اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 123

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 123
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 123

  

مولانا فخر الدین مروزیؒ کلام اللہ کے حافظ تھے۔ آپ نے ایک مرتبہ حضرت شیخ نظام الدینؒ اولیا کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے سخت پیاس لگی تھی اور میرے پاس کوئی شخص موجود نہیں تھا جس سے پانی طلب کرتا۔ ایک کوزہ پانی سے بھرا ہوا غائب سے ظاہر ہوا، میں نے اس کوزہ کو توڑ ڈالا اور پانی بہہ گیا۔ میں نے کہا کہمیں کرامت کا پانی نہیں پیوں گا۔ 

حضرت شیخؒ نے فرمایا کہ اس کو پی لینا چاہیے تھا ایسا ہوجاتا ہے۔

چنانچہ ایک مرتبہ مولاناؒ کو کنگھی کرنے کی ضرورت ہوئی مگر ان کے پاس کوئی شخص نہیں تھا جو کنگھی لاتا۔ اتنے میں دیوار پھٹ گئی اور اس میں سے ایک کنگھی نمودار ہوئی جس کو وہ استعمال میں لے آئے۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 122 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت غازی شیخ جلال الدین مجرد سہروردیؒ سلہٹی کی تعلیم و تربیت کی تکمیل کے بعد حضرت سید احمد کبیرؒ سہروردی نے آپ کو اسلام کی تبلیغ کی خاطر ساری دنیا کی خاک چھاننے کی ہدایت کی۔ رخصت کرتے ہوئے ایک مٹھی بھر مٹی آپ کو دے کر نصیحت فرمائی کہ ’’جس جگہ کی خاک کا رنگ، مزہ اور خوشبو اس مٹھی بھرخاک سے مل جائے اس کو اپنا مستقل مسکن بنالیں۔‘‘

چنانچہ آپ اپنے درجن بھر مریدوں کے ہمراہ مکہ معظمہ سے روانہ ہوکر یمن پہنچے۔ ایک مرید کے ذمے یہ فرض تھا کہ وہ ہر جگہ کی خاک کا اس مٹھی بھر خاک سے موازنہ کرتا رہے۔ جب حاکم یمن کو آپ کو روحانی شہرت کا علم ہوا تو اس نے آپ کو معلومات کی دعوت دی اور اس دعوت میں اس نے آپ کے روحانی مقام کا امتحان لینا چاہا۔ 

اس عرض سے اس نے شربت میں زہر ملا کر آپ کو پیش کیا۔ حضرت جلالؒ کو اس کے فاسد ارادے کا علم ہوگیا۔ آپ نے بغیر کسی تامل کے زہر ملا شربت یہ کہہ کر نوش فرمالیا کہ جو کوئی دوسرے کے بارے میں جس طرح سوچتا ہے ویسا ہی پاتا ہے۔ آپ کو تو کچھ نہ ہوا البتہ حاکم یمن مرگیا۔ یہ دیکھ کر اس حاکم کے بیٹے نے سب کچھ ٹھکرا کر درویشی اختیاسر کرلی۔ آپ جب سلہٹ پہنچے تو وہاں کی مٹی سے ان کی لائی ہوئی مٹی مل گئی چنانچہ آپ نے مستقل طور پر سلہٹ ہی میں رہائش اختیار کرلی۔

***

حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کے عہد میں لاہور کا ایک منچلا ہندو نوجوان سیر و تفریح کی غرض سے شرقپور آیا اور ادھر اُدھر گھومتا پھرتا خانقاہ شریف بھی جا پہنچا۔ حضرت میاں صاحبؒ اتفاق سے باہر ہی کھڑے تھے۔

ہندو نوجوان نے ازراہ مذاق پوچھا ’’بابا جی ! تمہارا خدا کہاں رہتا ہے؟‘‘

حضرت میاں صاحبؒ نے آگے بڑھ کر اس کے دل کی جگہ انگلی رکھ دی اور فرمایا ’’یہاں رہتا ہے۔‘‘

ہندو نوجوان چیخ مار کر گر پڑا اور تڑپنے لگا۔ پھر ہوش میں آتے ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔

***

ایک روز حضرت خواجہ نصیر الدین محمودؒ چراغ دہلوی نے مولانا حمیدؒ سے فرمایا ’’ہم تجھے قلندر کہیں یا صوفی۔ قلندر کس طرح کہہ سکتے ہیں کیونکہ تم ایک طالب علم ہو۔‘‘

مولانا حمیدؒ نے عرض کیا ’’ایک مرتبہ شیخ نظام الدین اولیاءؒ کے ہاں دستر خوان بچھا ہوا تھا اور شیخ نے روزہ افطار کیا۔ کھانے کے دوران میں ایک روٹی کے دو حصے ہوگئے۔ انہوں نے ایک ٹکڑا اپنے پاس رکھ لیا۔ دوسرا بندے کے سامنے رکھ دیا۔ بندہ نے اس کو اٹھا کر آستین میں رکھ لیا۔ جب میں شیخ کی خدمت سے اٹھ کر باہر آیا تو مجھے قلندروں نے آگھیرا اور کہنے لگے کہ شیخ زادہ! ہمیں کچھ دو۔ میں نے کہا میرے پاس کی اہے۔ قلندروں نے کشف سے کہا ’’آدھی روٹی جو تم نے شیخ سے لی ہے ہمیں دے دو۔‘‘

میں بچہ تھا حیران رہ گیا کہ ان کو کیسے معلوم ہوا۔ جبکہ ان میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا۔ مجبوراً میں نے وہ نصف روٹی آستین سے باہر نکالی اور ان کے حوالے کردی۔ قندر وہیں مسجد کیلو کھڑی کے نزدیک ایک گھر کی دہلیز میں بیٹھ گئے اور اس آدھی روٹی کے ٹکڑے کرکے سب نے کھالیے۔

اسی اثنا میں بندہ کے والد بزرگوار شیخؒ کی خدمت سے باہر آئے اور انہوں نے مجب سے اسی روٹی کے بارے میں پوچھا۔ میں نے جواب میں کہا کہ وہ روٹی میں نے قلندروں کو دے دی ہے۔ والد بزرگوار نے غصہ کی نگاہ سے دیکھا اور افسوس سے کہا کہ ان کو کیوں دی تو وہ نعمت تھی۔

اسی پریشانی میں شیخؒ کی خدمت میں واپس گئے۔ شیخؒ کو حقیقت حال معلوم ہوگئی اور اس معاملے کا ذکر کرکے فرمایا ’’مولانا تاج الدین! خاطر جمع رکھو۔ یہ لڑکا قلندر ہوگا۔‘‘

یہ سن کر والد بزرگوار کے دل کو سکون آیا۔ اب چونکہ شیخؒ نے مجھے قلندر کہا تھا، مخدوم بھی قلندر کہتے ہیں۔‘‘

حضرت خواجہ نصیر الدینؒ چراغ دہلوی نے یہ حکایت سنی تو فرمایا ’’تم حضرت شیخ کے مرید ہو۔ مجھے معلوم نہیں تھا، آؤ گلے مل جاؤ۔‘‘ اس پر مولانا حمیدؒ قلندر نزدیک گئے اور خواجہ نے شفققت سے گلے لگالیا۔

***

جن دنوں حضرت مال دینارؒ بصرہ اقامت گزیں تھے ان دنوں بصرہ میں آگ لگ گئی۔ جو لوگ اپنے مال کو سمیٹنے لگے وہ آگ میں جل گئے او ربعض مال کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہ بچ گئے۔

حضرت مالک دینارؒ کے پاس ایک لاٹھی اور ایک چادر تھی آپ نے ان کو اٹھالیا ور کہا ’’جن کے پاس تھوڑا سامان تھا وہ نجات پاگئے اور جن کے پاس بہت تھا وہ ہلاک ہوئے۔‘‘

غیب سے آواز آئی ’’اے مالکؒ ! قیامت میں بھی یہی حال ہوگا۔‘‘(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 124 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے