آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد کی ملاقات

آرمی چیف سے زلمے خلیل زاد کی ملاقات

  

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغان امن عمل کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی، جنرل آسٹن ملز بھی اس ملاقات میں شریک تھے انہوں نے آرمی چیف سے افغانستان میں امن پر تبادلہ خیال کیا جنرل باجوہ نے ہمسایہ ملک میں دیرپا امن کے قیام کے لئے اپنے عزم کو دہرایا اور سیاسی حل میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پاکستان آنے سے پہلے انہوں نے دوحہ(قطر) میں طالبان کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر سے بھی ملاقات کی اور امن معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا۔ طالبان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی زیر غور آیا، اس ملاقات کے دوران افغانستان میں متعین نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر بھی موجود تھے جو ان کے ہمراہ ہی پاکستان آئے اور پھر ان کے ساتھ ہی افغانستان چلے گئے۔

طالبان کے پانچ ہزار قیدی افغان حکومت کی تحویل میں تھے دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ سے پہلے ان سب قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا لیکن افغان صدر اشرف غنی نے معاہدے کی یہ شق منظرِ عام پر آتے ہی اسے تاویلات کے گورکھ دھندے میں الجھانے کی کوشش کی اور جلدی میں ایک بیان بھی داغ دیا کہ قیدیوں کی رہائی ”کیس ٹو کیس“ ہو گی ہر معاملے کا جائزہ لے کر ہی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، طالبان کہاں پیچھے رہنے والے تھے انہوں نے اس بیان کا ترکی بہ ترکی جواب دیا اور موقف اختیار کیا کہ اگر معاہدے کے مطابق طالبان قیدی رہا نہ کئے گئے تو مذاکرات کا آئندہ مرحلہ شروع ہی نہیں ہو سکے گا۔ اس بیان پر دوحہ معاہدہ خطرات سے دوچار ہوتا نظر آیا تو امریکی حکومت نے کہا کہ معاہدہ پر عمل درآمد ہو گا، امریکہ نے صدر اشرف غنی سے بھی کہا کہ وہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں لیکن صدر اشرف غنی کو غصہ یہ تھا کہ ان کی حکومت کو مذاکرات کے سارے عمل سے دور رکھا گیا یہاں تک کہ دستخطوں کی تقریب میں بھی انہیں نہیں بلایا گیا جس میں دنیا کے بہت سے ملکوں کے نمائندے شریک تھے چنانچہ انہوں نے اپنی اہمیت جتانے کے لئے طالبان قیدیوں کو رہا نہ کرنے کا شوشہ چھوڑ دیا، جواب میں طالبان کا دباؤ جاری رہا تو امریکہ نے صدر اشرف غنی کو امریکی امداد بند کرنے کی دھمکی دی، اس دوران افغانستان کے اندر ایک اہم سیاسی پیش رفت یہ ہوئی کہ عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کی صدارت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور خود بھی صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ایسے میں اشرف غنی کتنی دیر تک ایک غلط موقف پر اصرار کر سکتے تھے، چنانچہ انہوں نے نیم دلانہ انداز میں طالبان قیدیوں کی رہائی شروع کر دی اب تک پانچ سو قیدی رہا کئے جا چکے ہیں جواب میں طالبان نے بھی بیس ایسے قیدی رہا کر دیئے ہیں جن کا تعلق افغان فورسز سے تھا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی چالیں احتیاط کے ساتھ چل رہے ہیں۔

اُدھر امریکہ میں کورونا کی وبا تیزی سے پھیلی اور بڑی تعداد میں اموات ہوئیں،جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ نومبر کے صدارتی انتخاب کے لئے اپنی انتخابی مہم بھی شروع نہیں کر سکے، وہ دوحہ امن معاہدے کو اپنی بڑی سیاسی اور سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے لیکن جب معاہدہ ہی معرضِ خطر میں پڑتا نظر آیا تو صدر اشرف غنی کو سخت پیغام بھیجناضروری تھا جس کے بعد اب معاملات اگرچہ آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں لیکن بین الافغان مکالمے کی مشکل منزل بھی سامنے ہے جب تک قیدیوں کے معاملے پر خوش اسلوبی سے عمل نہیں ہوتا ایسے کسی مذاکرات کا آغاز ہوتا بھی نظر نہیں آتا، زلمے خلیل زاد کا یہ دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے آرمی چیف کے ساتھ ان کی ملاقات میں افغان امن عمل کو آگے بڑھانے پر تبادلہ ء خیال کیا گیا، پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے جو مثبت کردار ادا کیا تھا امریکہ کو اس کا اعتراف ہے اور اس کا خیال ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن بھی پاکستان کی امدا دکے بغیر قائم نہیں ہو سکتا پاکستان اگرچہ اس ضمن میں ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار رہتا ہے کیونکہ افغانستان میں امن کا براہِ راست فائدہ بھی اسے پہنچتا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ افغانستان کے بعض عناصر اب بھی بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ افغانستان کے راستے آنے والے تخریب کار اب بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں اور پاکستان سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے، بھارت کو دوحہ امن معاہدے سے دور رکھا گیا تھا۔ اس لئے اشرف غنی اور مودی کا دکھ مشترکہ ہے معاہدے کے بعد سے لے کر اب تک مودی نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر مسلسل جنگ کے سے حالات پیدا کر رکھے ہیں اور دوسری جانب افغانستان میں اپنے قونصل خانوں کو تخریبی کارروائیوں کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان نے اس کے برعکس اپنے افغان بھائیوں کی مشکلات کا ہمیشہ احساس کیا ہے اور کورونا کی وبا کے باعث افغانستان کے ساتھ بند سرحدیں بھی کھولی ہیں تاکہ ضروری اشیاء افغانستان پہنچ سکیں پاکستان کی خیرسگالی کی ان کوششوں کا جواب البتہ اس شکل میں نہیں ملتا جس طرح ملنا چاہیے۔

افغانستان میں طویل جنگ کی وجہ سے امن کے پرندے اس فضا سے رخصت ہو گئے ہیں جنہیں واپس لانے کے لئے ضروری ہے کہ افغان فضاؤں سے بارود کی بو اگر پوری طرح ختم نہیں ہو سکتی تو کم از کم اتنی کمی ضرور کر دی جائے کہ سانس لینا دشوار نہ ہو، یہ بہترین وقت ہے کہ افغان ملت امن کے لئے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرکے کم از کم ایسے امور طے کر لے جن کی روشنی میں امن کے سفر کا آغاز تو کیا جا سکے، امریکہ نے اگر اپنے دشمن نمبر ایک طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ممکن بنانے کے لئے اپنی انا کو حائل نہیں ہونے دیا تو جن افغان حکمرانوں کا اقتدار امریکہ کی بیساکھیوں پر کھڑا ہے انہیں بھی اپنا طرز عمل تبدیل کرنا ہوگا۔ اس لئے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں ہر قسم کی رکاوٹیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں تعاون پر تیار ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور زلمے خلیل زاد کی ملاقات میں تعاون کی یقین دہانی اس بات کی غماز ہے تاہم جب تک افغان فریق اپنے اپنے حصے کی شمع نہیں جلائیں گے، امن کے خواب کی تعبیر ملنا مشکل ہے۔

(بدھ کے روز شائع ہونے والے اداریئے میں کابینہ کے منتخب ارکان کی تعداد سہواً 39لکھی گئی ہے۔ درحقیقت یہ تعداد 29ہے، قارئین تصحیح فرما لیں۔)

مزید :

رائے -اداریہ -