سانحہ کرائسٹ چرچ سے پہلے 7 فیصد لوگوں میں مقبول جیسنڈا آرڈرن کی مقبولیت اب کہاں پہنچ چکی ہے؟

سانحہ کرائسٹ چرچ سے پہلے 7 فیصد لوگوں میں مقبول جیسنڈا آرڈرن کی مقبولیت اب ...
سانحہ کرائسٹ چرچ سے پہلے 7 فیصد لوگوں میں مقبول جیسنڈا آرڈرن کی مقبولیت اب کہاں پہنچ چکی ہے؟

  



کرائسٹ (ڈیلی پاکستان آن لائن) سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے جس طرح انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا اس کے باعث عالمی سطح پر ان کا انتہائی مثبت تاثر ابھرا جبکہ عوامی سطح پر بھی ان کی پذیرائی میں بھرپور اضافہ ہوا جس کا اندازہ حالیہ سروے سے لگایا جاسکتا ہے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد نیوزی لینڈ کے ٹی وی چینل ’نیوز 1 کولمار برونٹن‘ کی جانب سے عوامی رائے کا جائزہ لیا گیا جس کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو نیوزی لینڈ کے 51 فیصد عوام پسند کرتے ہیں۔ ٹی وی کی جانب سے یہ سروے 6 سے 10 اپریل کے درمیان کیا گیا ہے جس میں 3 اعشاریہ ایک فیصد نتائج کو غلط قرار دیا گیا ہے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ 15 مارچ کو ہوا تھا جب آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک سفید فام دہشتگرد نے 2 مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کرکے 50 نمازیوں کو شہید کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے جس طرح سارے معاملے کو ہینڈل کیا اور مسلمانوں کی دلجوئی کی اس سے دنیا بھر میں انہیں خوب نیک نامی حاصل ہوئی ۔

سانحہ کرائسٹ چرچ سے پہلے فروری 2018 میں بھی عوامی مقبولیت کا سروے کرایا گیا تھا لیکن اس میں جیسنڈا آرڈرن کی مقبولیت صرف 7 فیصد تھی جو سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد بڑھ کر 51 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

حالیہ سروے کے مطابق آرڈرن کی قیادت میں نیوزی لینڈ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کی مقبولیت 48 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس کی حریف جماعت نیشنل پارٹی کی عوامی مقبولیت کم ترین سطح پر آگئی ہے حالانکہ 2017 کے سروے میں نیشنل پارٹی کی مقبولیت 40 فیصد تھی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...