مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری ناقابل برداشت، علماءکی خاموشی اور تعاون کو کمزوری نہ سمجھا جائے:حافظ حسین احمد

مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری ناقابل برداشت، علماءکی خاموشی اور تعاون کو ...
مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری ناقابل برداشت، علماءکی خاموشی اور تعاون کو کمزوری نہ سمجھا جائے:حافظ حسین احمد

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد نے مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علماءکی خاموشی اور تعاون کو کمزوری نہ سمجھا جائے، مغرب کے ایجنڈے کے وائرس سے متاثر حکمران اور انتظامیہ ”کورونا وائرس“ کی آڑ میں مذہبی شعائر، مساجد اور علماءکرام کے خلاف معاندانہ کاروائیوں سے اجتناب کریں تاکہ ملک کے تمام طبقوں میں اتحاد و اتفاق کی فضاءقائم ہو۔

 میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ حکومت ایک جانب علماءکرام سے تعاون اور انہیں اعتماد میں لینے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے اور دوسری جانب نماز جنازہ پڑھانے پر تشدد اور گرفتاریاں کی جاتی ہیں،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ میت سے کورونا وائرس نہیں پھیلتا اور اس سے اہم یہ ہے کہ علماءکرام اپنے مرنے والے مسلمان بہنوں اور بھائیوں کی نماز جنازہ اور دیگر شرعی آداب اور احکامات کے تحت تدفین کررہے ہیں ،ان کے اس اسلامی جذبے کو سرہایا جانا چاہئے نہ کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے اور گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے رہنما مفتی کفایت اللہ کی گرفتار قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے ،اس آزمائش کی گھڑی میں علماءکرام کی خاموشی اور تعاون کو کمزوری نہ سمجھا جائے، مغرب کے ایجنڈے سے متاثر حکمران کورونا وائرس کی آڑ میں مذہبی شعائر، مساجد اور علماءکرام کے خلاف کاروائیوں سے اجتناب کریں تاکہ ملک میں اتحاد اور اتفاق کی فضا قائم رہے اور ملک و ملت کو اس آزمائش سے نکالا جاسکے۔حافظ حسین احمد نے کہا کہ کراچی میں ایک خاتون ایس ایچ او کے ذریعے خطیب اور نماز پڑھنے والے عوام کو ننگی گالیاں دی گئیں، جوتوں سمیت مسجد میں گھس کر شعائر اسلام کی بے حرمتی کی گئی لیکن سندھ حکومت نے اس جرم کے مرتکب عناصر کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی نہیں کی ، سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -