سانحہ کوئٹہ کے شہدا، نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی مصلحت کی بھینٹ چڑھ گئے: میاں افتخار

سانحہ کوئٹہ کے شہدا، نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی مصلحت کی بھینٹ چڑھ گئے: میاں ...

  



پبی (نمائندہ پاکستان ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین و مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والا بم دھماکہ دہشت گردی کی بدترین کاروائی تھی اور پختون بلوچ و ہزارہ برادی ایک بار پھر نیشنل ایکشن پلان پر مصلحت کی بھینٹ چڑھ گئی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ ایئر پورٹ پر پارٹی رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، میاں افتخار حسین کراچی سے سید عاقل شاہ اور،داؤد اچکزئی کے ہمراہ کوئٹہ پہنچے جہاں وہ انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالے سے صوبائی کونسل کے اجلاس سے خطاب کریں گے،ایئرپورٹ پر اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی، زمرک خان اچکزئی فاروق خان اور دیگر کثیر تعداد میں رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا، میاں افتخار حسین نے بات چیت کرتے ہوئے گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اے این پی شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، انہوں نے وزیر اعظم اور حکومتی نمائندوں کی بے حسی پر بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سانحے کے بعد علاقے میں ہزارہ برادری کا دھرنا جاری ہے لیکن وزیر اعظم سمیت کسی کو بھی اس حوالے سے نوٹس لینے کی زحمت نہ ہوئی ، انہوں نے کہا کہ عمران نیازی آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود تاحال وزارتوں کے قلمدان تبدیل کرنے میں مصروف ہے،انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی کارروائی کے بعد کیوی وزیر اعظم نے جو کردار ادا کیا پوری دنیا اس کی معترف ہے اور ان کے کردار کی وجہ سے شہداء کے لواحقین کے زخم مندمل کرنے میں مدد ملی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمارے حکمران بے حس ہو چکے ہیں اور پاکستان میں جاری قتل عام پر وزیر اعظم نیازی مسلسل خاموش ہیں ، انہوں نے کہا کہ ان تمام واقعات کا کھوج لگانا ہو گا اور حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں درپیش رکاوٹ پر وضاحت دینی ہو گی،انہوں نے کہا کہ پاکستان پر گرے لسٹ کے بادل نہیں چھٹے اور اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ملک جلد بلیک لسٹ میں چلا جائے گا،انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے حکمران اپنی اس ذمہ داری سے پہلو تہی میں مصروف ہیں جس کا نقصان قوم کو اٹھانا پڑ رہا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو حالات تبدیل ہو سکتے ہیں،کالعدم تنظیموں کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی ،بادی النظر میں ان تنظیموں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت میں موجود وزرا اور دیگر کوئی لوگوں کے کالعدم تنظیموں سے روبط منظر عام پر آ چکے ہیں لیکن ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کوئٹہ دھماکے میں پختون ،بلوچ سمیت ہزارہ برادری کے کئی افراد لقمہ اجل بنے تاہم ہزارہ برادری طویل عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے اور حکومت ان کی دلجوئی کیلئے سامنے آنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ برادری سے قطع نظر انسانیت کی بنیاد پر خون ناحق روکنا حکومت کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...