وزیر اعلیٰ ،وزیراعلیٰ ہوتا ہے

وزیر اعلیٰ ،وزیراعلیٰ ہوتا ہے
وزیر اعلیٰ ،وزیراعلیٰ ہوتا ہے

  

پنجاب کو اگر ایک شریف النفس وزیر اعلیٰ مل گیا ہے تو اسے آرام سے حکومت کرنے دیں مگر ہر کوئی ان کے پیچھے پڑا ہے ۔ پنجاب اسمبلی نے انہیں اپنا قائد ایوان بنایا ہے مگر روزانہ ان کے اختیارات اور انتظامی معاملات چلانے کے حوالے سے بے پر کی اڑائی جا رہی ہیں۔گزشتہ روز جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان کا ایک معاون خصوصی ان کے اختیارات استعمال کر رہا ہے تو انہیں یہ کہنا ہی پڑا کہ،، دوسرے لوگ ان کے اختیارات جتنے مرضی استعمال کر لیں مگر وزیر اعلیٰ وزیر اعلیٰ ہی ہوتا ہے،،۔بلوچستان کے ایک سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی سے جب بار بار ان کی تعلیمی ڈگری کے اصلی یا جعلی ہونے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا تھا کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی ۔

پنجاب کے ایک مرحوم وزیر اعلیٰ سردار عارف نکئی بڑی مرنجاں مرنج شخصیت تھے،پیار ، محبت اور شفقت کرنے والے ۔وہ ارکان اسمبلی سمیت ہم سب صحافیوں سے بہت پیار کرتے تھے۔سب انہیں پیار سے بابا اور چاچا کہتے تھے،وہ واحد وزیر اعلیٰ تھے جن سے انکی کابینہ کے وزیر اور ارکان اسمبلی چھوٹے ہونے کے ناطے عیدی بھی لے لیا کرتے تھے ۔سردار صا حب کا تعلق جونیجو لیگ سے تھا جسکی پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت تھی ، گو سردار صاحب وزیر اعلیٰ تھے مگر اہم محکمے پیپلز پارٹی کے پاس اور غیر اہم محکمے جونیجو لیگ کے وزرا کے پاس تھے ۔سردار نکئی کی کابینہ میں جونیجو لیگ کے ایک وزیر ،چودھری فرخ جاوید گھمن تھے جن کے پاس لائیو سٹاک کا محکمہ تھا اور وہ سردار صاحب کے عزیز بھی تھے۔وہ اکثر بیشتر سردار صاحب سے کہتے تھے کہ وزارت اعلیٰ کا مزہ نہیں آ رہا اہم محکمے جن میں ہوم اور ایس اینڈ جی اے ڈی ہے وہ پیپلز پارٹی کے پاس ہیں۔ پولیس اور اعلیٰ افسروں کے تبادلے بھی پیپلز پارٹی کرتی ہے۔ایک دن اختیارات کی یہ باتیں سن کر سردار نکئی تنگ آ گئے تو انہوں نے ذرا سخت لہجے میں فرخ گھمن سے کہا سب اختیارات میرے پاس ہیں ،بتاو کیا کام کرانا ہے ۔فرخ گھمن اس پر بھی مطمعن ہونے کی بجائے اختیارات کا رونا روتے رہے تو سردار نکئی نے اسے غصے سے سمجھاتے ہوئے کہا وہ دن بھول گئے ہو جب تم سر شام دوستوں کی محفل اور کافی پینے کےلئے جگہ ڈھونڈتے تھے آج وزیر اعلیٰ ہاوس میں وزیر اعلیٰ اور باقی دوستوں کے ساتھ بیٹھے کافی پی رہے ہو ۔

اکثر لوگوں کو یہ ہضم نہیں ہو رہا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کو جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقہ سے اٹھا کر تخت لاہور پر کیوں بٹھا دیا گیا،روائتی سیاسی گھرانوں نے اس فیصلہ کی بہت مخالفت کی،تحریک انصاف کے اندر سے بھی مخالفت کی ایک لہر اٹھی مگرچئیرمین تحریک انصاف نے اس کی پرواہ نہیں کی،اور عثمان بزدار کو ہر طرح سے حمائت اور سہولت فراہم کی،اس بات سے انکار نہیں کہ عثمان بزدار بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں،مگر ان تمام صفات کے باوجود اتنے بڑے صوبے کو چلانے کیلئے جن انتظامی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ انہیں ابھی حاصل نہیں، وہ آہستہ آہستہ انہیں بہتر بنا رہے ہیں ، جس کیوجہ سے مخالفین کو بغلیں بجانے کا موقع مل رہا ہے۔

تحریک انصاف نے انتخابی مہم میں جو وعدے عوام سے کئے تھے ان پرسب سے زیادہ پنجاب میں عملدرآمد کی ضرورت تھی مگر بڑے صوبہ میں سستے گھروں اور ملازمتوں کے مواقع کے منصوبوں پر حقیقی پیش رفت نہ ہو سکی۔وزیر اعظم عمران خان لاہور آتے ہیں تو ان منصوبوں پر مشاور ت ہوتی ہے اور پھر بس،پنجاب میں سرکاری ہسپتالوں،تعلیمی اداروں کی صورتحال بھی قابل تعریف نہیں بلکہ ماضی سے بد تر ہو چکی ہے،عوامی رابطہ کے دفاتر میں بھی حالات ابتر ہیں،رشوت کا چلن عام ہے،صو رتحال کو درست سمت لانے پر حکومت کی زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ، لگتا ہے پنجاب کے عوام لاوارث ہیں کوئی پرسان حال نہیں،مہنگائی کا جن بے قابوہے،متعلقہ ادارے غیر فعال ہیں ،منافع خوروں کولگام ڈالنے کاکوئی منصوبہ دکھائی نہیں دیتا،عوام مہنگائی کی چکی میں بے دریغ پس رہے ہیں،پرائس کنٹرول اتھارٹی کا وجود دکھائی نہیں دیتا۔اسی طرح بلدیاتی ادارے غیرفعال ہیں جس کی وجہ سے مزید خرابیاں جنم لے رہی ہیں، نا اہلی نہیں نا تجربہ کاری کی وجہ سے بعض اوقات وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

موازنہ کیاجائے تو پنجاب میں درخشاں دور چودھری پرویز الہٰی کا تھا بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے ایسے اقدامات کئے ایسے منصوبے بنائے جن کی نظیر نہیں ملتی، چودھری پرویز الہٰی ایک فعال اور متحرک وزیر اعلیٰ تھے،ان کی توجہ صرف اپنے آبائی ضلع گجرات پر نہیں تھی پورے پنجاب پران کی نگاہ تھی،تعلیم،صحت،امن و امان،مہنگائی،سرکاری دفاتر کی کارکردگی پربھی انکی نگاہ تھی خاص طور پر محکمہ پولیس کی عوام سے زیادتی اور مظالم پر انکی نظر تھی،ان کے دور میں تھانہ کلچر میں تبدیلی آرہی تھی، چودھری پرویز الہٰی نے اپنے دور میں گڈ گورنینس کی بہترین مثال قائم کی،جسے عوام آج بھی یاد کرتے ہیں۔

شہباز شریف دور بھی انتظامی لحاظ سے بہتر تھا ،سابق وزیر اعلیٰ کو فوٹو سیشن کرانے میں ملکہ حاصل تھا لہذٰا وہ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے جس کے ذریعے سے سیاست کی جا سکے اور یوں وہ ووٹرز کی ہمدردیاں اورداد وصول کرنے میں کامیاب ہوتے رہے،جہاں کسی با اثر یا پولیس کے ہاتھوں کوئی شہری ظلم زیادتی کا شکار ہواء شہباز شریف افسروں اور صحافیوں کی فوج کے ساتھ وہاں پہنچے اور مظلوم کو انصاف ملا یا نہیں ،شہباز شریف ہیرو بن جاتے تھے،ان کی اس روش کا ایک مثبت نتیجہ بھی نکلا کہ ظالم کسی غریب پر ظلم کرنے

سے پہلے سو بار سوچتا تھا،سرکاری دفاتر اور تھانوں پر چھاپے مارنے کاشہباز شریف کا ہتھیار بھی کار آمد ثابت ہوا۔

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنی سادگی اور نا تجربہ کاری کے باعث بیوروکریسی کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں،مخالفین اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہیں،اگر عثمان بزدار کو کامیاب وزیر اعلیٰ بننا ہے تو ان کو مظلو م کی داد رسی کیلئے اس کی دہلیز پر جانا اور سرکاری دفاتر تھانوں پر چھاپے مارنا ہوں گے،بازاروں،ہسپتالوں،تعلیمی اداروں کے اچانک دورے کرنا ہوں گے۔وزیر اعلیٰ ہائوس میں بیٹھ کر پنجاب جیسے بڑے اور مشکل صو بہ کو چلاناممکن نہیں،اس طرح پنجاب بدلے گا نہ تحریک انصاف حکومت کامیاب ہو گی ،ہاں یہ بات درست ہے کہ وزیر اعلیٰ وزیر اعلیٰ ہی ہوتا ہے مگر اس کےلئے سردار بزدار کو وزیر اعلیٰ بن کر دکھانا بھی ہو گا۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ