کنفیوژن اور بڑھ گیا؟،بازار کھل گئے؟

کنفیوژن اور بڑھ گیا؟،بازار کھل گئے؟
کنفیوژن اور بڑھ گیا؟،بازار کھل گئے؟

  

خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی لگائی جا سکتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ آپ اچھے خواب دیکھیں اور تعبیر بھیانک ہو،مَیں بھی ایک بیٹا،بھائی،والد اور دادا ہونے کے حوالے سے ہمیشہ سے ہی خواب دیکھتا آ رہا ہوں،ہر حیثیت میں میرے اِن خوابوں کی نوعیت مختلف رہی،کبھی خوشگوار حیرت سے واسطہ پڑا تو کبھی یہ خواب ٹوٹ اور بکھر گئے،ان تمام حیثیتوں کے ساتھ ساتھ مَیں ایک انسان اور پاکستانی بھی ہوں اور اس حیثیت سے میرے خوابوں کی نوعیت بھی دیگر خوابوں سے مختلف ہے۔ مَیں نے مسلم لیگ نیشنل گارڈ میں رضا کار، سکاؤٹ ایسوسی ایشن کے تحت ایک سکاؤٹ اور پھر سول ڈیفنس میں ایک سپاہی کارکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ہر مرحلے پر آنکھوں میں خواب سجائے خدمات انجام دیں۔ ستمبر1965ء کی پاک بھارت لڑائی نے ایک جذبہ قومیت پیدا کیا اور عزم بھی پختہ ہوا،تب تک مَیں ایک صحافی بھی بن چکا تھا اور اب تک ہوں۔اس حیثیت سے میرا خواب ہمیشہ ایک ترقی یافتہ،مہذب اور خوشحال معاشرہ رہا،

ایسا معاشرہ جس میں ہر کوئی مطمئن اور ضرورت کے مطابق روزگار کے ذریعے روٹی بھی کمائے اس حوالے سے مساوات کا قائل تھا اور ہوں، مَیں نے اللہ پر بھی یقین اور بھروسہ رکھا تو ساتھ ہی دولت کی منصفانہ تقسیم والے فلسفے کے لئے کام کیا، کبھی پیٹ میں ڈاڑھی ا ور کبھی کافر کے طعنے بھی سنے، لیکن میرا خواب کبھی نہ ٹوٹا، مَیں ایک متحد اور منصف قوم کا تصور آنکھوں میں سجائے اس تصور کے تحت اپنے منصبی فرائض نجام دیتا چلا آ رہا ہوں ہر بار آس ٹوٹی اور پھر سے نئی امید لگائی۔ مسلسل قومی اتحاد اور قومی اتفاق رائے کا پرچار بھی کرتا چلا آ رہا ہوں، جب کبھی کسی قومی رہنما، سیاسی لیڈر نے ایسی بات کی وہ مجھے اچھا لگا اور اس کی تائید کی کوشش کی۔ اس حوالے سے مَیں نے کبھی جانبداری سے کام نہیں لیا، ہمیشہ ذاتی پسند نا پسند کو بالائے طاق رکھا اور تعریف و تنقید کو اس اصول کے تحت اپنی فکر بنا لیا اور یہ سطور گواہ ہیں کہ مَیں نے کبھی دوستوں کی بے جا حمایت کی اور نہ ان کو تنقید سے ماوراء خیال کیا، ہمیشہ قوم اور قومی وحدت پیش نظر رکھی۔

مَیں آج پھر سے یہ اعتراف کرتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے مجھے امیدیں رہیں۔پیپلزپارٹی کا70 والا منشور میری منزل ٹھہرا، مَیں نے ہمیشہ خیال کیا کہ پیپلزپارٹی ایک ترقی پسند، اعتدال والی عوامی جماعت ہے اور آج بھی میرا ذاتی خیال یہی ہے کہ اس جماعت کا وجود غنیمت ہے کہ اس میں مذہبی،نسلی یا گروہی تعصب کا پروگرام نہیں،اس جماعت کے بنیادی چار اصول عوامی مسائل کاحل ہیں اور انہی اصولوں کی روشنی میں میرے احساسات اور خیالات بھی رہے۔ پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ بھی نظریاتی اعتبار سے میری تنقید سے بالاتر نہیں رہی،آج بھی مجھے بہت سے تحفظات ہیں، جن کا اظہار کرنے سے گریز نہیں، تاہم یہ گذارش کر دوں کہ مَیں نے ہمیشہ نوابزادہ نصر اللہ، مولانا شاہ احمد نورانی، ولی خان، مفتی محمود اور دیگر قومی رہنماؤں کا بھرپور احترام کیا اور مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علماء پاکستان کے بانی صدر تو میرے بزرگ علامہ ابو الحسنات تھے، آج بھی مولانا فضل الرحمن سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بے تکلفانہ تعلقات ہیں، مَیں معترضین کے ریمارکس کے باوجود اپنی صحافت کو غیر جانبدار رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا ہوں۔ جماعت اسلامی والے دوستوں سے بھی رائے لی جا سکتی ہے۔

قارئین کرام! آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج اسے کیا ہوا کہ کسی مقصد کی بات کئے بغیر اِدھر اُدھر کی ہانک رہا اور مطلب کی بات نہیں کرتا، حالانکہ مطلب کے حوالے ہی سے تو یہ سب عرض کیا ہے اور اپنی بات کی ابتدا بھی وہیں سے کی تھی اور وہ ہے قومی اتحاد اور قومی اتفاق رائے کا خواب جو ہر بار ٹوٹ جاتا اور اب تو شاید کوئی آس ہی باقی نہیں، اگرچہ اس مایوسی میں بھی غار کے آخری کنارے پر روشنی کی کرن دیکھتا ہوں اور پھر یہ حقیقت بھی تسلیم شدہ ہے کہ ہر شب کی ایک صبح بھی ہوتی ہے اور تاریکی روشنی کی ضیاع سے چھٹ جاتی ہے۔ یہ یقین کامل یوں ہے کہ اللہ نے یہ ملک ہمارے آباء کی جدوجہد اور ہمارے نعروں ”بن کے رہے گا“ پاکستان کی آواز سن کر ہی ہمیں دیا ہے ہم نالائق ثابت ہوئے تو کیا پاکستان تو اللہ کا انعام ہے اور یہ رہنے کے لئے ہی بنا ہے، اسی لئے سالہا سال کی کھدائی کے باوجود یہ گر نہیں سکا۔ اگرچہ ایک سے دو بن گیا، یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ70،72 سال کی لوٹ کھسوٹ کے باوجود ہمیں عزت سے رہنے کا موقع فراہم کر رہا ہے اور ہم ہیں کہ ناشکرے پن کے مرتکب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔

تمہید طولانی کے بعدآمدم برسر مطلب کہ حاضر سیاسی رہنماؤں نے کورونا کی وبا کے عذاب کے باوجود خود کو تو اتحاد کی طرف آنے سے گریز کیا اور آج بھی قومی اتحاد کا نام لے کر اس کی بنیادیں کھو دی ہیں،مجھے خوف ہے کہ ہمارے برسر اقتدار ناتجربہ کار حضرات کی وجہ سے یہاں کورونا کی وبا سے چھٹکارا نہیں ملے گا اور اموات بڑھتی رہیں گی۔ وزیراعظم شکر ادا کرتے ہیں کہ پاکستان میں نسبتاً مریض اور اموات دُنیا کے دوسرے ممالک سے کم ہیں، انہی کے وزیر علی زیدی سندھ حکومت پر برسے اور الزام لگایا کہ کورونا کے ٹیسٹ نہیں کئے جا رہے۔ اس سے ان کی مراد تو یہی ہے کہ یہاں متاثرین تو بہت ہیں، ٹیسٹ نہیں ہو رہے ذرا علی زیدی خود اپنی حکومت کے مانیٹرنگ مرکز کی اطلاع پر ہی غور کر لیں، جو اعتراف کرتے ہیں کہ کورونا کے قریباً چار ہزار ٹیسٹ کئے گئے اور ان میں سے نصف کے قریب مثبت آئے،اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیمار تو ہیں، سامنے نہیں آ رہے۔ یوں یہ وبا کنٹرول نہیں ہو پائی۔

اب ذرا یہ بھی غور فرما لیں کہ کپتان کی ٹیم کے کھلاڑیوں نے کیا گل کھلائے اور کس قدر غلط شارٹس کھیلے کہ نہ صرف قومی اتفاق رائے والا خواب بکھرتا نظر آیا، بلکہ کنفیوژن بڑھ گیا۔ یہ ٹائیگروں کا پرانا طریقہ کار ہے کہ ٹیم کے سربراہ کا اشارہ پاتے ہی مخالفین پر پل پڑتے رہیں اور بیک وقت سارے ہی کھلاڑی شارٹس لگاتے ہیں،اب بھی ان حضرات نے اپنی اسی حکمت عملی کے تحت سندھ حکومت کے خلاف محاذ گرم کر دیا، حالانکہ بلاول بھٹو زرداری اور صوبائی حکومت تعاون کا اعلان ہی نہیں کرتی، اپنی حیثیت میں کر بھی رہی تھی۔ تاہم شاید سندھ حکومت کے لئے عالمی سطح پر تعریفی کلمات برداشت نہیں ہوئے اور بلاوجہ محاذ کھول لیا گیا اس کا نتیجہ سامنے کہ علماء کرام ڈٹ کر کھڑے ہو گئے اور تاجر بھی میدان میں آ گئے۔ دوسری طرف خود وفاق نے ایس او پیز کی تیاری کے بعد عملاً لاک ڈاؤن کو بے عمل کر دیا ہے اور جزوی کی بجائے اتنے زیادہ شعبے کھول دیئے کہ خوف آنے لگا ہے۔اللہ خیر کرے، یہاں بھی سندھ حکومت خبردار ہے اور اس کی طرف سے واضح کر دیا گیا کہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کے سوا کاروبار اور صنعتیں بحال نہیں ہوں گی، براہِ کرم میرے خواب تو رہنے دیں۔

مزید :

رائے -کالم -