انٹرنیٹ کی وجہ سے ہمارے دماغوں میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

انٹرنیٹ کی وجہ سے ہمارے دماغوں میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ جدید تحقیق میں ...
انٹرنیٹ کی وجہ سے ہمارے دماغوں میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

  

کوپن ہیگن(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو تو متاثر کیا تھا، اب سائنسدانوں نے اس سے انسانی دماغوں میں آنے والی ایک حیران کن تبدیلی کا انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی عام ہونے سے انسانی دماغ کی کسی ایک نکتے پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت میں نہایت کمی واقع ہوئی ہے اور اب لوگ بہت کم وقت کے لیے کسی ایک چیز یا بات پر توجہ مرکوز رکھ پاتے ہیں۔“

سائنسدانوں نے اس تبدیلی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”انٹرنیٹ عام ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اتنا زیادہ ڈیٹا اتنی آسانی سے دستیاب ہے کہ خبروں اور دیگر نوعیت کے ڈیٹا کی اس بھرمار کی وجہ سے لوگوں کے روئیے میں شدید تبدیلی آئی ہے اور اب وہ چیزوں سے بہت جلدی اکتا جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان کی اجتماعی توجہ کا دورانیہ مختصر تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ “

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے گزشتہ پانچ سالوں کی سوشل میڈیا پوسٹس، آن لائن سرچز، کتابوں اور فلموں کی فروخت کی شرح سمیت ان موضوعات پر ہونے والی درجنوں تحقیقات کے نتائج کا بھی تجزیہ کیا اور نتائج مرتب کیے۔ سائنسدانوں نے تحقیق میں 2013ءسے 2016ءکے دوران ہزاروں مردوخواتین کے دماغوں کے ٹیسٹ بھی کیے اور ان کے کسی چیز پر توجہ مرکوز رکھنے کے دورانیے کی پیمائش کی۔

نتائج میں معلوم ہوا کہ 2013ءمیں لوگ زیادہ دیر تک کسی ایک بات پر توجہ مرکوز رکھتے تھے تاہم اگلے ہر سال میں ان کی اس صلاحیت میں کمی واقع ہوتی چلی گئی اور اب بھی لوگوں کی یہ صلاحیت مسلسل کم ہو رہی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر سن لیمن کا کہنا تھا کہ ”جوں جوں لوگوں کی ڈیٹا تک رسائی آسان ہوتی جا رہی ہے اسی شرح سے مختلف چیزوں میں لوگوں کی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہمارے دماغ میں توجہ کا ایک مخصوص سائز ہے۔ دوسری طرف ڈیٹا کی بھرمار اور برانڈز اور کمپنیوں کی طرف سے لوگوں توجہ حاصل کرنے کے مقابلے کی فضاءہمارے دماغ کے اس مخصوص حصے پر بوجھ بن رہی ہے جس سے ہم توجہ کے ارتکاز کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس