ٹانک،شہریوں کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں،عارف خان ڈی سی

ٹانک،شہریوں کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں،عارف خان ڈی سی

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)شہریوں کو کرونا کی وباء سے بچانے کے لئے ضلعی اور پولیس انتظامیہ عملی اقدامات اٹھا رہی ہے انتظامیہ کی جانب سے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہ عوامی مفاد عامہ میں ہیں تاکہ اس وباء کے خلاف متحد ہو کر لڑا جا سکے ان خیالات کا اظہار ڈی سی ٹانک فہد خان وزیر اور ڈی پی او ٹانک عارف خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر عوام کو کرونا وائرس کی وباء سے بچانے کے لئے پولیس و ضلعی انتظامیہ،پاک آرمی،قانون نافذ کرنے والے ادارے،پولیس اور محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد فرنٹ لائن پر کام رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹانک میں اچھے انتظامات کی وجہ سے صرف ایک کیس سامنے آیا تھا اور کرونا میں مبتلا ہونے والے شخص کو علاج فراہم کیا گیا جسکا ٹیسٹ نیگٹیو آیا ہے اور وہ اپنے گھر میں ہے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ڈگری کالج ٹانک،جنڈولہ ہسپتال اور ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹانک میں قرنطینہ کے سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر تمام سہولیات فراہم کی گئیں ہیں شہری احتیاطی تدابیروں پر عمل پیرا ہوں اور قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اپنے تعاون کو یقینی بنائیں نے انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے چار اورجگہوں کا بھی انتخاب کیا گیا ہے جنکو ہنگامی صورتحال میں کورنٹین میں تبدیل کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود بھی انتظامیہ نے عوامی مفاد کے لئے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ قابل تحسین ہیں دریں اثناء ڈی پی او ٹانک محمد عارف خان کا کہنا تھا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت جو پالیسی دے گی پولیس انتظامیہ اس پر ہر حال میں عمل درآمد کو یقینی بنائے گی صوبائی حکومت کے احکامات کی جو روشنی میں جن دوکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے وہ کھلی ہوئی ہیں خلاف قانون اقدام پر پولیس قانونی کاروائی عمل میں لائے گی پولیس کے جوانوں اور آفسیرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہریوں کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئیں اور شہریوں کو جاری لاک ڈاؤن کے بارے میں آگاہی دیں حکومت صوبہ کی عوام کے بہترین مفاد میں اقدامات اٹھا رہی ہے شہری لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کے جوانوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ہم جو جنگ کرونا وائرس کے خاتمہ کے لئے لڑ رہے ہیں اسکو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔۔۔۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -