ملتان سمیت مختلف شہروں میں ، طوفان بارش، ژالہ، بار ی آندھی ، گندم، باغات ، کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان، حادثوں میں متعدد ہلاکتیں بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ، ہنگامی اقدامات

ملتان سمیت مختلف شہروں میں ، طوفان بارش، ژالہ، بار ی آندھی ، گندم، باغات ، ...

  



ملتان ‘ وہاڑی ‘ ڈیرہ ‘ وہوا ‘ منڈی یزمان ‘ راجن پور ‘ باگڑ سرگانہ ‘ ڈاہرانوالہ ‘ چوک سرور شہید ‘ حاصل پور ‘ مخدوم رشید ‘ لیاقت پور ‘ سپیشل رپورٹر ‘ سٹاف رپورٹر ‘ بیورو رپورٹ ‘ سٹی رپورٹر ‘ نمائندگان پاکستان ) ملتان سمیت مضافاتی علاقوں میں طوفان و بادوباراں اور ژالہ باری سے بڑے پیمانے پر تباہی، گندم سمیت دیگر تیار فصلیں باغات تباہ ،درجنوں مویشی ہلاک تناور درخت جڑ سے اکھڑ گئے، گھروں کی چھتیں اڑنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ۔کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ،ژالہ باری نے پلک جھپکتے ہی سب کچھ اجاڑ کررکھ دیا ۔تفصیل کے مطابق ملتان سمیت مضافاتی علاقوں میں گزشتہ سہ پہر4بجکر 59منٹ پر آنے والے طوفان و بادوباراں کے ساتھ ساتھ ژالہ باری نے ملتان کے مضافاتی علاقوں تحصیل شجاعباد ،قصبہ مڑل ،لاڑ ،چک 5فیض،بصیرہ اڈا ،دنیا پور روڈ سکندرآباد فیروز پور ودیگر علاقوں میں تباہی مچا دی طوفان بارش اور ژالہ باری سے گندم کی تیار کھڑی فصل سمیت سبزیات ،باغات ،چارہ جات سمیت دیگر فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ان علاقوں میں درجنوں مویشی ہلاک ہونے کے ساتھ ساتھ تناور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے جبکہ چھتیں اڑنے کے واقعات بھی رونما ہوئے ، اسی طرح شہری علاقوں میں ہر طرف جل تھل ہوگیا ۔اور آندھی سے پبلسٹی بورڈ اور دیواریں گرنے کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں ۔ اس ضمن میں محکمہ موسمیات کے مطابق طوفانی آندھی کی شدت 84کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی جبکہ اس دوران آنے والی بارش 14ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشیں متوقع ہیں ۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں تیز آندھی اور بارش سے بجلی کا تقسیمی و ترسیلی نظام بری طرح سے متاثر ہوا۔ پیر کی دوپہر تیز آندھی اور گرد آلود ہوا?ں کے باعث بہت بڑی تعداد میں فیڈرز بند ہوگئے۔ میپکو حکام کے مطابق 115فیڈرز بند ہوئے۔ آندھی کے بعد بارش نے بجلی کا نظام مزید متاثر کردیا اور ترسیلی نظام جواب دے گیا۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف حصوں میں پیر کی شب تک بجلی صارفین کی بڑی تعداد بجلی سے محروم رہی۔ میپکو نے شدید بارش اور آندھی سے متاثرہ نظام کو بحال کرنے کے لئے تین ترجیحات مقرر کیں۔ فیڈرز کی بحالی‘ ٹرانسفارمرز کی بحالی اور انفرادی شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ ملتان شہر میں کئی ہزار صارفین رات گئے تک بجلی سے محروم رہے۔ ٹرانسفارمر اور میٹرز جلنے اور خراب ہونے کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ میپکو انتظامیہ نے لائن سٹاف کو بارش تھمنے تک لائنوں پر کام کرنے سے روک دیا اور سختی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ میپکو حکام نے جنوبی پنجاب میں متاثرہ نظام کی بحالی کے لئے ایمرجنسی اور الرٹ جاری کیا اور فیلڈ و آپریشنل افسروں کو ہنگامی طورپر ڈیوٹی پر طلب کرلیا۔ میپکو سٹاف رات گئے تک سسٹم کی بحالی کے لئے کوشاں تھا۔ تیز آندھی سے درخت کھمبوں پر گرنے سے بحالی کے کام میں دشواری کا سامنا رہا۔ میپکو ترجمان کے مطابق میپکو ریجن کے مختلف شہروں میں طوفانِ بادوباراں سے بجلی سسٹم کو شدید نقصان پہنچا ۔تیز آندھی اور بارش سے ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے 115سے زائد فیڈرز سے بجلی کی فراہمی معطل ہوئی ۔ شدید آندھی سے میپکو تنصیبات کو نقصان، کئی مقامات پر د رخت اور جہازی سائز ہورڈنگز لائنوں پر گرنے سے کھمبے اور لائنیں ٹوٹ گئیں ۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو انجینئر طاہر محمود نے فیلڈ افسران کو متاثرہ علاقوں کی بجلی بحالی کے لئے اقدامات کرنے کے احکامات جاری کئے اور بارش رُکتے ہی ملتان سمیت دیگر شہروں میں بجلی بحالی کا کام شرو ع کیاگیا ۔ رات گئے تک بیشتر فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی ۔چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو انجینئر طاہر محمود‘ چیف انجینئر محمد عمرلودھی اور اور دیگر اعلیٰ افسران بجلی بحالی کے کاموں کی مسلسل مانیٹرنگ کرتے رہے ۔بے موسمی بارشوں اور آندھیوں سے گندم کی فصل کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے ربیع کی فصل میں 60فی صد سے زیادہ رقبہ پر گندم کاشت کی جاتی ہے جو کسان نا صرف خود سال بھر استعمال کرتے ہیں بلکہ اسے فروخت کر کے زرعی مداخل اور دیگر ضروریات زندگی کو پورا کرتے ہیں گزشتہ چند سالوں سے گندم کی اوسط پیداوار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور حکومت کے عدم تعاون ، مناسب ریٹ کا نہ ہونا،گندم کی فی ایکڑ خریداری میں آئے سال کمی سے کسان بدحالی کا شکار تو پہلے ہی تھا لیکن رواں سال گندم کی فصل کو زرعی ماہرین بہتر قرار دے رہے تھے اور امید کی جا رہی تھی کہ اس سال گزشتہ سالوں کی نسبت پیداوار میں اضافہ ہوگا لیکن گندم کی کٹائی کے عین موقع پر موسم کی تبدیلی ،بارشوں کے ساتھ ساتھ تیز ہواؤں اور آندھیوں سے کسان کی امیدوں پر پانی پھرتا نظر آرہا ہیضلع وہاڑی میں گندم کی کٹائی 10اپریل سے شروع ہونی تھی لیکن بارشوں کی وجہ سے یہ کٹائی 10دن تاخیر کا شکار ہو گئی چند کسانوں نے کٹائی کا آغاز کیا تھا لیکن بارش اور تیز ہواؤں نے ضلع کے مختلف علاقوں میں تیار گندم کو جزوی نقصان پہنچا تھا زرعی ماہرین کے مطابق آندھی سے گندم گرنے سے فی ایکڑ پیدوار 10سے 15 من کم ہو سکتی ہے جس کسانوں کو فی ایکڑ 12سے20 ہزار روپے نقصان ہو سکتا ہے کاشتکاروں چیئرمین یونس بھٹی،چوہدری محمد شاہد،رانا محمد سلیم،چوہدری محمد بشیر نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع وہاڑی کے کاشتکار ربیع کی فصلوں میں گندم کو ترجیح دیتے ہیں لیکن حکومت کی پالیسیوں اور عدم توجہ کے باعث کسانوں کو ہمیشہ ہی نقصان اٹھانا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال محکمہ فوڈ کا ضلع وہاڑی میں گندم خریداری ٹارگٹ 13لاکھ پچاس ہزار بوری تھا جو اس سال کم کر دیا گیاہے موجودہ موسم کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کسان کو دہرا نقصان ہوگا حکومت کسان سے فی ایکڑ20من گندم خرید کرے گی۔جبکہ بچنے والی گندم مڈل مین کسانوں سے اونے پونے داموں خریدے گا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسان دوست پالیسیاں اور زرعی انقلاب لانے کے دعوے کرتی نہیں تھکتی تھی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی پالیسی بھی کسان کش ہی نظر آ رہی ہے حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر گندم کی خریداری کو اوپن کرے اور حالیہ موسم کے باعث کسانوں کے نقصان کا تخمینہ لگا کرفوری ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ کسان کپاس کی فصل بہتر طریقہ سے کاشت کر سکیں۔ڈیرہ غازیخان میں شام کے وقت تیز ہواکیساتھ موسلادھاربارش اور اولے شروع ہوگئے جبکہ بارش کا یہ سلسلہ گزشتہ دو روز سے جاری ہے شہر کی اہم شاہراہیں ندی نالوں کامنظر پیش کرنے لگیں گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچنے کااندیشہ محکمہ موسمیات کی طرف سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر محکمہ انہار نے فلڈ وارننگ جاری کردی دوسری طرف کوہ سلیمان پر مسلسل تین روز سے بارشوں کے پیش نظر ندی نالوں میں طغیانی سے سیلابی صورتحال پیداہونیکااندیشہ ہے۔ادھر محکمہ زراعت کے افسران نے بھی بارشوں کے پیش نظر زمینداروں اور کسانوں کو گندم کی کٹائی سے روک دیا بارشوں میں گندم کی کٹائی نقصان دہ جبکہ نہ کاٹنابہتر ھوگا زراعت آفیسر کی صحافیوں سے گفتگو میں کسانوں کیلئے پیغام ضلع بھرکے مختلف مقامات پر مسلسل چار روز سے جاری بارش سے خشک ٹبے اور چھوٹے ڈیم مکمل طور پر بھرچکے ہیں اور مزید بارشیں گندم کی فصل کے نقصان کے علاوہ سیلابی صورتحال پیدا کرسکتی ہیں۔ڈیرہ غازی خان اور اس کے گردونواح سمینہ عادل پیر شاہ صدر دین کوٹمبارک یارو کھوسہ شادن لنڈ کالا تونسہ بائی پاس چھابری کوٹ ہیبت میں تیز بارش اور ژالہ باری سے کئی ایکڑ فصلوں کو نقصان ہواکسان مختلف قرآنی صورتوں کا ورد کرتے رہے۔ضلع ڈیرہ غازیکان کے طول و عرض میں موسلا دھار بارش،بعض مقامات پر ژالہ باری جبکہ رود کوہی وڈور کا سیلابی پانی ہزاروں ایکڑرقبے پرچنے اور گندم کی تیارفصلوں کو بہا کر لے گیادوپہر بارہ بجے کے بعد شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے رات گئے تک جاری رہا جبکہ ڈیرہ غازیخان شہر میں ہونے والی موسلادھار بارش سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں روئی بازار ،قائد اعظم روڈ،صدر بازار،لیاقت بازار،موبائل مارکیٹ،ریلوے روڈ،کچہری روڈ اور بانی چوک سمیت دیگر علاقے بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئیں جبکہ بارش کے باعث بازاروں اور مارکیٹوں میں گاہک بھی کم نظر آئے شہر سمیت ضلع کے متعدد مقامات پرژالہ باری بھی ہوئی کوہ سلیمان پر مسلسل بارش سے رود کوہیوں میں بھی سیلابی کیفیت ہے روڈ کوہی وڈور کا تیز و تند پانی کوچھہ بندوانی ،باڑہ ،بستی کلیری اور چاہ بڈھے والاسمیت دیگر علاقوں میں ہزاروں ایکڑ رقبہ پر گندم اور چنے کی تیار فصل کو بہہ کر لیا گیا جبکہ کسان منہ دیکھتے رہ گئے بارش کی وجہ سے موسم نے بھی انگڑائی لے لی اور لوگوں ایک مرتبہ پھر گرم کپڑوں کا استعمال شروع کردیا۔وہوا اور نواحی قصبات کوتانی، ڈگر والی، دولت والا، لکھانی، وجن، لتڑا، باجھہ، مٹھوان، ترمن، کھڈ بزدار، کاٹھ گڑھ ، صابو خیل، درکانی، چھتری سمیت دیگر درجنوں قصبات میں شدید بارش اورتیز ہوا نے تباہی مچادی، گذشتہ شب سے وقفہ وقفہ سے بارش برسنے کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے نواحی قصبہ نوراحمد والی کے قریب زرعی زمینوں پر آباد ایک خاندان کا پچاس سالہ شخص غلام یٰسین ہوڑا شدید بارش اور آندھی کے باعث کمرہ کی چھت اوپر آن گرنے کے باعث شدید زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستہ میں ہی دم توڑ گیا جبکہ وہوا کے مغرب میں واقع کوہ سلیمان کے ٹرائبل ایریا میں شدید طوفانی بارشوں کے باعث رودکوہیوں اور برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی آچکی ہے جس کے باعث درجنوں پہاڑی قصبات کا وہوا سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوچکا ہے جبکہ ذرائع مواصلات کا نظام بھی مکمل طور پر مفلوج ہوجانے سے یہاں کے مکینوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے شدید بارشیں برسنے کے باعث علاقہ بھر کی ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی پر کاشتہ گندم اور چنے کی فصل مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گئی ہے جس سے علاقہ بھر میں غذائی قلت پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے علاقہ بھر میں کسانوں اور زمینداروں کی طرف سے بارشیں رکنے کے لیے مساجد میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جارہا ہے مگر بارش کا سلسلہ تاحال رک نہیں سکا جس سے مکینوں میں پریشانی کی لہر دوڑی ہوئی ہے ۔ شہر اور گردونواح میں گزشتہ روز مٹی کے طوفان اور بارش نے جل تھل ایک کردیا تیز اور گرد آلود آندھی کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی جبکہ کئی درخت جڑوں سے اکھڑ گئے طوفان اور بارش کے سبب بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا متعدد فیڈرز ٹرپ کر جانے سے دور دراز علاقوں میں بجلی کی سپلائی منقطع ہوگئی جبکہ زرعی ماہرین کے مطابق طوفان اور بارش گندم کی فصل کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اس سے گندم کی اوسط پیداوار میں کمی آنے کا اندیشہ بھی ہے ۔دن بھر با دلوں کی سورج سے آنکھ مچولی جاری رہی۔شمالا جنوبا چلنے وا لی تیز ہوا ؤں نے موسم ایک بارپھر سرد کر دیا۔ سہ پہر تین بجے اچانک جنوب کی سمت سے اٹھنے والے بھو رے رنگ کے بادلوں نے آسمان کو پوری طرح لپیٹ میں لیا۔جس سے ہے طرف اندھیرا چھا گیا۔ اورگرج۔ چمک کے ساتھ بارش شروع ہو گئی۔ جو بغیر کسی وقفے کے ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔بارش کے ساتھ معمولی ژالہ باری بھی ہوئی۔بادلوں کی کڑک نے ہر طرف خوف پھیلا دیا۔ ادھر چولستان میں بھی دور دور تک بارش کی اطلاعات ملی ہیں۔جس سے ڈہریں اور ٹوبے بھر جانے سے چو لستانیوں میں خو شی کی لہر دوڑگئی ہے۔ راجن پور کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان پر بارش کے نتیجہ میں سیلابی نالے ’’کاہا سلطان ‘‘ میں طغیانی ، تیس ہزار کیوسک گذشتہ روز اور اکیس ہزار کیوسک دوبارہ آنے والے سیلا بی ریلے نے پچادھ کے علاقوں میں تباہی مچادی ، میراں پور ،لنڈی لال گڑھ ،حاجی پور کے مضافات اور نواں شہر کے مواضعات پا نی میں ڈوب گئے ،سینکڑوں ایکڑ رقبہ پر کاشتہ ء فصل گندم سیلاب کی نذر ہوگئی ،ضلعی انتظامیہ نے ملحقہ آبادیوں کوفوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی محکمہ انہار اور نہ ہی انتظا میہ کسی نے سیلاب کی آمد کی پیشگی اطلاع نہیں دی علاقہ مکین میڈیا کے سامنے پھٹ پڑے، اب بھی ہمارا کوئی پُرسان حال نہیں ، دوسری جانب ڈپٹی کمشنر الطاف خان بلوچ نے محکمہ انہار کے آفیسران کے ہمراہ علاقہ پچادھ کادورہ کیااس موقع پرایکسئین جام پور کنسٹریکشن ڈویژن انہار ، ایس ڈی او انہار قاضی فیض الحسن ،ایکسئین انہار لیاقت چوہدری ، ایس این اے عبدالرحمن لاکھا سمیت آفیسران اُن کے ہمراہ تھے۔ باگڑسرگانہ اورگردونواح میں تیزآندھی کیساتھ بارش نشیبی علاقے جل تھل اور بجلی کانظام درہم برہم گزشتہ بارشوں سے پہلے ہی گندم کی فصل متاثرہوئی تھی اب کی بارمزیدمتاثرہونے کاخدشہ ہے آج کی بارش کی وجہ سے گندم کی کٹائی مزیدلیٹ ہوگئی ہے اورہفتہ کے دن کٹائی شروع نہیں ہوسکے گی۔پنجاب بھر کی طرح ڈاہرانوالہ میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہے، مگر سیاستدانوں کی نااہلی اور انتظامیہ کی بدترین کارکردگی کی بدولت پورا شہر ندی نالوں اور کیچڑ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، ہارون آباد اور چشتیاں روڈ پر کئی فٹ جمع ہوا پانی شہریوں کے لیے عذاب بن چکا ہے، تمام سڑکوں پر کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ چڑھا رہے ہیں، دیگر گلیاں اور بازار دلدل میں تبدیل ہوچکے ہیں، ڈاہرانوالہ شہر سے ملحقہ چکوک کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔چوک سرور شہید گردونواح میں گزشتہ ایک ہفتے سے دن میں ایک بار روزانہ ہونے والی بارشوں نے گندم کی کٹائی کو شدید متاثر کیا ہے تھل بیرونی کی گندم جو کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں غلہ منڈی پہنچ جاتی تھی ابھی تک کٹائی نہیں ہوسکی ہے اسی طرح اگر گندم کٹائی کے بعد غلہ منڈی چوک سرور شہید پہنچی بھی ہے تو نمی کی وجہ سے گندم کا نرخ بارہ سو روپے سے گرکر1125روپے ہو گیا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی مزید بارشوں کی توقع ہے جس کی وجہ سے گندم کی تیار فصل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ راجن پور کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان پر بارش کے نتیجہ میں سیلابی نالے ’’کاہا سلطان ‘‘ میں طغیانی ، تیس ہزار کیوسک گذشتہ روز اور اکیس ہزار کیوسک دوبارہ آنے والے سیلا بی ریلے نے پچادھ کے علاقوں میں تباہی مچادی ، میراں پور ،لنڈی لال گڑھ ،حاجی پور کے مضافات اور نواں شہر کے مواضعات پا نی میں ڈوب گئے ،سینکڑوں ایکڑ رقبہ پر کاشتہ ء فصل گندم سیلاب کی نذر ہوگئی ،ضلعی انتظامیہ نے ملحقہ آبادیوں کوفوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی محکمہ انہار اور نہ ہی انتظا میہ کسی نے سیلاب کی آمد کی پیشگی اطلاع نہیں دی علاقہ مکین میڈیا کے سامنے پھٹ پڑے، اب بھی ہمارا کوئی پُرسان حال نہیں ، دوسری جانب ڈپٹی کمشنر الطاف خان بلوچ نے محکمہ انہار کے آفیسران کے ہمراہ علاقہ پچادھ کادورہ کیااس موقع پرایکسئین جام پور کنسٹریکشن ڈویژن انہار ، ایس ڈی او انہار قاضی فیض الحسن ،ایکسئین انہار لیاقت چوہدری ، ایس این اے عبدالرحمن لاکھا سمیت آفیسران اُن کے ہمراہ تھے۔ باگڑسرگانہ اورگردونواح میں تیزآندھی کیساتھ بارش نشیبی علاقے جل تھل اور بجلی کانظام درہم برہم گزشتہ بارشوں سے پہلے ہی گندم کی فصل متاثرہوئی تھی اب کی بارمزیدمتاثرہونے کاخدشہ ہے آج کی بارش کی وجہ سے گندم کی کٹائی مزیدلیٹ ہوگئی ہے اورہفتہ کے دن کٹائی شروع نہیں ہوسکے گی۔پنجاب بھر کی طرح ڈاہرانوالہ میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہے، مگر سیاستدانوں کی نااہلی اور انتظامیہ کی بدترین کارکردگی کی بدولت پورا شہر ندی نالوں اور کیچڑ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، ہارون آباد اور چشتیاں روڈ پر کئی فٹ جمع ہوا پانی شہریوں کے لیے عذاب بن چکا ہے، تمام سڑکوں پر کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ چڑھا رہے ہیں، دیگر گلیاں اور بازار دلدل میں تبدیل ہوچکے ہیں، ڈاہرانوالہ شہر سے ملحقہ چکوک کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔چوک سرور شہید گردونواح میں گزشتہ ایک ہفتے سے دن میں ایک بار روزانہ ہونے والی بارشوں نے گندم کی کٹائی کو شدید متاثر کیا ہے تھل بیرونی کی گندم جو کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں غلہ منڈی پہنچ جاتی تھی ابھی تک کٹائی نہیں ہوسکی ہے اسی طرح اگر گندم کٹائی کے بعد غلہ منڈی چوک سرور شہید پہنچی بھی ہے تو نمی کی وجہ سے گندم کا نرخ بارہ سو روپے سے گرکر1125روپے ہو گیا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی مزید بارشوں کی توقع ہے جس کی وجہ سے گندم کی تیار فصل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔حاصل پورمیں طوفانی بارش کے باعث مختلف حادثات کی اطلاع ملی ہے ‘جالندھر کالونی مسلم کاٹن فیکٹری کی دیوار گرنے سے 3 مزدرو جاں بحق 3 زخمی ہوگئے، چشتیاں روڈ پر طوفان کے باعث درخت کے گرنے سے فیاض نامی شخص موقع پر جاں بحق ہوگیا‘ غریب محلہ میں دیوار گرنے سے 2 خواتین شدید زخمی ہوئیں‘واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو سمیت اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی موقع پر پہنچ گئے، جانبحق اور زخمیوں کو ٹی ایچ کیو منتقل کر دیا، ایک شدید زخمی کو بی وی ایچ منتقل کر دیا گیا ہنگامی صورتحال میں ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذکر دی گئی ۔مخدوم رشید کے گرد و نواح میں شدید بارش کے ساتھ اولے پڑنے سے گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچا جس کی وجہ سے کسانوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔شہر اور گردونواح میں تیز آندھی اور موسلادھار بارش سے جل تھل ایک ہوگیا۔ کئی چکوک میں ژالہ باری بھی ہوئی۔ آج دوپہر اچانک آنے والی تیز آندھی نے متعدد درختوں اور جھونپڑیوں کو اکھاڑدیا۔ جبکہ تیز ہوا کے ساتھ ہونے والی بارش اور ژالہ باری سے گندم کی تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ زرعی ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں سے گندم کی پیدوار میں کمی کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کھڑا ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تیز آندھی اور بارش کے باعث دنیا پور روڈ اڈہ موتی والا کے قریب درخت گر گئے۔ جس کی وجہ سے دنیا پور روڈ بلاک ہو گیا۔اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر درختوں کو مشین سے کاٹ کر ٹریفک کے لیے سڑک کو کھول دیا۔طوفانی بارش چھتیں گرنے سے 4 افراد زخمی ہوگئے،ریسکیو 1122 نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو نشتر ہسپتال منتقل کردیا۔گزشتہ روز تیز بارش کے باعث دنیا پور روڈ اڈہ موتی والا کے قریب مکان اور بھانے کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں گھر میں موجود محمد شفیع ،محمد عرفان اور خاور زخمی ہوگئے،اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے زخمیوں کو ملبے تلے نکالا اور ریسکیو کو اطلاع۔دی ریسکیو 1122 نے اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ملبے تلے سے نکال لیا۔جبکہ دوسری اطلاع مکان کے قریب ہی موجود بھانے کی چھت گرنے کی تھی،جس پر موقع پر پہنچ کر 55 سالہ سخاوت علی کو طبی امداد دی ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بھانے میں موجود مویشی بھی زخمی ہوگئے،جنھیں ،موقع پر طبی امداد دی گئی، جبکہ زخمیوں کو نشتر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

طوفان

طوفانملتان ‘ وہاڑی ‘ ڈیرہ ‘ وہوا ‘ منڈی یزمان ‘ راجن پور ‘ باگڑ سرگانہ ‘ ڈاہرانوالہ ‘ چوک سرور شہید ‘ حاصل پور ‘ مخدوم رشید ‘ لیاقت پور ‘ سپیشل رپورٹر ‘ سٹاف رپورٹر ‘ بیورو رپورٹ ‘ سٹی رپورٹر ‘ نمائندگان پاکستان ) ملتان سمیت مضافاتی علاقوں میں طوفان و بادوباراں اور ژالہ باری سے بڑے پیمانے پر تباہی، گندم سمیت دیگر تیار فصلیں باغات تباہ ،درجنوں مویشی ہلاک تناور درخت جڑ سے اکھڑ گئے، گھروں کی چھتیں اڑنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ۔کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ،ژالہ باری نے پلک جھپکتے ہی سب کچھ اجاڑ کررکھ دیا ۔تفصیل کے مطابق ملتان سمیت مضافاتی علاقوں میں گزشتہ سہ پہر4بجکر 59منٹ پر آنے والے طوفان و بادوباراں کے ساتھ ساتھ ژالہ باری نے ملتان کے مضافاتی علاقوں تحصیل شجاعباد ،قصبہ مڑل ،لاڑ ،چک 5فیض،بصیرہ اڈا ،دنیا پور روڈ سکندرآباد فیروز پور ودیگر علاقوں میں تباہی مچا دی طوفان بارش اور ژالہ باری سے گندم کی تیار کھڑی فصل سمیت سبزیات ،باغات ،چارہ جات سمیت دیگر فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ان علاقوں میں درجنوں مویشی ہلاک ہونے کے ساتھ ساتھ تناور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے جبکہ چھتیں اڑنے کے واقعات بھی رونما ہوئے ، اسی طرح شہری علاقوں میں ہر طرف جل تھل ہوگیا ۔اور آندھی سے پبلسٹی بورڈ اور دیواریں گرنے کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں ۔ اس ضمن میں محکمہ موسمیات کے مطابق طوفانی آندھی کی شدت 84کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی جبکہ اس دوران آنے والی بارش 14ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشیں متوقع ہیں ۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں تیز آندھی اور بارش سے بجلی کا تقسیمی و ترسیلی نظام بری طرح سے متاثر ہوا۔ پیر کی دوپہر تیز آندھی اور گرد آلود ہوا?ں کے باعث بہت بڑی تعداد میں فیڈرز بند ہوگئے۔ میپکو حکام کے مطابق 115فیڈرز بند ہوئے۔ آندھی کے بعد بارش نے بجلی کا نظام مزید متاثر کردیا اور ترسیلی نظام جواب دے گیا۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف حصوں میں پیر کی شب تک بجلی صارفین کی بڑی تعداد بجلی سے محروم رہی۔ میپکو نے شدید بارش اور آندھی سے متاثرہ نظام کو بحال کرنے کے لئے تین ترجیحات مقرر کیں۔ فیڈرز کی بحالی‘ ٹرانسفارمرز کی بحالی اور انفرادی شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ ملتان شہر میں کئی ہزار صارفین رات گئے تک بجلی سے محروم رہے۔ ٹرانسفارمر اور میٹرز جلنے اور خراب ہونے کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ میپکو انتظامیہ نے لائن سٹاف کو بارش تھمنے تک لائنوں پر کام کرنے سے روک دیا اور سختی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ میپکو حکام نے جنوبی پنجاب میں متاثرہ نظام کی بحالی کے لئے ایمرجنسی اور الرٹ جاری کیا اور فیلڈ و آپریشنل افسروں کو ہنگامی طورپر ڈیوٹی پر طلب کرلیا۔ میپکو سٹاف رات گئے تک سسٹم کی بحالی کے لئے کوشاں تھا۔ تیز آندھی سے درخت کھمبوں پر گرنے سے بحالی کے کام میں دشواری کا سامنا رہا۔ میپکو ترجمان کے مطابق میپکو ریجن کے مختلف شہروں میں طوفانِ بادوباراں سے بجلی سسٹم کو شدید نقصان پہنچا ۔تیز آندھی اور بارش سے ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے 115سے زائد فیڈرز سے بجلی کی فراہمی معطل ہوئی ۔ شدید آندھی سے میپکو تنصیبات کو نقصان، کئی مقامات پر د رخت اور جہازی سائز ہورڈنگز لائنوں پر گرنے سے کھمبے اور لائنیں ٹوٹ گئیں ۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو انجینئر طاہر محمود نے فیلڈ افسران کو متاثرہ علاقوں کی بجلی بحالی کے لئے اقدامات کرنے کے احکامات جاری کئے اور بارش رُکتے ہی ملتان سمیت دیگر شہروں میں بجلی بحالی کا کام شرو ع کیاگیا ۔ رات گئے تک بیشتر فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی ۔چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو انجینئر طاہر محمود‘ چیف انجینئر محمد عمرلودھی اور اور دیگر اعلیٰ افسران بجلی بحالی کے کاموں کی مسلسل مانیٹرنگ کرتے رہے ۔بے موسمی بارشوں اور آندھیوں سے گندم کی فصل کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے ربیع کی فصل میں 60فی صد سے زیادہ رقبہ پر گندم کاشت کی جاتی ہے جو کسان نا صرف خود سال بھر استعمال کرتے ہیں بلکہ اسے فروخت کر کے زرعی مداخل اور دیگر ضروریات زندگی کو پورا کرتے ہیں گزشتہ چند سالوں سے گندم کی اوسط پیداوار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور حکومت کے عدم تعاون ، مناسب ریٹ کا نہ ہونا،گندم کی فی ایکڑ خریداری میں آئے سال کمی سے کسان بدحالی کا شکار تو پہلے ہی تھا لیکن رواں سال گندم کی فصل کو زرعی ماہرین بہتر قرار دے رہے تھے اور امید کی جا رہی تھی کہ اس سال گزشتہ سالوں کی نسبت پیداوار میں اضافہ ہوگا لیکن گندم کی کٹائی کے عین موقع پر موسم کی تبدیلی ،بارشوں کے ساتھ ساتھ تیز ہواؤں اور آندھیوں سے کسان کی امیدوں پر پانی پھرتا نظر آرہا ہیضلع وہاڑی میں گندم کی کٹائی 10اپریل سے شروع ہونی تھی لیکن بارشوں کی وجہ سے یہ کٹائی 10دن تاخیر کا شکار ہو گئی چند کسانوں نے کٹائی کا آغاز کیا تھا لیکن بارش اور تیز ہواؤں نے ضلع کے مختلف علاقوں میں تیار گندم کو جزوی نقصان پہنچا تھا زرعی ماہرین کے مطابق آندھی سے گندم گرنے سے فی ایکڑ پیدوار 10سے 15 من کم ہو سکتی ہے جس کسانوں کو فی ایکڑ 12سے20 ہزار روپے نقصان ہو سکتا ہے کاشتکاروں چیئرمین یونس بھٹی،چوہدری محمد شاہد،رانا محمد سلیم،چوہدری محمد بشیر نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع وہاڑی کے کاشتکار ربیع کی فصلوں میں گندم کو ترجیح دیتے ہیں لیکن حکومت کی پالیسیوں اور عدم توجہ کے باعث کسانوں کو ہمیشہ ہی نقصان اٹھانا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال محکمہ فوڈ کا ضلع وہاڑی میں گندم خریداری ٹارگٹ 13لاکھ پچاس ہزار بوری تھا جو اس سال کم کر دیا گیاہے موجودہ موسم کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کسان کو دہرا نقصان ہوگا حکومت کسان سے فی ایکڑ20من گندم خرید کرے گی۔جبکہ بچنے والی گندم مڈل مین کسانوں سے اونے پونے داموں خریدے گا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسان دوست پالیسیاں اور زرعی انقلاب لانے کے دعوے کرتی نہیں تھکتی تھی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی پالیسی بھی کسان کش ہی نظر آ رہی ہے حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر گندم کی خریداری کو اوپن کرے اور حالیہ موسم کے باعث کسانوں کے نقصان کا تخمینہ لگا کرفوری ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ کسان کپاس کی فصل بہتر طریقہ سے کاشت کر سکیں۔ڈیرہ غازیخان میں شام کے وقت تیز ہواکیساتھ موسلادھاربارش اور اولے شروع ہوگئے جبکہ بارش کا یہ سلسلہ گزشتہ دو روز سے جاری ہے شہر کی اہم شاہراہیں ندی نالوں کامنظر پیش کرنے لگیں گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچنے کااندیشہ محکمہ موسمیات کی طرف سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر محکمہ انہار نے فلڈ وارننگ جاری کردی دوسری طرف کوہ سلیمان پر مسلسل تین روز سے بارشوں کے پیش نظر ندی نالوں میں طغیانی سے سیلابی صورتحال پیداہونیکااندیشہ ہے۔ادھر محکمہ زراعت کے افسران نے بھی بارشوں کے پیش نظر زمینداروں اور کسانوں کو گندم کی کٹائی سے روک دیا بارشوں میں گندم کی کٹائی نقصان دہ جبکہ نہ کاٹنابہتر ھوگا زراعت آفیسر کی صحافیوں سے گفتگو میں کسانوں کیلئے پیغام ضلع بھرکے مختلف مقامات پر مسلسل چار روز سے جاری بارش سے خشک ٹبے اور چھوٹے ڈیم مکمل طور پر بھرچکے ہیں اور مزید بارشیں گندم کی فصل کے نقصان کے علاوہ سیلابی صورتحال پیدا کرسکتی ہیں۔ڈیرہ غازی خان اور اس کے گردونواح سمینہ عادل پیر شاہ صدر دین کوٹمبارک یارو کھوسہ شادن لنڈ کالا تونسہ بائی پاس چھابری کوٹ ہیبت میں تیز بارش اور ژالہ باری سے کئی ایکڑ فصلوں کو نقصان ہواکسان مختلف قرآنی صورتوں کا ورد کرتے رہے۔ضلع ڈیرہ غازیکان کے طول و عرض میں موسلا دھار بارش،بعض مقامات پر ژالہ باری جبکہ رود کوہی وڈور کا سیلابی پانی ہزاروں ایکڑرقبے پرچنے اور گندم کی تیارفصلوں کو بہا کر لے گیادوپہر بارہ بجے کے بعد شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے رات گئے تک جاری رہا جبکہ ڈیرہ غازیخان شہر میں ہونے والی موسلادھار بارش سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں روئی بازار ،قائد اعظم روڈ،صدر بازار،لیاقت بازار،موبائل مارکیٹ،ریلوے روڈ،کچہری روڈ اور بانی چوک سمیت دیگر علاقے بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئیں جبکہ بارش کے باعث بازاروں اور مارکیٹوں میں گاہک بھی کم نظر آئے شہر سمیت ضلع کے متعدد مقامات پرژالہ باری بھی ہوئی کوہ سلیمان پر مسلسل بارش سے رود کوہیوں میں بھی سیلابی کیفیت ہے روڈ کوہی وڈور کا تیز و تند پانی کوچھہ بندوانی ،باڑہ ،بستی کلیری اور چاہ بڈھے والاسمیت دیگر علاقوں میں ہزاروں ایکڑ رقبہ پر گندم اور چنے کی تیار فصل کو بہہ کر لیا گیا جبکہ کسان منہ دیکھتے رہ گئے بارش کی وجہ سے موسم نے بھی انگڑائی لے لی اور لوگوں ایک مرتبہ پھر گرم کپڑوں کا استعمال شروع کردیا۔وہوا اور نواحی قصبات کوتانی، ڈگر والی، دولت والا، لکھانی، وجن، لتڑا، باجھہ، مٹھوان، ترمن، کھڈ بزدار، کاٹھ گڑھ ، صابو خیل، درکانی، چھتری سمیت دیگر درجنوں قصبات میں شدید بارش اورتیز ہوا نے تباہی مچادی، گذشتہ شب سے وقفہ وقفہ سے بارش برسنے کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے نواحی قصبہ نوراحمد والی کے قریب زرعی زمینوں پر آباد ایک خاندان کا پچاس سالہ شخص غلام یٰسین ہوڑا شدید بارش اور آندھی کے باعث کمرہ کی چھت اوپر آن گرنے کے باعث شدید زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستہ میں ہی دم توڑ گیا جبکہ وہوا کے مغرب میں واقع کوہ سلیمان کے ٹرائبل ایریا میں شدید طوفانی بارشوں کے باعث رودکوہیوں اور برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی آچکی ہے جس کے باعث درجنوں پہاڑی قصبات کا وہوا سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوچکا ہے جبکہ ذرائع مواصلات کا نظام بھی مکمل طور پر مفلوج ہوجانے سے یہاں کے مکینوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے شدید بارشیں برسنے کے باعث علاقہ بھر کی ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی پر کاشتہ گندم اور چنے کی فصل مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گئی ہے جس سے علاقہ بھر میں غذائی قلت پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے علاقہ بھر میں کسانوں اور زمینداروں کی طرف سے بارشیں رکنے کے لیے مساجد میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جارہا ہے مگر بارش کا سلسلہ تاحال رک نہیں سکا جس سے مکینوں میں پریشانی کی لہر دوڑی ہوئی ہے ۔ شہر اور گردونواح میں گزشتہ روز مٹی کے طوفان اور بارش نے جل تھل ایک کردیا تیز اور گرد آلود آندھی کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی جبکہ کئی درخت جڑوں سے اکھڑ گئے طوفان اور بارش کے سبب بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا متعدد فیڈرز ٹرپ کر جانے سے دور دراز علاقوں میں بجلی کی سپلائی منقطع ہوگئی جبکہ زرعی ماہرین کے مطابق طوفان اور بارش گندم کی فصل کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اس سے گندم کی اوسط پیداوار میں کمی آنے کا اندیشہ بھی ہے ۔دن بھر با دلوں کی سورج سے آنکھ مچولی جاری رہی۔شمالا جنوبا چلنے وا لی تیز ہوا ؤں نے موسم ایک بارپھر سرد کر دیا۔ سہ پہر تین بجے اچانک جنوب کی سمت سے اٹھنے والے بھو رے رنگ کے بادلوں نے آسمان کو پوری طرح لپیٹ میں لیا۔جس سے ہے طرف اندھیرا چھا گیا۔ اورگرج۔ چمک کے ساتھ بارش شروع ہو گئی۔ جو بغیر کسی وقفے کے ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔بارش کے ساتھ معمولی ژالہ باری بھی ہوئی۔بادلوں کی کڑک نے ہر طرف خوف پھیلا دیا۔ ادھر چولستان میں بھی دور دور تک بارش کی اطلاعات ملی ہیں۔جس سے ڈہریں اور ٹوبے بھر جانے سے چو لستانیوں میں خو شی کی لہر دوڑگئی ہے۔ راجن پور کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان پر بارش کے نتیجہ میں سیلابی نالے ’’کاہا سلطان ‘‘ میں طغیانی ، تیس ہزار کیوسک گذشتہ روز اور اکیس ہزار کیوسک دوبارہ آنے والے سیلا بی ریلے نے پچادھ کے علاقوں میں تباہی مچادی ، میراں پور ،لنڈی لال گڑھ ،حاجی پور کے مضافات اور نواں شہر کے مواضعات پا نی میں ڈوب گئے ،سینکڑوں ایکڑ رقبہ پر کاشتہ ء فصل گندم سیلاب کی نذر ہوگئی ،ضلعی انتظامیہ نے ملحقہ آبادیوں کوفوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی محکمہ انہار اور نہ ہی انتظا میہ کسی نے سیلاب کی آمد کی پیشگی اطلاع نہیں دی علاقہ مکین میڈیا کے سامنے پھٹ پڑے، اب بھی ہمارا کوئی پُرسان حال نہیں ، دوسری جانب ڈپٹی کمشنر الطاف خان بلوچ نے محکمہ انہار کے آفیسران کے ہمراہ علاقہ پچادھ کادورہ کیااس موقع پرایکسئین جام پور کنسٹریکشن ڈویژن انہار ، ایس ڈی او انہار قاضی فیض الحسن ،ایکسئین انہار لیاقت چوہدری ، ایس این اے عبدالرحمن لاکھا سمیت آفیسران اُن کے ہمراہ تھے۔ باگڑسرگانہ اورگردونواح میں تیزآندھی کیساتھ بارش نشیبی علاقے جل تھل اور بجلی کانظام درہم برہم گزشتہ بارشوں سے پہلے ہی گندم کی فصل متاثرہوئی تھی اب کی بارمزیدمتاثرہونے کاخدشہ ہے آج کی بارش کی وجہ سے گندم کی کٹائی مزیدلیٹ ہوگئی ہے اورہفتہ کے دن کٹائی شروع نہیں ہوسکے گی۔پنجاب بھر کی طرح ڈاہرانوالہ میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہے، مگر سیاستدانوں کی نااہلی اور انتظامیہ کی بدترین کارکردگی کی بدولت پورا شہر ندی نالوں اور کیچڑ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، ہارون آباد اور چشتیاں روڈ پر کئی فٹ جمع ہوا پانی شہریوں کے لیے عذاب بن چکا ہے، تمام سڑکوں پر کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ چڑھا رہے ہیں، دیگر گلیاں اور بازار دلدل میں تبدیل ہوچکے ہیں، ڈاہرانوالہ شہر سے ملحقہ چکوک کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔چوک سرور شہید گردونواح میں گزشتہ ایک ہفتے سے دن میں ایک بار روزانہ ہونے والی بارشوں نے گندم کی کٹائی کو شدید متاثر کیا ہے تھل بیرونی کی گندم جو کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں غلہ منڈی پہنچ جاتی تھی ابھی تک کٹائی نہیں ہوسکی ہے اسی طرح اگر گندم کٹائی کے بعد غلہ منڈی چوک سرور شہید پہنچی بھی ہے تو نمی کی وجہ سے گندم کا نرخ بارہ سو روپے سے گرکر1125روپے ہو گیا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی مزید بارشوں کی توقع ہے جس کی وجہ سے گندم کی تیار فصل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ راجن پور کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان پر بارش کے نتیجہ میں سیلابی نالے ’’کاہا سلطان ‘‘ میں طغیانی ، تیس ہزار کیوسک گذشتہ روز اور اکیس ہزار کیوسک دوبارہ آنے والے سیلا بی ریلے نے پچادھ کے علاقوں میں تباہی مچادی ، میراں پور ،لنڈی لال گڑھ ،حاجی پور کے مضافات اور نواں شہر کے مواضعات پا نی میں ڈوب گئے ،سینکڑوں ایکڑ رقبہ پر کاشتہ ء فصل گندم سیلاب کی نذر ہوگئی ،ضلعی انتظامیہ نے ملحقہ آبادیوں کوفوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی محکمہ انہار اور نہ ہی انتظا میہ کسی نے سیلاب کی آمد کی پیشگی اطلاع نہیں دی علاقہ مکین میڈیا کے سامنے پھٹ پڑے، اب بھی ہمارا کوئی پُرسان حال نہیں ، دوسری جانب ڈپٹی کمشنر الطاف خان بلوچ نے محکمہ انہار کے آفیسران کے ہمراہ علاقہ پچادھ کادورہ کیااس موقع پرایکسئین جام پور کنسٹریکشن ڈویژن انہار ، ایس ڈی او انہار قاضی فیض الحسن ،ایکسئین انہار لیاقت چوہدری ، ایس این اے عبدالرحمن لاکھا سمیت آفیسران اُن کے ہمراہ تھے۔ باگڑسرگانہ اورگردونواح میں تیزآندھی کیساتھ بارش نشیبی علاقے جل تھل اور بجلی کانظام درہم برہم گزشتہ بارشوں سے پہلے ہی گندم کی فصل متاثرہوئی تھی اب کی بارمزیدمتاثرہونے کاخدشہ ہے آج کی بارش کی وجہ سے گندم کی کٹائی مزیدلیٹ ہوگئی ہے اورہفتہ کے دن کٹائی شروع نہیں ہوسکے گی۔پنجاب بھر کی طرح ڈاہرانوالہ میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہے، مگر سیاستدانوں کی نااہلی اور انتظامیہ کی بدترین کارکردگی کی بدولت پورا شہر ندی نالوں اور کیچڑ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، ہارون آباد اور چشتیاں روڈ پر کئی فٹ جمع ہوا پانی شہریوں کے لیے عذاب بن چکا ہے، تمام سڑکوں پر کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ چڑھا رہے ہیں، دیگر گلیاں اور بازار دلدل میں تبدیل ہوچکے ہیں، ڈاہرانوالہ شہر سے ملحقہ چکوک کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔چوک سرور شہید گردونواح میں گزشتہ ایک ہفتے سے دن میں ایک بار روزانہ ہونے والی بارشوں نے گندم کی کٹائی کو شدید متاثر کیا ہے تھل بیرونی کی گندم جو کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں غلہ منڈی پہنچ جاتی تھی ابھی تک کٹائی نہیں ہوسکی ہے اسی طرح اگر گندم کٹائی کے بعد غلہ منڈی چوک سرور شہید پہنچی بھی ہے تو نمی کی وجہ سے گندم کا نرخ بارہ سو روپے سے گرکر1125روپے ہو گیا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق ابھی مزید بارشوں کی توقع ہے جس کی وجہ سے گندم کی تیار فصل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔حاصل پورمیں طوفانی بارش کے باعث مختلف حادثات کی اطلاع ملی ہے ‘جالندھر کالونی مسلم کاٹن فیکٹری کی دیوار گرنے سے 3 مزدرو جاں بحق 3 زخمی ہوگئے، چشتیاں روڈ پر طوفان کے باعث درخت کے گرنے سے فیاض نامی شخص موقع پر جاں بحق ہوگیا‘ غریب محلہ میں دیوار گرنے سے 2 خواتین شدید زخمی ہوئیں‘واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو سمیت اسسٹنٹ کمشنر اور ڈی ایس پی موقع پر پہنچ گئے، جانبحق اور زخمیوں کو ٹی ایچ کیو منتقل کر دیا، ایک شدید زخمی کو بی وی ایچ منتقل کر دیا گیا ہنگامی صورتحال میں ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذکر دی گئی ۔مخدوم رشید کے گرد و نواح میں شدید بارش کے ساتھ اولے پڑنے سے گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچا جس کی وجہ سے کسانوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔شہر اور گردونواح میں تیز آندھی اور موسلادھار بارش سے جل تھل ایک ہوگیا۔ کئی چکوک میں ژالہ باری بھی ہوئی۔ آج دوپہر اچانک آنے والی تیز آندھی نے متعدد درختوں اور جھونپڑیوں کو اکھاڑدیا۔ جبکہ تیز ہوا کے ساتھ ہونے والی بارش اور ژالہ باری سے گندم کی تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ زرعی ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں سے گندم کی پیدوار میں کمی کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کھڑا ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تیز آندھی اور بارش کے باعث دنیا پور روڈ اڈہ موتی والا کے قریب درخت گر گئے۔ جس کی وجہ سے دنیا پور روڈ بلاک ہو گیا۔اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر درختوں کو مشین سے کاٹ کر ٹریفک کے لیے سڑک کو کھول دیا۔طوفانی بارش چھتیں گرنے سے 4 افراد زخمی ہوگئے،ریسکیو 1122 نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو نشتر ہسپتال منتقل کردیا۔گزشتہ روز تیز بارش کے باعث دنیا پور روڈ اڈہ مو13

مزید : صفحہ اول


loading...