کورنا کے خلاف جنگ، پنجاب پولیس فرنٹ لائن پر

کورنا کے خلاف جنگ، پنجاب پولیس فرنٹ لائن پر

  

کرونا وائرس کے باعث لاک ڈان کے دوران گھروں میں محدود شہریوں میں امدادی رقوم اور اشیاء صرف کی ترسیل اور تقسیم میں پولیس جوان فرنٹ لائن پر،محکمہ پولیس حقیقی معنوں میں امدادی فورس میں تبدیل نظر آنے لگی ہے۔ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر، سی سی پی لاہور ذوالفقار حمید اور ڈی آئی جی آپریشن رائے بابر سعید کی ہدایت پر شہر کے ریلیف سنٹروں اور راشن تقسیم کرنے کے موقع پر محکمہ پولیس کے جوانوں نے فرنٹ لائن پر امدادی سرگرمیوں کا مظاہرہ کر کے محکمے کو ایک امدادی فورس کا مظاہرہ کرنے لگی ہے، شہریوں اور حکومت کی جانب سے آئی جی پنجاب کی کاوشوں کو زبردست سر رہا ہوا ہے۔روزنامہ پاکستان نے کرونا وائرس کے باعث لاک ڈان کے دوران گھروں پر محدود ہونے والے شہریوں میں وزیر اعظم پاکستان کے کفالت پروگرام اور مخیر حضرات کی جانب سے اشیائے صرف کی ترسیل اور تقسیم کا جائزہ لینے کے لئے گزشتہ ایک تفصیلی سروے کیا تو اس موقع پر شہر کے تمام کے تمام احساس ریلیف سنٹروں اور مخیر حضرات سمیت مختلف اداروں کی جانب سے تقسیم کی جانے والی اشیائے صرف کے موقع پر پولیس کے جوان انتہائی فرنٹ لائن پر پائے گئے، اور پولیس کے جوان اشیا کے صرف اور راشن لینے کے لئے آنے والے افراد جن میں عمر رسیدہ افراد کی بڑی تعداد تھی ان کی مدد میں پیش پیش نظر آئی اور اس موقع پر ایسے لگ رہا تھا جیسے پولیس کا محکمہ حقیقی معنوں ایک امدادی فورس میں تبدیل ہو چکا ہے، اس موقع پر ایک پولیس ایک جوان نے ایک عمر رسیدہ خاتون کو بازوں پر اٹھا رکھا تھا اور عمر رسیدہ خاتون کو راشن سنٹر تک پہنچا رہا تھا۔ اسی طرح پولیس کے ایک جوان نے بوڑھے شخص کو اس کی چھڑی سمیت اسے اٹھا رکھا تھا جبکہ شہر کے متعدد ریلیف سنٹروں اور راشن تقسیم کئے جانے والے مقامات پر پولیس کے جوان حقیقی معنوں میں شہریوں کی مدد کے لئے سرگرم نظر آئے اور فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔اس موقع پر پولیس کے افسران انسپکٹرز، سب انسپکٹرز بھی جوانوں کے ساتھ برابر کے شہریوں کی خدمت کرتے ہوئے دیکھائے دیئے اور کرونا وائرس کے ممکنہ خطرے کے تمام تر خوف سے بالاتر ہو کر شہریوں کی امداد کرتے ہوئے نظر آئے، جس میں معزز افراد اور عمر رسیدہ افراد کی سب سے زیادہ راہنمائی اور مدد کی جا رہی تھی، جبکہ پولیس کے جوان اس کے ساتھ ساتھ ریلیف سنٹروں اور راشن تقسیم ہونے والے مقامات پر شہریوں کی ایک ڈسپلن کے تحت قطاریں بنوا رکھی تھیں۔جس میں باقاعدہ تین تین فٹ کا فاصلہ نظر آ رہا تھا۔ جس پر شہریوں نے پولیس جوانوں کی ان سرگرمیوں کو زبردست سرا ہا رہے تھے اور شہریوں کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پولیس کو واقعی ہی حقیقی معنوں میں شہریوں کی خدمت اور امداد کرتے دیکھا ہے کہ او راس میں آئی جی پولیس پنجاب شعیب دستگیر کے حکم پر سی سی پی او لاہور کی نگرانی میں پولیس کے جوانوں اور افسروں نے لاہور کے درجنوں مقامات پر غریبوں اور لاچار افراد میں راشن اور امداد رقوم تقسیم کر کے محکمہ کی عزت کو چار چاند لگا دیئے ہیں اور پہلی مرتبہ محسوس ہو رہا ہے کہ پولیس کی کمانڈ واقعی کوئی عوام اور غریب لوگوں کا درد دل رکھنے والا کمانڈر ہے اور اس کمانڈر کی تربیت اور ہدایت کی بدولت محکمہ پولیس کے جوان آج حقیقی معنوں میں عوام کے خادم اس مددگار ہونے کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں، شہریوں کاکہنا تھا کہ پولیس کے جوانوں کے اس اقدام سے محکمہ پولیس ایک امدادی فورس میں تبدیل ہو گئی ہے اور محکمہ پولیس کے جوانوں کے اس عمل اور کردار نے عوام اور بالخصوص تین ہفتوں سے گھروں میں محدود اور بھوکے غریبوں کے دلوں میں گھر بنا لئے ہیں، اس پر وزیر اعظم کو چاہئے کہ محکمہ پولیس کے ان جوانوں کی مراعات میں کم سے کم 100فیصد اضافہ کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس کے افسری کی جانب سے غریبوں میں اپنی مدد آپ کے تحت راشن اور امدادی رقوم تقسیم کرنے سے ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور محکمہ پولیس کی نیک نامی میں اضافہ ہوا ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -