امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی نے پاکستانی علماءکے نام اہم پیغام جاری کردیا

امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی نے پاکستانی علماءکے نام اہم ...
امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی نے پاکستانی علماءکے نام اہم پیغام جاری کردیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی نے کہا ہے کہ اسلام مساوات ،رواداری اور امن کا علمبردار ہے، دین میں غلو اور شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں،دورِ حاضر کی ترقی ودانش سے فائدہ اُٹھانےاور تبلیغ اسلام  کا فریضہ سر انجام دینے کے لئے ہمیں جدید عصری علوم کو  سیکھنا چاہئے،اہلِ پاکستان کو اسلام اور اُمت ِمسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کا بھرپور ادراک کرتے ہوئے دشمنانِ اسلام کے مکر وفریب کو ناکام بنا دینے کے لئے جمع ہوجانا چاہئے،علمانے ہر دور میں علم پہنچایا، لوگوں کو جو بھی فتویٰ دیں وہ حق اور سچ پر مبنی ہونا چاہیے ،پاکستانی قوم فوج اور حکومت کو دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

مرکز اہل حدیث راوی روڈ لاہور میں ’’پیغام قرآن ٹی وی ‘‘ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب میں سورہ بقرہ کی تلاوت سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے امام حرم کعبہ  الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان یک جان دوقالب ہیں، علماء کو نفرتیں ختم کرکے بھائی چارے کی فضا کے لیے کردار ادا کرنا،مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلافات ختم کرکے متحد ہو نا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ  ’’قران ٹی وی‘‘ کا اجراء خوش آئند ہے،پروفیسر ساجد میر اور انکی جماعت کی تبلیغی و رفاہی خدمات ناقابل فراموش ہیں، پاکستان کی سلامتی دینی قوتوں کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔راوی روڈ میں منعقدہ تقریب سے قبل امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی نے نماز عصر کی امامت فرمائی، شہر لاہور اور گرد و نواح سے ہزاروں شہریوں نے امام بیت اللہ کی اقتدا میں نماز عصر ادا کی،اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری نے مرکز اہل حدیث کے چاروں طرف حصار قائم کیے رکھا ۔

امام کعبہ شیخ عبداللہ عواد الجہنی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ علماء نے اللہ کے بندوں کو آپس میں جوڑنا ہے، آپ لوگوں کو جو بھی فتویٰ دیں حق اور سچ پر مبنی ہونا چاہیے،علمانے اللہ کے بندوں کا آپس میں جوڑنا ہے، علمانے صبر و یقین سے امت کی رہنمائی کرنی ہے، علمانے ہر دور میں علم پہنچایا، لوگوں کو جو بھی فتویٰ دیں وہ حق اور سچ پر مبنی ہونا چاہیے ،مسلمانوں کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے۔ امام کعبہ ڈاکٹر عبد اللہ عواد الجہنی نے کہاہے کہ اسلام اخوت اور بھائی چارے کا نام ہے،  اسلام اخوت اور بھائی چارے کا نام ہے، ہمارا مذہب امن و امان سے رہنے کا درس دیتا ہے، پاکستان اور سعودی عرب توحید کی بنیاد پر قائم ہوئے، مسلمان تقویٰ اختیار کریں،اہلِ پاکستان کو اسلام اور اْمت ِمسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کا بھرپور ادراک کرتے ہوئے دشمنانِ اسلام کے مکر وفریب کو ناکام بنا دینے کے لئے جمع ہوجانا چاہئے۔

اُنہوں نے اسلام کا مرکزعقیدئہ توحید کو قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلام اصلاح و تعمیر کا دین ہے، ہلاکت وبربادی سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں،اسلامیانِ پاکستان کو امن وامان کے قیام کے لئے مشترکہ قوت کو کام میں لانا چاہئے کیونکہ امن وامان کے بغیر کوئی قوم سیاسی، تعلیمی اور اقتصادی کسی میدان میں بھی ترقی نہیں کرسکتی۔ اْنہوں نے کہا کہ حقیقی اسلام کتاب وسنت کی بنیاد پر ہی حاصل ہوسکتا ہے، اسلام میں جبر و تشدد اوربے جا غلو کی کوئی گنجائش نہیں، سنت ِرسول اللہ پر عمل ہی اْمت ِمسلمہ کو راہِ راست پر عمل پیرا رکھ سکتا ہے اور اسلام میں کسی لسانی اور وطنی گروہ بندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اُنہوں نے اُمت ِاسلامیہ کو علومِ شریعت اور عصری علوم سیکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اْنہوں نے پاکستانی مسلمانوں کے باہمی اتفاق واتحادکے لئے ربّ ِکریم سے خصوصی دعائیں مانگتے ہوئے ان لوگوں سے گلوخلاصی کی دعا کی جو اُمت کو اس کے اصل ہدف سے ہٹانا چاہتے ہیں اور فرمایاکہ تمام عزتیں اللہ اور اس کے رسو لﷺ کے لئے ہیں، لیکن منافق اس سے بے خبرہیں،دورِ حاضر کی ترقی ودانش سے فائدہ اُٹھانے اور دنیا بھرمیں اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سر انجام دینے کے لئے ہمیں جدید عصری علوم کو بھی سیکھنا چاہئے،اسلام کی عالمگیر دعوت کو پہنچانا ہمارا فرض ہے جس سے ہم کوتاہی کے مرتکب ہورہے ہیں،علم کا بنیادی مقصد نفس کی تہذیب اور معاشروں کی اِصلاح ہے،علم امن واشتی اور محبت و رواداری کا پیامبر ہے۔

اُنہوں نے مغرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی علم ودانش جو دنیا کو ہلاکت خیز تباہی سے دوچار کرکے طاقتوروں کو کمزوروں کے خلاف جارحیت پر آمادہ کردے اور بڑے پیمانے پر بربادی پھیلا دے وہ کبھی علمِ حقیقی کا مصداق نہیں بن سکتی۔اپنے خطاب میں اُنہوں نے اہل علم کے خصائص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل علم امن وامان، محبت اور مساوات کے داعی ہیں،عمدہ اخلاق کے ذریعے یہ لوگ معاشرے میں محبت وروادی کے پیامبر ہیں،مسلم معاشرے میں علما کو ہرطرح کا ادب واحترام دیا جانا چاہئے،علم کے حصول اور اہل علم کے احترام کے ذریعے ہی معاشرے میں وہ قوت پیدا کی جاسکتی ہے، جس سے اس اُمت کے مسائل حل ہونے میں مدد مل سکتی ہے، دین کی مذکورہ بالا تعلیمات کو اپنانے والا شخص ہی قابل قدر ہے۔اْنہوں نے قرآنِ کریم کو ہمہ نوعیت کے امراض ، چاہے وہ جسمانی ہوں یا ذہنی وعقلی ،کے لئے نسخہ شفا قرار دیا اور قرآنِ کریم کی تلاوت کے ثواب کا تذکرہ کرنے کے ساتھ اس کے جملہ حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی۔

سعودی عرب کے سفیر نواف المالکی ، سینیٹر ساجد میر ،سینیٹر حافظ عبد الکریم ،صوبائی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید سعید الحسن ،علامہ ابتسام الٰہی ظہیر ،رانا محمد شفیق پسروری ،ڈاکٹر رانا تنویر قاسم ،قاری محمدصہیب میر محمدی، مولانا محمد یاسین ظفر ،مولانا نعیم بٹ،ڈاکٹر عبدالغفور راشد،ڈاکٹر محمد حماد لکھوی،مولانا عبدالرشید حجازی،ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی، علامہ ہشام الٰہی ظہیر،حافظ بابر فاروق رحیمی سمیت سینکڑوں علما و مشائخ نے بھی تقریب میں شرکت کی ۔

مزید : قومی