عالمی کپ اور رمضان المبارک

عالمی کپ اور رمضان المبارک
 عالمی کپ اور رمضان المبارک

  



کرکٹ کی عالمی جنگ اب شروع ہوا چاہتی ہے ۔کرکٹ کی تمام عالمی طاقتوں نے اپنے اپنے گھوڑے کس لیے ہیں۔پی سی بی نے بھی کرکٹ کی اس عالمی جنگ میں شامل ہونے کے لیے سوچ بچار شروع کر دی ہے ۔کہا جاتا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے سر جوڑ لیا ہے اور عالمی کپ میں بہترین کھلاڑیوں کے چناؤ کے لیے حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے ۔اس سلسلے میں سب سے پہلے کھلاڑیوں کی فٹنس کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے ۔حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ ٹیم کیا بنے گی یا ٹیم کیا بن چکی ہے۔

یہ تو اس طرح ہے کہ گورنمنٹ کے کسی محکمے میں ایک آسامی کیلئے ایک فرضی اشتہار اخبارات میں شائع کروادیا جاتا ہے ۔تا کہ لوگ مطمئن رہیں کہ کام میرٹ پر ہو رہا ہے حالانکہ اشتہار دینے سے پہلے تمام آسامیاں مامے ،چاچوں میں تقسیم ہو چکی ہوتی ہیں ۔بورڈ کا دعویٰ ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ کو پاس کیے بغیر ٹیم میں شامل نہ ہو گا۔میں بتاتا ہوں کہ ہماری ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی فٹنس کے عالمی معیار پر پورا نہیں اترتا۔لہذٰا یہ سب دکھاوے کی بات ہے۔سرفراز احمد، فخر زمان،امام الحق،بابر اعظم ،حارث سہیل،محمد حفیظ،شاداب خان اور عماد وسیم اگرچہ فٹ نہیں ہیں اور انہیں گھٹنے کی انجری ایک عرصہ سے لاحق ہے۔

جنید خان ،محمد عامر،حسن علی،شاہین آفریدی،عثمان شنواری،فہیم اشرف،عابد علی یہ وہ ممکنہ کھلاڑی ہیں جو دورہ انگلینڈ کے لیے ٹیم کا حصہ ہو سکتے ہیں اور حصہ ہیں شاید ان میں کوئی ایک آدھ کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہوکیونکہ جیسے کہ رضوان کی پرفارمنس سب کے سامنے ہے۔پھر اگر پاکستان کپ میں کھلاڑیوں کی پرفارمنس کو بھی سلیکشن کا معیار بنایا جائے تو اس میں کئی کھلاڑیوں نے جن میں باؤلرز و بلے باز نے بے حد شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔جن میں ٹاپ سکورر عمر اکمل اور بہترین باؤلر وہاب ریاض شامل ہیں جو کہ ٹیم کی سلیکشن میں اثر انداز ہو سکتے ہیں۔بات یہ ہے کہ ہم کچھ بھی کر لیں ہمارے پاس اب یہی کھلاڑی ہیں جن کو لے کر آپ باند رکلا کھیل سکتے ہیں ۔

لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عالمی کپ رمضان میں ہو رہا ہے ہم دعاؤں سے ایک بار پھر عالمی کپ جیت جائیں گ۔تو یہ بات محض دیوانے کا خواب ہے۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے پاس سنچری بنانے والے تو ایک آدھ موجود ہیں لیکن میچ فنشر کوئی نہیں ہے موجودہ دور میں اس ٹیم میں وہ کھلاڑی شامل ہیں جو محض اپنے لیے پچاس،ساٹھ رنز تو بنا لیتے ہیں لیکن ان میں آخر تک کھیلنے والا یا میچ جیت کر آنے والا کوئی نہیں ۔بابر اعظم کی مثال بھی عظیم ٹنڈولکر جیسی ہی ہے ۔کہ اس نے سنچریوں کے ڈھیر لگا دیے لیکن شاید وہ سنچریاں بھارت کے کام نہ آسکیں۔بابر اعظم کا سانحہ بھی کچھ ایسا ہی ہے وہ سکور تو کرتا ہے لیکن میچ جتوانے کے لیے آخر تک میدان میں نہیں ہوتا ۔

بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ ہم مصباح ،یونس،آفریدی اور رزاق جیسے کھلاڑی تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔پاکستان نے ورلڈ کپ سے پہلے انگلینڈ میں انگلینڈ ہی کے خلاف پانچ ایک روزہ،ایک ٹی ٹوئینٹی ،کاؤنٹیز کے خلاف پریکٹس میچ اور اس کے بعد دو وارم اپ میچ کھیلنے ہیں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ فٹنس کے معیار کو دیکھتے ہوئے ہماری ٹیم اتنے سارے میچ ورلڈ کپ سے قبل کھیلنے کے بعد عالمی کپ کھیلنے کے قابل ہو گی؟ویسے یہ ٹیم دنیا کی وہ ٹیم ہے جس کے لیے قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں ہوتا۔کیونکہ یہ ٹیم ہمالیہ بھی سر کر لیتی ہے اور ایک چھوٹی سی چوٹی بھی عبور نہیں کر سکتی۔

مزید : رائے /کالم


loading...