کورونا وبائی دور

کورونا وبائی دور

  

تعلیمی سرگرمیاں اور اکادمی ادبیات پاکستان

کورونا وائرس ایک وبا کی طرح تمام دنیا کے طول وعرض کے ساتھ ساتھ ملک عزیز کے ہر علاقے کو اپنے گھیرے میں لیتا چلا جارہا ہے۔ ہزاروں آدمی اس وبا کا شکار ہوچکے ہیں۔

ان تمام تر مخدوش حالات کے باوجود ہم اس صورتحال سے نمٹنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ انشاء اللہ یہ ابتلا کا دور گزر جائے گا۔کیوں کہ:

وقت جتنا بھی برا ہوتا ہے

آخر ِ کار گزر جاتا ہے

ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ بڑی جانفشانی سے اس وبا کے خلاف نبرد آزما ہے۔ پورا ملک لاک ڈاؤن کا شکار ہوکر بند ہوا پڑا ہے۔ معاشی، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی وتدریسی سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں۔

ان تمام تر حالات میں بھی قوم کا مورال بلند ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ جدو جہد میں مصروف ہے۔ ان حالات میں دوسرے شعبہ جات کے ساتھ ساتھ تعلیمی اہمیت کو سب نے اہم سمجھا اور اس حوالے سے سوچ بچار کا عمل جاری ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کا علمی اور تعلیمی حوالے سے نقصان نہ ہو۔پرائمری اسکول سے لے کر جامعات کی سطح تک ماہرین تعلیم نے اس کا ھل نکالنے کی کوشش کی ہے ہر کوئی اپنی اپنی جگہ ان تعلیمی مسائل کا حل نکالنے کے لیے تگ ودو کر رہا ہے۔ پرائیویٹ ادارے اورتمام تر جامعات اس حوالے زیادہ فعال نظر آرہی ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تحت ہونے والی میٹنگز اور ورکشاپس کو بھی آن لائن کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ پاکستان میں فاصلاتی نطام تعلیم کے سلسلے میں اس سے برا کوئی ادارہ نہیں جس کا تدریسی عمل پورے ملک میں جاری وساری ہو۔ ان سرگرمیوں میں بنیادی کردار اس وقت انٹر نیٹ اور ہمارے سوشل میڈیا کا ہے۔ لیکن افسوس ہمارے یہاں انٹرنیٹ کی سہولت ملکی سطح پر سب لوگوں کو حاصل نہیں ہے۔ پھر کچھ کمپنیوں کے انٹرنیٹ کی کارکردگی اتنی سست ہے کہ جس سے تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ تعلیمی سلسلہ درج ذیل طریقوں سے جاری رہ سکتاہے۔

۱۔ واٹس ایپ کے ذریعے تعلیمی مواد کی ترسیل ۲۔واٹس ایپ یا ای میل کے ذریعے آڈیو وڈیو تعلیمی مواد کی ترسیل۔

۳۔ انٹر نیٹ کے ذریعے آن لائن لیکچر ۴۔سوالنامے، پیپرز وغیرہ فراہم کرکے ویکلی ان کے جوابات کے حصول کے ذریعے

۵۔ کانفرنس کال کے ذریعے۶۔ زوم ایپ کے ذریعے ۷۔ فیس بک میسنجر کے ذریعے

لاہور یونیورسٹی سرگودھا کیمپس میں بھی گیارہ اپریل سے آن لائن ایم فل کے زبانی امتحانوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ پندرہ اپریل کو بورڈ آف اسٹڈی کی میٹنگ بھی آن لائن ہونے کو جارہی ہے۔ اسی طرح کئی یونیورسٹیوں میں وٹس ایپ اور انٹر نیٹ کے ذریعے ایم فل،پی ایچ ڈی کے آن لائن لیکچرز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ گورنمنٹ کالجوں میں بی ایس اور ایم اے کی سطح پر بھی سوچا جارہا ہے کہ آن لائن لیکچرز کو کس طرح ممکن بنایا جائے۔ ان تمام تر سرگرمیوں کو ممکن بنانے کے لیے ضرورت ہے کہ حکومتی سطح پر تیز اور سستے انٹر نیٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔کیونکہ ہمارے یہاں انٹر نیٹ کی سہولیات کا فقدان ہے۔ دوسرا دور دراز علاقوں میں اکثر طلبہ وطالبات کو انڈرائیڈ فون، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت یا سہولت میسر نہیں ہے۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں بھی انٹرنیٹ کی مؤثر اور قابلِ اعتبار سہولت دستیاب نہیں بالخصوص سرکاری اسکول اور کالج وغیرہ میں۔ اسی طرح دور دراز کے علاقوں میں بہت سے اساتذہ کے پاس بھی انٹر نیٹ اور انڈرائیڈ فون کی سہولت دستیاب نہیں۔ حکومت نے جس طرح تمام اسکولوں کے سربراہان کو ٹیب فراہم کیے تھے اور اسکالرز کو کمپیوٹر دیے تھے اسی طرز پر آن لائن تعلیمی سرگرمیوں کو ممکن بنانے کے لیے بھی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ آن لائن کانفرنسوں کا انعقاد بھی عمل میں لایا جائے۔ مربوط اور منضبط قسم کا تعلیمی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ طلبہ وطالبات کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ انھیں حالات کے تناظر میں اگر اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے چیرمین جناب پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کی کوششوں کا ذکر کرنا ضروری ہے جنھوں نے حال ہی میں اکادمی ادبیات کے چیرمین کا چارج سنبھالا ہے۔ وہ ایک آزمودہ ماہر تعلیم کی حیثیت سے شاہ عبداللطیف یونویرسٹی خیر پور میں طویل عرصہ خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور تعلیمی وتحقیقی سرگرمیوں کے حوالے سے ان کا کردار ہمیشہ فعال رہا۔ گزشتہ دن انھوں نے زوم پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک سے ادیبوں کو اکٹھا کیا۔ان ادیبوں نے موجودہ وبائی اور لاک ڈاؤن کی صورت حال کے حوالے سے خیالات وجذبات اور اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ڈاکٹر یوسف خشک (اسلام آباد) نذیر تبسم، ڈاکٹر تقی عابدی، یشب تمنا(یوکے)،ڈاکٹر فاطمہ حسن(کراچی) ناز بٹ(لاہور)، بشریٰ فرخ(پشاور)، ڈاکٹر اشرف کمال(بھکر)، مہ جبیں غزل انصاری (برطانیہ) ڈاکٹر اخترشمار (لاہور)،ابراہیم کھوکھر (خیرپور)، ڈاکٹر شیر علی(اسلام آباد)، محمود شام (کراچی)، نصراللہ خان ناصر (سکھر) اور دیگر احباب اس میں شامل ہوئے۔ بہت بڑی پیش رفت ہے کہ اس لاک ڈاؤن میں بھی انھوں نے حالات کی نزاکت اور وبائی مصیبت کی آفت زدگی اور تباہی کو دیکھتے ہوئے لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ کسی بھی صورت میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہئے،سوچ بچار، تبادلہئ خیال اور دائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔ امید ہے کہ وہ اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پوری دنیا کے ادیبوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کریں گے جہاں وہ عصری سانحات، مسائل اور ملکی وعالمی صورت حال کے تناظر میں اپنے تجربات اور خیالات سے لوگوں میں امید کا جذبہ پیدا کرسکیں۔ خطرے کی گھنٹی بجتی جارہی ہے۔ وبائی ہلاکت خیزی زوروں پر ہے، معاشی، سماجی اور انفرادی حوالے سے فرد تنہائی کا شکار ہوچکا ہے۔ہر طرف خوف وہراس پھیلا ہوا ہے۔حفاظتی تدابیر اور احتیاط کی اشد ضرورت ہے اور اس سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں میں مایوسی انتشار غربت وافلاس کے احساس کو کم کیا جائے۔ تمام مخیر اور دلِ دردمند لوگ اس حوالے سے فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔آخر میں دو شعر: وبا کے دور میں بھی ہمت سے کام لینا ہے کہ امتحان ہو جیسا بھی حوصلہ رکھنا

ہر ایک شہر میں لوگوں کی خیر ہو یارب

ہر ایک شاخ پہ محفوظ گھونسلہ رکھنا

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -