تاریک دور ختم، قبائلی اضلاع میں ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے: اجمل وزیر

تاریک دور ختم، قبائلی اضلاع میں ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے: اجمل وزیر

  



پشاور( سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان و مشیر وزیراعلیٰ برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر نے کہا ہے، کہ پاکستان تحریک کی حکومت عوام سے کئے گئے وعدے پورے کر رہی ہے جس کا ثبوت 28 ہزار خاصہ دار و لیویز اہلکاروں کی روزگار مستقلی ہے۔ ضلع مہمند میں صوبائی کابینہ میٹنگ سے پہلے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی ترجمان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ تمام قبائیلی اضلاع کو یکساں سہولیات دی جائیں، تاکہ خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں پر بھی ترقی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ کے میٹنگز قبائیلی اضلاع میں کرانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں پر احساس محرومی ختم ہو، اور یہ میٹنگز دیگر قبائیلی اضلاع میں بھی ہوں گے۔ صوبائی ترجمان نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا، کہ آج وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہیلتھ سہولت کارڈ کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ جس سے باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک سینکڑوں خاندانوں کو معالجے کی سہولت دی جائے گی۔ ضم شدہ اضلاع میں بے روزگاری کے خاتمے کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے نئی روزگار سکیم شروع کرنے کے حوالے سے اجمل وزیر نے بتایا کہ آج مہمند سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا انصاف روزگار سکیم بھی شروع کریں گے، جو ایک نئی تاریخ بن جائے گی۔ جس کی مد میں ہم ایک ارب روپے، اٹھارہ سے پچاس سال تک کے عمر کے بیروزگار افراد کو دیں گے۔ امید ہے اس سے بے روزگاری کی شرح میں خاطرخواہ کمی آئی گی۔ مشیروزیراعلیٰ نے کہا کہ مہمند ڈسٹرکٹ میں واقع گندو ڈیم بھی کابینہ ایجنڈا میں شامل ہے، امید ہے اس کا بھی آج افتتاح ہوگا۔ ضم شدہ اضلاع میں جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے انہوں نے کہا، کہ تمام اضلاع میں بلا تفریق کام جاری ہے، اگر کسی کو کسی بھی پراجیکٹ کے حوالے سے شکایت ہو یا کوئی تجویز ہو تو اس کو کھلے دل سے سنا جائے گا۔ خاصہ دار و لیویز اہلکاروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی مستقلی ایک بہت بڑا چیلنج تھا، لیکن خوش اسلوبی سے صوبائی حکومت نے اس کو حل کیا۔ اور اسی طرح تمام مسائیل کا حل نکالا جائے گا۔ صوبائی ترجمان نے کہا کہ بلاسود قرضہ دینے سے قبائیلی اضلاع میں مقامی روزگار کو فروغ ملے گا۔ کیونکہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ قبائیلی اضلاع میں کسی سے بھی روزگار نہیں چھینا جائے بلکہ یہاں پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں۔قبائیلی اضلاع میں حکومتی مشینری کے بارے ایک سوال کے جواب میں صوبائی ترجمان کا کہنا تھا، کہ قبائیلی اضلاع میں ایف سی آر کا کالا قانون ختم ہو چکا ہے، اور اب خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح قانون لاگو ہے۔ اگر کوئی بھی سرکاری اہلکار اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتے پایا گیا تو ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہوگی۔ اسی حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا، کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق، ضم شدہ اضلاع میں صوبائی حکومت کی خصوصی توجہ سے انتظامی سہولیات آسان بنا رہے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...