’میرے ٹخنوں میں سوراخ کر کے مجھے جانوروں کی طرح لٹکایا گیا‘ 6 مردوں کے ہاتھوں گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون نے بالآخر 38 سال بعد خاموشی توڑ دی

’میرے ٹخنوں میں سوراخ کر کے مجھے جانوروں کی طرح لٹکایا گیا‘ 6 مردوں کے ...
’میرے ٹخنوں میں سوراخ کر کے مجھے جانوروں کی طرح لٹکایا گیا‘ 6 مردوں کے ہاتھوں گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون نے بالآخر 38 سال بعد خاموشی توڑ دی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست ٹیکساس میں 30سال قبل ایک خاتون کو 6مردوں نے اغواءکرکے بدترین جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور تب چھوڑا تھا جب انہیں لگا کہ لڑکی مر گئی ہے۔ اب اس خاتون نے اتنے عرصے بعد پہلی بار اپنے ساتھ پیش آنے والے اس روح فرسا واقعے پر پہلی بار بات کرتے ہوئے فیس بک کے ذریعے لوگوں کو ہولناک کہانی سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چیریس تھامپسن نامی اس خاتون نے، جس کی عمر اب 61سال ہے، فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”یہ سال کے وہی دن آ گئے ہیں چنانچہ میں آج آپ کو اپنی کہانی سناتی ہوں۔ 1981ءمیں مجھ پر 6مردوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا تھا۔ میں ٹیکساس میں ہائی وے پر جا رہی تھی۔ اس دوران میری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ میں ٹائر تبدیل کر رہی تھی جب یہ لوگ اپنی گاڑی پر آئے اور مجھے زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ میرا 4سال کا بیٹا اس وقت گاڑی میں سو رہا تھا۔“

چیریس نے مزید لکھا کہ ”اغواءکرنے کے کئی گھنٹے بعد انہوں نے مجھے مردہ سمجھ کر ایک کھائی میں پھینک دیا۔ اس وقت میرے جسم کی 14ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ان میں جو پسلیاں اور انگلیاں ٹوٹیں وہ شامل نہیں۔ انہوں نے میرے لگ بھگ سارے دانت گھونسے مار مار کر توڑ ڈالے تھے، کئی جگہوں سے میری کھوپڑی توڑ ڈالی تھی۔ انہوں نے میرے ٹخنوں میں ڈرل مشین کے ذریعے سوراخ کرکے اس میں رسی ڈالی او رمجھے جانوروں کی طرح لٹکائے رکھا۔ میری حالت غیر ہونے پر انہوں نے سمجھا کہ میں مر گئی ہوں اور وہ مجھے کھائی میں پھینک گئے۔ تاہم اس وقت بھی ہوش میں تھی۔ میں تب تک کھائی میں پڑی رہی جب تک مجھے یقین نہیں ہو گیا کہ وہ کافی دور چلے گئے ہوں گے۔ پھر میں کھائی سے نکلی اور ٹوٹی ٹانگوں اور ٹوٹے بازوﺅں کے ساتھ دو سے اڑھائی میل رینگتی رہی۔ میں اس سمت میں بڑھ رہی تھی جہاں میری گاڑی کھڑی تھی۔ میں جا کر اپنے بیٹے کو سنبھالنا چاہتی تھیں کیونکہ مجھے اس کی بہت فکر ہو رہی تھی تاہم وہاں تک پہنچنے سے پہلے پولیس کی گاڑی آئی اور انہوں نے ایمبولیس بلا لی اور مجھے ہسپتال پہنچا دیا۔ مجھ سے پولیس آفیسرز نے جو پہلا سوال پوچھا وہ یہ تھا کہ ’تم نے ایسا کیا کیا تھا کہ وہ لوگ اتنے غصے میں آ گئے اور تمہاری یہ حالت کر دی؟‘پولیس جب میری گاڑی کے پاس گئی تو وہ تاحال لاک تھی اور میرا بیٹا اندر سو رہا تھا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس