہوں نے کہا کہ عوام کی بہتری اور ان کی صحت کے حوالے سے کمپرومائز نہیں کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے ادوار میں لوکل گورنمنٹ میں کافی تقرریاں ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ جہاں سٹاف کی ضرورت ہو وہاں سٹاف مہیا کرینگے انہوں نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی میں نے اپنے دور وزارت صحت میں قائم کی تھی اور اس کا مقصد صوبے میں دو نمبر ادویات ،چپس ، پانی اور دیگر مضر صحت اشیاخوردونوش چیک کرنا ہے حکومت کسی طور عوام کی زندگی اور صحت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی انہوں نے کہا کہ پروفیشنل ٹیکس کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سے بات کرونگا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلا امتیاز سب کا احتساب ہو گا جب حکومت اور میں احتساب کرنے والوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ واویلا مچا کر کہتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ جب حکومت تاجروں کے ساتھ ٹیکسز کے مد میں حساب کتاب کر تی ہے تو سیاستدانوں کے ساتھ کیوں نہیں کرئے گی انہوں نے کہا کہ بائیو میٹرک سسٹم سرکاری ملازمین کی بر وقت حاضری کو یقینی بنانے کے لئے رائج کیا گیا ہے ۔ سرکاری ملازمین تنخواہیں لے کر کام نہیں کر تے جو ملازمین اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دے سکتے وہ اپنی ملازمت چھوڑ دیں کیونکہ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں عوام ہی کے ٹیکس سے ادا کی جا تی ہے#

مزید : صفحہ اول


loading...