آن لائن طریقہ تدریس طلبہ کی جملہ ضروریا ت پوری کررہاہے  

    آن لائن طریقہ تدریس طلبہ کی جملہ ضروریا ت پوری کررہاہے  

  

موجودہ حالات میں جبکہ کرونا وائرس کی تباہ کاریاں اپنے عروج پر ہیں دنیا کے متعدد ملکوں میں اعلیٰ تعلیم اور درس و تدریس کا سلسلہ آن لائن شروع ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند کر دیا گیا اور استاد اور طالب علموں کے براہ راست رابطے کا سلسلہ بھی کرونا وائرس کی نذر ہو گیا۔ یوں اعلی تعلیم اور درس و تدریس نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا انداز ہی تبدیل کرلیا۔

جہاں اس عالمی وبا نے پوری دنیا کی تجارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے وہاں عالمی سطح پر پر لاک ڈاون نے تعلیمی شعبے پر بھی انتہائی برے اثرات ڈالے ہیں۔کرونا وائرس سے متاثرہ ملکوں میں حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش نے کروڑوں طلبا کی تعلیم وتربیت پر سوالیہ نشان لگا دیا۔اس ضمن میں کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کے تعلیمی اداروں میں جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے طلبہ کو آن لائن طریقہ تدریس کا رجحان بڑی تیزی سے پھیلا اور یہ فاصلاتی آن لائن طریقہ تدریس طلبہ کے تعلیمی حرج کو پورا کرنے میں انتہائی ممدد ومعاون ثابت ہو رہا ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں آن لائن طریقہ تدریس کتنا مفید اور کامیاب ہے اس بارے میں قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر روزنامہ پاکستان نے ملک کے نامور ماہر تعلیم،محقق، دانشور، سابق ڈائریکٹر جنرل پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور موجودہ پرو وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر محمد شاہد سرویا سے ایک تفصیلی انٹرویو کا اہتمام کیا جو کہ نذر قارئین ہے۔

سوال:ڈاکٹر صاحب عالمی وباء سے پیدا ہونے والی صورتحال میں تعلیمی اداروں کی بندش سے طلباء کا تعلیمی حرج ہورہا ہے۔تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لئے حکومت اور تعلیمی اداروں کو کیا ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔؟

ڈاکٹر محمد شاہد سرویا:بلاشبہ عالمی وباء کرونا وائرس کے پھیلاو نے دنیا بھر کی تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جب سے حکومت نے تعلیمی اداروں میں کرونا وائرس کے پیش نظر چھٹیوں کا اعلان کیا، اساتذہ اور انتظامیہ اس غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لیے مختلف قسم کے آن لائن سافٹ ویئر استعمال کرنے لگے ہیں۔ ہمارے شمالی علاقہ جات سمیت کئی یونیورسٹیوں میں فاصلاتی نظام تعلیم اور طریقہ تدریس کا سلسلہ چونکہ گزشتہ کئی سالوں سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے جس پر گفتگو، اسائنمنٹ، کوئز، چیٹ اور فورمز کی سہولیات موجود ہیں، مگر اسے استعمال کرنا لازمی نہیں تھا۔ اس اچانک صورت حال کی وجہ سے آن لائن طریقہ تدریس اب لازمی ہو گیا ہے۔اس بات کو مد نظر رکھیں کہ دنیا اب ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور دنیا بھر کے تعلیمی ادارے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے طلبہ کو آن لائن طریقہ تدریس کے زریعے زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ اب پاکستان میں بھی پبلک سیکٹر اور نجی سطح پر تعلیمی اداروں کی جانب سے باقاعدہ آن لائن کلاسز کا اجراء کامیابی سے جاری ہے۔اس حوالے سے"گو ٹو میٹنگ" جس کی مدد سے آپ آن لائن کسی کے ساتھ بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ای میلنگ اور ٹیکسٹنگ بھی اساتذہ اور طالب علموں کے ساتھ آن لائن رابطے کی صورت میں استعمال ہوتے ہیں۔اس ضمن میں دیگر یونیورسٹیز سے ایک قدم آگے چلتے ہوئے منہاج یونیورسٹی لاہور نے سب سے پہلے اپنے طلبہ کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آن لائن طریقہ تدریس کا آغاز کیا۔

سوال:پاکستان میں آن لائن طریقہ تدریس چونکہ نیا ہے تو اس حوالے سے منہاج یونیورسٹی نے اساتذہ کو ٹریننگ دینے کے حوالے سے کیا اقدامات کئے ہیں۔؟

پروفیسرڈاکٹر محمد شاہد سرویا:منہاج یونیورسٹی لاہور نے آن لائن طریقہ تدریس کی اہمیت کے پیش نظر کچھ عرصہ قبل ہی ایک جامع ٹیچرز ٹریننگ پروگرام ڈیزائن کیا ہے جس میں اساتذہ کو آن لائن طریقہ تدریس کے حوالے سے ٹریننگ ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا اس کے بعد طلبہ کے لئے آن لائن ٹیسٹ کلاسز شروع کروائی گئیں اس کے علاوہ ہمارے کیمپس مینجمنٹ سسٹم CMS)) کے ذریعے طلبہ کو لیکچرز،کورس آؤٹ لائنز،اسائنمنٹس ورک دیا جا رہا ہے۔

سوال:منہاج یونیورسٹی نے تعلیمی معیار کو جانچنے کے لئے داخلی سطح پر کیا اقدامات کئے ہیں؟

ڈاکٹر محمد شاہد سرویا:منہاج یونیورسٹی میں ہمیشہ کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔اور کوالٹی ایجوکیشن کو برقرار رکھنے کے لئے یونیورسٹی میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل QEC))بنایا گیا ہے جو کہ داخلی سطح پر تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے فیڈرل ایچ ای سی اور پنجاب ایچ ای سی کی وضح کردہ ہدایات پر عمل کرتا ہے۔اور یہ سارا پراسس معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے ہی ہے کیونکہ منہاج یونیورسٹی میں تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹرصاحب۔آن لائن طریقہ تدریس اپنے مقاصد میں کتنا کامیاب ہے اور کیا اس سے طلبہ کی ذہنی تشفی ممکن ہے۔؟

ڈاکٹر محمد شاہد سرویا: دیکھیں جدید ٹیکنالوجی نے بنی نوع انسان کی روز مرہ زندگی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے اور خاص کر تعلیمی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے طلبہ کی ذہنی استعداد کار کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔موجودہ پر آشوب عالمی حالات کے پیش نظر طلبہ کے تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لئے دنیا بھر میں آن لائن درس و تدریس کے لئے متعدد طریقے استعمال کے جا رہے ہیں جن میں یو ٹیوب، فیس بک، اسٹریمنگ، اسکائپ اور زوم کو استعمال کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ آن لائن طریقہ تدریس میں اساتذہ طلبہ کو ویسے ہی پڑھا رہے ہوتے ہیں جیسے کہ عام طور پر کلاس رومز میں پڑھایا جاتا ہے۔جدید ایپلیکیشنز کے زریعے اساتذہ اور طلبہ ویڈیو لنک کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں اور تمام تعلیمی مواد طلبہ کو آن لائن ان کی کمپیوٹر اور موبائل سکرین پر دکھایا جارہا ہوتا ہے۔

سوال:پاکستانی حکومت فیڈرل اور پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن آن لائن طریقہ تدریس کو کس حد تک سپورٹ کر رہے ہیں۔؟

ڈاکٹر محمد شاہد سرویا:جہاں تک آن لائن طریقہ تدریس کی سپورٹ کا سوال ہے تو حکومت پاکستان کی واضح ہدایات کے مطابق،فیڈرل ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور پنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن نے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری اور نجی جامعات کے لئے واضح گائیڈ لائن بنادی ہیں اور اس تناظر میں فیڈرل اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں۔یہاں میں بتاتا چلوں کہ پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز نے فیڈرل اور پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی گائید لائن پر سب سے پہلے عمل کیا ہے۔

سوال:ڈاکٹر صاحب پاکستان میں موجودہ لاک ڈاون کے پیش نظر طلبہ کے تعلمی نقصان کو پورا کرنے کے لئے فیڈرل ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کیا اقدامات کئے ہیں؟

ڈاکٹر محمد شاہد سرویا:جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں کم وسائل کے باوجود ہماری حکومت اس عالمی وباء سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔پاکستان میں بھی کرونا سے متاثرہ کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پہلے نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے بعد اعلیٰ سطح کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے ہوئے اور حکومت نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے درس و تدریس کا آغاز بھی آن لائن ہوا۔

اور یہ خوش آئند بات ہے کہ ہماری فیڈرل اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اس ضمن میں اپنا بہترین کردار ادا کر رہی ہے۔اس سلسلے میں فیڈرل ایچ ای سی نے یونیورسٹیز کی سطح پر ٹیکنیکل سپورٹ کی فراہمی کے لئے ٹیکنکل سپورٹ کمیٹی (TSC) بنائی ہے اور اس کمیٹی کے ذریعے طلبہ کو آن لائن یا ہائبرڈ طریقہ تدریس کے ذریعے کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اس ضمن میں طلبہ کی تعلیمی ضروریات کوپیش نظر رکھتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے گریجوایشن سیلے کر ایم فل سطح تک کے طلبہ کو ٹی وی چینلز اور انٹر نیٹ ویڈیو لنک کے زریعے آن لائن کلاسز کا اجراء کیا ہے جو کہ بڑی حد تک طلبہ کو گھر بیٹھے ان کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے میں انتہائی ممد و معان ثابت ہورہا ہے۔علاوہ ازیں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس 31 مارچ 2020 کو ہوا جس میں پبلک اور نجی سیکٹر یونیورسٹیز میں طلبہ کو آن لائن طریقہ تدریس پر عمل درامد پر تبادلہ خیال کیا گیااور لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) کے ذریعے جامع گائیڈ لائن دی گئی جس میں طلبہ کے لئے آن لائن کورسز، اسمارٹ کلاس رومز اور یونیورسٹیز میں آئی ٹی کی سہولیات کی بہتر فراہمی کا اعادہ کیا گیا ان اقدامات کے علاوہ حکومت اور فیڈرل ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ابھی مزید اقدامات اٹھاتے ہوئے طلبہ کیلئے شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے دیہاتوں میں مفت انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ شہروں میں رہنے والے طلبہ کے ساتھ ساتھ دیہات میں رہائش پزیر طلبہ بھی جدید آن لائن طریقہ تدریس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

سوال:دنیا بھر میں آن لائن فاصلاتی نظام تعلیم کس حد تک رائج ہے اور یہ طریقہ تدریس طلبہ کے لئے کتنا موزوں سمجھا جاتا ہے۔؟

ڈاکٹر محمد شاہد سرویا:دنیا بھر کے کئی ممالک میں سرکاری اور نجی جامعات میں آن لائن ایجوکیشن کا اہتمام بھرپور طریقے سے کیا جارہا ہے یہاں ہمیں پاکستان میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی کے کامیاب فاصلاتی آن لائن نظام تعلیم کو بطور مثال سامنے رکھنا ہو گا۔ چونکہ میں نے زاتی طور پر ملکی اور بین الاقوامی جامعات میں آن لائن ایجوکیشن اور فاصلاتی نظام تعلیم کا بغور جائزہ لیا ہے تو میں یہ بات پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنا کے بیشتر ممالک میں آن لائن ایجوکیشن سے لاکھوں طلبہ استفادہ کر رہے ہیں۔

سوال: فاصلاتی آن لائن لائن ایجوکیشن سسٹم میں بنیادی چیلنجز کیا ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔؟؟؟

ڈاکٹر محمد شاہد سرویا: آن لائن ایجوکیشن میں سب سے بڑا چیلنج اسیسمنٹ کا ہے اور اس ضمن میں ہمیں پاکستان کے امتحانی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے لیکن خوش آئند پہلو یہ ہے کہ آن لائن طریقہ تدریس کو رائج کرنے کے لئے ہمارے پاس انٹرنیشنل سٹینڈرڈز کے ساتھ ساتھ لوکل سٹینڈرڈز موجود ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم فاصلاتی آن لائن طریقہ تدریس کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -