کوروناوائرس،محمدشہبازشریف بازی لے گئے

کوروناوائرس،محمدشہبازشریف بازی لے گئے
کوروناوائرس،محمدشہبازشریف بازی لے گئے

  

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس پھیل رہاہے۔ ملک کے اندر کورونا وائرس کی مریضوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوزکرچکی ہے اور روز بروز مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔امریکہ،اٹلی،جرمنی،فرانس سمیت یورپ کے دیگرممالک میں بروقت لاک ڈاؤن نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی تعدادلاکھوں تک پہنچ گئی،چین کے شہر ووہان سے جنم لینے والا کورو ناوائرس اس وقت دنیا بھر میں پھیل چکا ہے،چینی حکومت نے لاک ڈاؤن کرتے ہوئے ووہان شہرکا رابطہ پورے چین سے منقطع کردیا،حفاظتی اقدامات اورفوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی وجہ سے چین نے کوروناوائرس پرقابوپالیاہے ووہان شہرمیں تعلیمی ادارے اورتجارتی مراکز کھلنا شروع ہوگئے ہیں،ٹرانسپورٹ اورٹرین چلنا شروع ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ تفتان کے ذریعے ایران سے آئے زائرین کو بروقت قرنطینہ سنٹرز میں منتقل نہ کرنا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اورمشیرصحت کے مطابق پاکستان میں 71فیصدکوروناوائرس ایران سے آئے ہوئے زائرین میں پایا گیا۔

حکومت نے سپریم کورٹ میں جورپورٹ پیش کی ہے اس کے مطابق25اپریل تک کوروناوائرس مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کاخدشہ ہے ملک کے نامورسائنسدان ڈاکٹرعطاء الرحمن کے مطابق کوروناوائرس مریضوں کی تعداد 1 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ملک میں کورونا ٹسٹ کی 5 ہزارگنجائش ہے اور کورونا ٹسٹ کی تعداد 50 ہزار ہونی چاہیے۔ ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے انڈسٹری تجارتی مراکز آمدورفت بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بے روزگاری اورمہنگائی میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ملک میں 50 فیصد افراد غربت کا شکار ہیں۔ چین کے ماہرین نے حکومت کو مزید لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز دی ہے۔ حکومت کی طرف سے اعلانات کئے جا رہے ہیں، ابھی تک عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ احساس پروگرام کے تحت عوام کوحکومت نے ایک کروڑ20لاکھ افراد کو 12 ہزار روپے دینے کاپروگرام بنایا ہے۔ 22 کروڑ کی آبادی میں صرف ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو امداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ حکومت نے راشن بھی شروع نہیں کیا، جس کی وجہ سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے ہیں۔ رمضان المبارک سے پہلے احساس پروگرام کے رقوم اور راشن کاسلسلہ شرو ع کرنا چاہیے۔ ملک میں مخیر حضرات نے بھی وہ کردار ادا نہیں کیا جو انہیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار ہر جگہ پہنچ رہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے ہزاروں رضاکار بھی سرگرم عمل ہیں۔ خیبرپختونخواکی سب سے بڑی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے ویسے امدادی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہیں، جو ہونی چاہیے تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر و اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف زلزلہ، سیلاب سمیت ہرقسم کی مصیبت کی گھڑی میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ عوام کی خدمت کو زندگی کا مشن بنایا۔ ملک میں کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو وہ اپنے بیمار بڑے بھائی محمد نواز شریف کو لندن میں چھوڑ کر پاکستان پہنچ گئے ملک واپس پہنچتے ہی چین کے سفیرسے ملاقات کی اور ملاقات میں ماسک اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرنے کی درخواست کی، جس پرچین کی حکومت نے جہازکے ذریعہ سامان بھیج دیا۔ محمد شہباز شریف نے ملک بھر میں کورونا سے بچاؤ کے لئے 10 ہزار پرسنل پروٹیکٹیو کٹس، ماسک اور دیگر سامان ڈاکٹروں کو پہنچا دیا ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت ضم شدہ اضلاع کے ڈاکٹروں کو سامان فراہم کیاگیا، جبکہ 50 ہزار مزید کٹس بھی تقسیم کئے جائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے کوروناوائرس سے نمٹنے کے لئے کورنا فنڈ قائم کردیا۔تمام ارکان قومی اسمبلی و سینٹرز 1لاکھ روپے فنڈزمیں جمع کریں گے ایم پی ایزاورڈویژنل صدوروجنرل سیکرٹریزکو25ہزارروپے جمع کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

مسلم لیگ(ن)نے ایک لاکھ افرادکوحفاظتی سامان سمیت راشن فراہم کرنے کافیصلہ کیاہے۔محمدشہبازشریف لندن سے واپسی کے بعددن رات کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے کردار ادا کررہے ہیں ڈاکٹروں، تاجروں سمیت مختلف مکاتب فکرکے لوگوں کے ساتھ ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ ملک میں کوروناسے متعلق اتفاق رائے پیداکرنے کے لئے سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی رابطے کررہے ہیں۔ محمدشہبازشریف نے اپنے تمام ترسیاسی اختلافات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کوکوروناوائرس پرقابوپانے کیلئے ہرقسم کے تعاون کایقین دلایاہے اورحکومت کوتجاویزدے رہے ہیں کہ قومی یکجہتی پیداکرنے کیلئے کردار ادا کریں۔ سول سوسائٹی کی35مختلف تنظیموں پرمشتمل فری اینڈفیئرالیکشن نیٹ ورک(فافن)کے مطابق کورناوائرس سے نمٹنے کے لئے پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس سے وزیراعظم عمران خان کے اُٹھ کرچلے جانے کے بعدسیاسی اتفاق رائے پیداکرنے کاایک قیمتی موقع ضائع ہوگیا۔موجودہ وقت سیاست کانہیں تمام سیاسی جماعتیں اورمخیرحضرات اپوزیشن لیڈ ر محمد شہبازشریف کی تقلیدکرناچاہیے اورمشکل کی اس گھڑی میں عوام کی مددکرناچاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -