ایس ایم ایز کے خدشات کو مدنظر رکھ کر نئی ری فنانس سکیم تشکیل دی: گورنر سٹیٹ بینک

  ایس ایم ایز کے خدشات کو مدنظر رکھ کر نئی ری فنانس سکیم تشکیل دی: گورنر سٹیٹ ...

  

کراچی(این این آئی)سٹیٹ بینک آ ف پاکستان کے گورنر باقر رضا نے کہا ہے کہ مرکزی بینک سٹیک ہولڈرز کیساتھ باہمی مشاورت سے کام کررہاہے اور ان مشکل وقت میں صنعتوں کوعملی طور پر مدد فراہم کرنے بالخصوص افرادی قوت کی مالی استطاعت برقرار رکھنے کیلیے مناسب اقدامات کررہاہے۔سٹیٹ بینک کا مستقل طور پر بینکوں سے بھی رابطہ رہتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بناجاسکے کہ مرکزی بینک نے جو اقدامات کیے ہیں ان کے مقاصد حاصل کرنے کیلیے برق رفتاری سے عمل درآمد ممکن بنایا جاسکے۔یہ بات انہوں نے کارکنوں کو بے روزگاری سے بچانے کیلئے متعارف کروائی گئی ”ری فنانس سکیم فار پیمنٹ آف ویجز اینڈ سیلریز ٹو دی ورکرز اینڈ ایمپلائز آف بزنس کنسرنس“ پر ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی)کے ڈائریکٹرزکے ساتھ تبادلہ خیال کے لیے 75منٹ دورانیے پر مشتمل ویڈیو کانفرنس اجلاس میں کہی۔اس موقع پر ڈپٹی گورنر جمیل احمد اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز سید ثمر حسنین اور ڈاکٹر عنایت حسین نے ان کی معاونت کی جبکہ ای ایف پی کے صدر مجید عزیز، بورڈ آ ف ڈائریکٹرزکے علاوہ نائب صدر ذکی خان حمد خان، چیئرمین ای ایف پی اکنامک کونسل اسماعیل ستار،چیف کے پی کے حاجی محمد جاوید، کوچیف پنجاب ملک طاہر جاوید، چیئرمین ویب کوپ اینڈ سکل ڈویلپمنٹ کونسل احسان اللہ خان، افتخار شیرازی،یوسف مرزا، اطہر اقبال، مہناز کلوڈی، سید نذر علی،ڈائریکٹر ای ایف پی ای سی محمود ارشد اور سیکریٹری جنرل فصیح الکریم صدیقی بھی اجلاس میں شریک تھے۔گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر باقر رضا نے سکیم کے غلط استعمال سے بچنے کے لیے مناسب اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ یہ رقم براہ راست تنخواداروں اور اجرت پر کام کرنے والوں کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کی جائے گی بلکہ آجروں کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی۔ آجرقرض دینے والے بینک کو مکمل معلومات فراہم کرتے ہیں او رتنخواہوں کی ادائیگی کی رقم3ماہ کے لیے 200ملین روپے تک ہے ان کو ترجیح دی جائے گی۔ مزید برآں فعال ٹیکس دہندگان کو ایک فیصد کی رعایت ملے گی۔ سکیم کی تشکیل کے دوران ایس ایم ایز کے خدشات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔انہوں نے اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی کہ اسٹیٹ بینک آجروں اور مالیاتی اداروں سے مستقل مشاورت کے بعد سکیم میں تبدیلیاں لانے پر رضامندہے۔گورنر سٹیٹ بینک نے یہ بھی بتایا کہ قرض دہندگان کو اصل رقم پرپہلے ہی ایک سال کی چھوٹ دی دے گئی ہے جو کہ قرض دہندگان کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے اور اب تک 70ہزار سے زائدلوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا ہے نیزیہ رقم5ارب سے تجاوز کرگئی ہے جو یقیناایک بہت بڑا ریلیف ہے کیونکہ سٹیٹ بینک کو قرض حاصل کرنے والوں کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے۔قبل ازیں ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان(ای ایف پی) کے صدر مجید عزیز نے مرکزی بینک کی ترجیحات کو سراہتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کو یقین دہانی کروائی کہ ای ایف پی مذکورہ سکیم کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے آجروں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔انہوں نے ویڈیو کانفرس کا مقصد سکیم کو بہتر طور پر سمجھنا اور اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم تجاویز د دینا ہے جو سب کے حق میں ہے۔سٹیٹ بینک کے اعلیٰ افسروں نے ای ایف پی کی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہاکہ مرکزی بینک قرض دہندگان کی معلومات ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر بینکوں سے تبادلہ خیال کرے گا۔انہوں نے یقین دلایا کہ یہ نئی اسکیم فوری طور پر نافذالعمل ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک

مزید :

پشاورصفحہ آخر -