کرونا پھیلاؤ عالمگیر اور ترقی یافتہ حکمران بے بس

کرونا پھیلاؤ عالمگیر اور ترقی یافتہ حکمران بے بس

  

گزشتہ چند ہفتوں سے چین سے شروع ہوئی کرونا وائرس کی بیماری تادم تحریر پھیل کر دنیا بھر کے 200ممالک کے لوگوں کو متاثر کرنے لگی ہے۔ اس کے بچاؤ اور تحفظ کی خاطر ان ممالک کے سرکاری اور پرائیویٹ ذرائع ابلاغ میں شب و روز عوام کو ضروری احتیاطی تدابیر اور ممکنہ علاج کے ممکنہ طریقے اور سہولتیں بتا رہے ہیں متعلقہ حکومتیں فلاحی ادارے اور مخیر حضرات اپنے وسائل اور کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں، تاکہ اس مرض سے انسانی جانوں کو طویل مدت کی اذیت اور ہلاکت کے نقصانات سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں لئے ۔ پاکستان تو ایک ترقی پذیر،محدود مالی وسائل اور تکنیکی علم و استعداد کے حامل طبی ماہرین پر مشتمل ملک خیال کیا جاتا ہے، لیکن مذکورہ بالا متعلقہ حقائق اور سہولیات کے باوجود وطن عزیز میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی بہترین صلاحیتوں،کاوشوں اور طبی اداروں پر مامور ڈاکٹر صاحبان، محکمہ صحت کے ملازمین اور خاتون نرسز کی مخلصانہ اور مسلسل کارکردگی کے ذریعے کرونا وائرس کی بیماری اور اثرات سے بچانے کے لئے جو خدمات سرانجام دے رہی ہیں ان پر ملک بھر کے متعلقہ تمام حکمران طبقے کے علاوہ مذکورہ طبی سٹاف کی سرگرمیوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں ذمہ دار ملکی شہری اور ذی شعور شخص کو کسی تعصب، تنگ نظری اور بخل سے کام نہیں لینا چاہیے، اگرچہ بعض دیگر امور پر عام لوگوں کے مذکورہ بالا حکمران طبقہ کے ساتھ کچھ اختلافات اور تحفظات بھی ہوں، کیونکہ جمہوری طرز سیاست میں ایسے حالات آئے دن یا اکثر اوقات وقوع پذیر ہوتے رہے ہیں۔ انسان کی زندگی، بیماری اور موت کا وقت تو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے، اگر بعض دیگر مذاہب اور عقائد رکھنے والے لوگ اس حکم الٰہی پر یقین و اعتماد نہیں رکھتے تو ان کے اس تصور سے مذکورہ بالا فطری اصول تبدیل نہیں ہو سکتا۔

بہرحال کرونا وائرس سے محض چند ہفتوں کے دوران دنیا بھر کے 200یا زائد ممالک میں اس کا پھیلاؤ اور مہلک اثرات جس قدر تیز رفتاری سے پھیلے ہیں، یہ بھی سراسر مشیتِ ایزدی کے تحت ہی رونما ہوئے ہیں۔ قارئین کرام میں کئی حضرات و خواتین اس امر پر حیران اور پریشان ہیں کہ امریکہ، برطانیہ، اٹلی، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، سپین، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے نسبتاً خاصے ترقی یافتہ ممالک میں متعدد افراد اپنی قیمتی جانوں سے کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ برطانیہ کے پرنس چارلس وزیراعظم بورس جانسن، وزیر خارجہ اور وزیر صحت بھی اپنے ٹیسٹ مثبت آنے پر ضروری احتیاط پر عمل کرتے ہوئے دو ہفتوں کے لئے مطلوبہ تنہائی میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ قابل فکر امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا ممالک دیگر خطوں مثلاً ایشیا اور افریقہ کے مقابلے میں کافی ترقی یافتہ ہیں جہاں انسانی زندگی کو مہلک وبائی حالات اور اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے باقاعدگی سے تحقیق و تربیت کی جاتی ہے، لیکن وہاں محض چند روز میں ہزاروں اور سینکڑوں لوگ اپنی جانوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ نظامِ فطرت اور رضائے الٰہی ہے، جس پر بعض غیر مسلم لوگ یقین و اتفاق نہیں کرتے۔ دراصل کرونا وائرس کے مختلف ممالک میں اچانک پھوٹنے اور بڑھنے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو اپنے وسیع نظام کا ایک اشارہ ظاہر کیا ہے، جس سے دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے حکمرانوں کی بے بسی منظر عام پر آ گئی ہے، حالانکہ ان میں سے بعض حکمران،

اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی لامحدود طاقت کے اختیارات کو آج تک بھی تسلیم نہیں کرتے، جبکہ بعض ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں نسبتاً کم انسانی ہلاکتوں اور اس بیماری میں مبتلا ہونے کے چند واقعات دیکھنے اور پڑھنے میں آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا تمام کائنات کا نظام، اس کے ہاتھوں اور مرضی کے مطابق چل رہا ہے۔ وہی تمام دنیا کے انسانوں کا خالق، مالک اور رزاق ہے۔ اس کی رضامندی کے بغیر دنیا بھر کے کسی خطے، علاقے اور شعبہء زندگی میں کوئی پتہ نہیں ہل سکتا۔ دنیا بھر کی انسانوں کی آبادی میں بھی گزشتہ چالیس سے پچاس برس میں کافی اضافہ ہو گیا ہے، جو کئی ممالک میں آباد اور موجود مالی اور دیگر ضروریات کے لئے نسبتاً کم لگتے ہیں۔ یہ کلی اختیار اللہ تعالیٰ کی کامل ذات باری کو ہی حاصل ہے کہ وہ انسانوں کی آبادی یا تعداد کو کسی وقت اپنی قدرتی آفات، مثلاً زلزلہ، طوفان، سیلاب، باہمی جنگ و جدل اور آسمانی بجلی کے کسی ملک شہر یا مقام پر گرا دے، وہاں کم یا زیادہ تعداد میں انسانی ہلاکتوں کے اسباب و حالات پیدا کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لے۔ آخر میں عرض ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے رضائے الٰہی حاصل کی جائے۔

مزید :

رائے -کالم -