دوا اور دعا کے دن!

دوا اور دعا کے دن!
دوا اور دعا کے دن!

  

کرو نا بلا شبہ ایک وائر س سے وبا ء بن چکا ہے۔وبا ء کے دنوں میں نہ تو زند گی ہو تی ہے نہ محبتیں با قی رہتی ہیں۔ بس ہر لمحے ایک نفسا نفسی اور بے یقینی کا عالم ہو تا ہے جو ہما رے چہروں کی رو نق، ہما ری تہذیب او ر کا رو با ری اخلاقیات کا خا تمہ یوں کر تا ہے جیسے آ گ سو کھی لکڑیوں کو راکھ میں بدل ڈا لتی ہے۔ وہی راکھ جو ہمیں عظیم الشان تہذیب، عالی شان شہروں اور با کمال قو موں کو پا مال کر کے تا ریخ کے اوراق میں جا بجا ملتی ہے۔اب کرو نا وائرس بھی جدید ترین دنیا کے سامنے ایک ایسا چیلنج بن کر کھڑا ہے،جس سے فرار اب ممکن سے نا ممکن کی سر حد میں دا خل ہو چکا ہے۔شروع میں ہما رے کچھ مذ ہب بیزار دو ستوں نے اس کی تباہ کاریوں کو خا نہ خدا کی ویرا نی میں دیکھا، دیوار گر یہ پر حملہ آور ہو تے دیکھا اور خا لی کلیسا ؤں میں گھنٹیوں کی خا مو شی کا سبب اسے جا نا، گو یا ان کے نز دیک مذ ہب ہمارے ما دی مسا ئل کے حل کا ایک نسخہ تھا جو کا ر آ مد نہ رہا۔ میرا احسا س ہے کہ یہ حضرات مذ ہب کے نا خدا وں کی سطحی تفہیم کا شکا ر ہو ئے وگر نہ الہامی ادب تو محض تہذیب نفس اور اخلا قی تربیت کے ذریعے انسان کو دنیا کے جھمیلوں سے نکال کر رب کے حضور ایک دن پیش کر نے کے پر ما مور ہے۔ اس سے زیا دہ نہ تو مذہب کا مقد مہ ہے اور نہ ہی مقصود، انسانی عقل اس کے دیگر وجود کی طر ح چونکہ عنا یتِ خدا وندی ہے اور یہی وہ مقام ہے، جہاں سے مذ ہب دنیاوی معاملات اور سا ئنس و تحقیق کے لئے اپنی با گیں انسانی عقل و شعور کے حوا لے کر دیتا ہے۔ مذ ہب پر اس سستی جملے با زی کا ایک رد عمل آ یا جس میں غصہ اور تلخی تو تھی مگر علمی جواب نہ آ سکا۔

آجکل ایسی تحریریں خو د رو جھا ڑیوں کی طر ح ا گ آ ئی ہیں جن سے الجھے بغیر دامن بچا نا نا ممکنات میں سے ہے۔ ہر دوسرا آ دمی کرونا وائرس کی تبا ہی کو سائنس کی نا کامی اور طبی تحقیق کے لئے ایسا چیلنج سمجھ رہا ہے جو انسا نی بس سے با ہر ہے۔ترقی یا فتہ قو موں، کثیر الثقا فتی شہروں (Cosmopolitan Cities)، فلک بوس عما رتوں اور زبر دست انفرا سٹر کچر کا مذاق اڑا یا جا رہا ہے۔ گو یا انسان کے اب تک کے ارتقا کا سفر را ئیگاں ہے۔ مجھے شیخ سعدی یا د آ رہے ہیں ”اللہ کی نعمتیں اتنی ہیں کہ زبان کھا کھا کر تھک جا تی، مگر نا شکری ایسی کہ اللہ کا شکر اس پر بھا ری پڑ تا ہے“، سا ئنس اور اس کی ایجادات کے بارے میں بھی ہمارا رویہ ایسا ہی ہے۔ دنیا کی ہر نئی ایجا د اور اختراع ہمیں اگلے روز میسر ہو تی ہے مگر سا ئنٹفک ریسر چ میں مسلما نوں کا حصہ ڈھو نڈنا ہو تو ایک لمبی جستجو اور تحقیق کے عمل سے گذر نا ہو گا۔ مسلم معا شروں کے اندر بھی دوا اور دعا کے در میان ایک معر کہ بر پا ہے۔ توازن دو نوں کھو چکے ہیں، ایک دوا کا علمبردار اور دوسرا سبب سے دور بھاگتا ہوا محض دعا کو لب بستہ ہے۔دنیا عا لم اسباب ہے اور اس کی بقا بھی سبب پیدا کر نے سے جڑی ہے۔ اس فیصلہ کن مر حلے میں دوا کو سبب کا در جہ حا صل ہے۔ مغرب ایک با ر پھر اس راستے پر چل کر رفعتیں پالے گا اور ہم زور دعا میں مصروف رہیں گے۔

دو با رہ اسی نقطے کی طرف آ تے ہیں کہ مذ ہب نا کام نہیں ہوا،مگر مذ ہب کے نام لیوا ایک با ر پھر ہو س اور لالچ کے ہاتھوں نا کام ضرور ہو ئے ہیں۔ کرو نا وائرس نا می وبا کی بلا جب سے نا زل ہو ئی ہے۔ ہما رے اجتما عی چہرے کے بہروپ کی اصلی پر تیں کھلتی جا رہی ہیں۔ مہنگا ئی اور نا جا ئز ذ خیرہ اندو زی عروج پر ہے، آز مائش کے اس وقت میں مجبو ر لو گوں کی جیبو ں سے ما ل بٹورنا پر لے در جے کی بد زو قی بھی اور بے حسی بھی۔یہ ایک ایسا وا ئرس ہے جو وبا ء کے دنوں میں سب سے پہلے انسا نیت کو کھا رہا ہے۔ لندن ایک دوست کو فون کیا خیریت در یافت کی اور لاک ڈا ون میں حا لات کا پوچھا تو پتہ چلا مجبو ر لو گوں کی جیب پر ہاتھ صاف کر نا ایک عا لمگیر وباء ہے، جس میں مشرق اور مغرب دو نوں ڈو ب چکے ہیں۔ لندن کے با زاروں پاکستا نی اور ہندوستا نی دکانداروں نے خوب لوٹ ما ر مچا ئی، دو پاؤنڈ کی چیز دس دس پونڈ کے عوض فروخت ہو ئی۔ مجھے حو صلہ ہوا کہ ہم تنہا نہیں جو مخلوق کی مجبوریوں میں اپنا کاروباری نفع ڈھونڈتے ہیں۔ ایک با ر بڑے سٹور کے تبلیغی کا رکن سے میں نے پو چھا جناب اتنا منا فع تو استحصال ہے، حضرت نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے کو ئی منافع کی حد مقرر کی ہے؟ گو یا انہیں استحصال کی مکمل چھو ٹ ہے۔مذ ہب اور سیا ست کے نظریات، قیا دت اور کا رو بار ہر چیز میں ملا وٹ اور کھوٹ بہت عا م ہے۔مو جو دہ وقت میں عمران خان کی قیا دت کے چہرے سے بھی ایک خول اترا ہے اور اس کے پیچھے ایک خو د پسند انسان کی تصویر ابھری، لاک ڈاؤن کے فیصلے میں ان کی قیادت بہت پیچھے رہ گئی ہے اور ان کے با رے میں ضدی شخص کا گمان اب یقین میں بدل چکا ہے۔

وزیر اعظم کی انا اور خود پسندی پر مجھے مو لانا آزاد کا غبار خا طر میں لکھا گیا ایک خط(Egoistic Litrature) پریاد آ رہاہے۔ ان جیسا کو ئی نکتہ شناس ہو تا تو آ ج کے حکمرا نوں میں انا نیت (خود پسندی)کا ا حا طہ کرتا۔ عمران خان، نریندر مو دی، صدر ٹرمپ اور بو رس جانسن جیسے حضرات انا اور ”میں“ کے خول میں بند ہیں۔ ایک دن تاریخ ضرور بتا دے گی کہ جب وقت خود فرا مو شیوں کا تقا ضا کر رہا تھایہ خود پر ستیوں میں ڈو بے ہو ئے نکلے۔وزیر اعظم جان لیں اگر ان کا اندازِ حکمرا نی لوگوں کو زیا دہ سے زیا دہ خواب دیکھنے پر مجبو ر نہیں کر تا، لوگ سیکھنے پر آما دہ نہیں اور زیا دہ حاصل کر نے پر قادر نہیں تو ان کا شمار دنیا کے لیڈرز میں نہیں ہو گا اور پا کستا نی سیا ست میں اگلی با ری ملنا تو دور کی بات ہے مو جو دہ با ری کی مدت بھی پو ری نہیں ہو نی۔عمران خان کی حکمرانی پر عوا می اعتماد کی را ہیں بند ہو رہی ہیں۔تفتان میں غلط منصوبہ بندی کے نتیجے میں ہو نے والا نقصان ایک ہمہ گیر مسئلہ بن چکا ہے۔ کرونا وائرس کی تبا ہی میں زیا دہ انسانی جانیں چلی گئیں تو پھر معلوم پڑے گا کہ ملک اور معا شرہ میں ٹوٹ پھو ٹ کا قدرتی عمل کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -