وہ پورا شہر جسے ’جیل‘ میں تبدیل کردیا گیا

وہ پورا شہر جسے ’جیل‘ میں تبدیل کردیا گیا
وہ پورا شہر جسے ’جیل‘ میں تبدیل کردیا گیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں یغور مسلمانوں کی ابتر حالت کے متعلق گاہے مغربی میڈیا انتہائی افسوسناک خبریں دیتا رہتا ہے۔ اب ایسی ہی ایک خبر آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چین نے ملک کے شمال مغربی علاقے میں واقع تاریخی شہر کاشغر کو ایک جیل میں بدل دیا ہے جہاں لاکھوں یغور اور دیگر مسلمانوں کو کیمپیوں میں مقید رکھا جا رہا ہے اور اس شہر میں حراستی کیمپوں کے باہر رہنے والے بھی ایک پنجرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس شہر میں مسلمانوں کے ہمسائے ہی ان کے مخبر بن چکے ہیں، بچوں تک سے تفتیش کی جاتی ہے اور مساجد کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ اس شہر میں آنے والے صحافیوں کو مقامی رہائشیوں کے انٹرویو کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہر 100گز یا اس سے کچھ زائد فاصلے پر پولیس بندوقیں تانے کھڑی ہوتی ہے۔ ہر چیک پوائنٹ پر مسلمان جھکے سر اور پتھرائے چہروں کے ساتھ قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیںاور ان کے شناختی کارڈ چیک کیے جاتے ہیں۔

ایک بڑی چیک پوائنٹ پر وہ ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہیں کیونکہ یہاں ایک مشین کے ذریعے ان کی تصویر بنائی جاتی ہے۔ ان چیک پوائنٹس پر بسااوقات یغور مسلمانوں کے موبائل فونز لے کر چیک کیے جاتے ہیں اور تسلی کی جاتی ہے کہ انہوں نے وہ لازمی سافٹ ویئر انسٹال کر رکھا ہے جس کے ذریعے ان کے فون پر آنے جانے والی کالز اور پیغامات کی نگرانی کی جاتی ہے۔ جس شخص نے یہ سافٹ ویئر انسٹال نہ کر رکھا ہو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس