”آب ِزم زم“ میں شفا ہے

”آب ِزم زم“ میں شفا ہے

  

حضرت علیؓ کا قول بار بار دہرایا جاتا ہے،”موت خود زندگی کا تحفظ کرتی ہے“ اس کی تفسیر یوں کی جاتی ہے کہ موت کا ایک دن معیّن ہے،اِس لئے یہ موت اُس وقت تک نہیں واقع ہو گی جب تک وہ معیّن روز نہ آ جائے، مسلمانوں کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ جو وقت موت کے لئے اللہ نے متعین کر دیا، رخصتی اس سے پہلے یا بعد میں نہیں ہو سکتی۔ موت کے حوالے سے ہر مسلمان اب بھی یہی کہتا ہے،لیکن کورونا وبا کے اچانک پھیل جانے اور متاثرین کی تعداد میں زبردست اضافے اور اموات نے شاید مضبوط عقیدے والوں کو بھی ڈانوا ڈول کر دیا اور ہمارے محترم علماء کرام نے اس کے لئے ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بعض احادیث خصوصاً طاعون والی حدیث مبارک کا سہارا لیا اور مساجد اور باجماعت نماز تک کی بندش کو قبول کر کے مسلمانوں کو عمل کی تلقین شروع کر دی، جن علماء نے آواز اٹھائی اور اس لاک ڈاؤن سے مساجد کی ویرانی پر اعتراض کیا، ان کو حرمین شریفین کی مثال دے کر چُپ کرایا گیا۔سعودی عرب حکومت نے تو خانہ کعبہ اور مسجد ِ نبویؐ کو بھی لاک ڈاؤن کا حصہ بنایا اور دیگر تمام مساجد بھی سر بمہر کر دیں،موت کا دن معیّن کرنے والا یقین ”باطل“(نعوذ باللہ) قرار پا گیا، سعودیہ میں ”آبِ زم زم“ کی فیکٹری اور حرمین شریفین میں پینے کی سہولت بھی ختم کر دی، اس حوالے سے یہ یقین ہے کہ ”آبِ زم زم“ میں شفا ہے، اب صورتِ حال یہ بنی ہے کہ پاکستان میں علماء کرام نے اتفاق رائے سے مساجد کی بحالی کا اعلان کر دیا، نمازِ جمعہ، نماز تراویح اور نمازِ عید کے علاوہ اعتکاف کا بھی عہد کر لیا ہے، تاہم ساتھ ہی حفاظتی تدابیر کا بھی ذکر کیا،مساجد سے قالین، دریاں اٹھا کر جراثیم کش سپرے ہو گا، مسجد کے گیٹ کے باہر سینی ٹائزیشن بریج بنیں گے، نمازی گھر سے وضو کر کے ہاتھوں کو سینی ٹائزر لگا کر آئیں گے، صفوں میں ذرا فاصلہ ہو گا اور فرض نماز کے بعد سنت اور نوافل پھر گھر پر پڑھیں گے، اعتکاف بھی حفاظتی تدابیر کے ساتھ ہو گا، اب امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس نے تجویز کیا ہے کہ کورونا کے مریضوں کو آبِ زم زم پلایا جائے،جہاں جہاں یہ مریض زیر علاج ہیں، وہاں ان کے لئے آبِ زم زم مہیا کیا جائے کہ اس میں شفا ہے، مریض بھی ذہنی اور نفسیاتی طور پر پُرامید ہوں گے، یہ تجویز یقینا بہتر ہے کہ آبِ زم زم اللہ کی نعمت ہے اور یقینا اس میں شفا ہے، پہلے سعودی عرب میں مریضوں کے لئے یہ پانی مہیا کیا جائے اور پھر مسلمان ممالک کو مستفید کیا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -