کرونا وائرس اور انڈین میڈیا

کرونا وائرس اور انڈین میڈیا
کرونا وائرس اور انڈین میڈیا

  

دیکھئے گردشِ ایام کیسے پلٹا کھاتی ہے، ماضی ء قریب تک ذرائع ابلاغ میں سیاست پر لکھنا فرضِ عین سمجھا جاتا تھا۔ لکھنے والوں کا ایک ہجوم ہوتا تھا جو کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کا ذلّہ ربا ہوتا تھا (یہ لفظ ذرا سا مشکل ہے لیکن اس کے لغوی معانی عین مین وہی ہیں جو میرے دل کی آواز سمجھے جا سکتے ہیں)۔ کسی بھی اخبار کو اٹھا کر دیکھتے تھے تو اس میں لکھنے والے کا نام پڑھ کر معلوم ہو جاتا تھا کہ اس کے کالم میں کیا لکھا ہو گا۔ غیر جانبدار اور غیر سیاسی موضوعات پر لکھنے والوں کا قحط تھا اور سچی بات یہ بھی ہے کہ اس متاعِ کس مخر یعنی غیر جانبدارانہ کالموں کا خریدار بھی خال خال ہی پایا جاتا تھا۔

پھر ڈیڑھ دو برس پہلے پاکستانی سیاست میں ایک انقلابی تبدیلی آئی۔ کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ کسی غیر سیاسی خانوادے کا ایک کرکٹر ملک کا وزیراعظم بن جائے گا۔ لیکن جب وہ بن گیا تو کہنہ مشق لکھاریوں اور کالم نگاروں نے اس کو قبول نہ کیا۔ دن گزرتے گئے اور میڈیا پر اس کرکٹر کی حتی المقدور کردار کشی کی جاتی رہی۔ پرنٹ میڈیا کے لکھاری تو پرانے رسوم و رواج کے عادی تھے۔ الیکٹرانک میڈیا پر بھی چرب زبان اور بزعمِ خویش جغادری قسم کے بولنے والوں نے بہت اودھم مچایا۔ ذرا گزشتہ 20ماہ کی میڈیائی تاریخ اٹھا کر دیکھیں ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے کیا کیا جتن نہیں کئے کہ عمران خان کا بستر گول کر دیا جائے۔ گزشتہ 30،35برسوں میں جو کچھ ہو چکا تھا، اس کو ریورس گیئر میں ڈالنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا لیکن آہستہ آہستہ ایک کی بجائے کئی فرہاد پیدا ہو گئے اور ایک نہیں، دودھ کی کئی نہریں بہتی نظر آنے لگیں۔ سعدی شیرازی نے بوستان میں ایک ایسا شعر لکھا ہے جس کی صداقت پر سوجان سے فدا ہونے کو جی چاہتا ہے، فرماتے ہیں:

چنانچہ قحط سالے شد اندر دمشق

کہ یاراں فراموش کردند عشق

یعنی ایک سال یہ ہوا کہ دمشق میں ایسا قحط پڑا کہ عشاق کے سارے کس بل نکل گئے اور وہ ”نارمل انسان“ بن گئے…… عشق، واقعی عاشق کو ابنار مل بنا دیتا ہے لیکن بھوک ایک ایسا کیٹا لسٹ ہے جس کے بارے میں وارث شاہ نے فرمایا تھا:

ڈنڈا پیر ہے وگڑیاں تگڑیاں دا

مست ہاتھیاں دی بھکھ پیر ہے جی

اندازہ کیجئے کہ ایک آفاقی صداقت کو بیان کرنے میں سعدی اور وارث شاہ کیسے ایک ہو گئے ہیں۔ سعدی نے کہا تھا کہ بھوک بڑے بڑے عاشقانِ صادق کو ”راہِ راست“ پر لے آتی ہے۔آتشِ شکم، آتشِ عشق پر بازی لے جاتی ہے۔ حضرت اقبال لاکھ فرماتے رہیں: ”فیصلہ تیرا، ترے ہاتھوں میں ہے من یا شکم“…… لیکن اس مقابلے میں جیت آخر من کی نہیں تن کی ہوتی ہے۔ وارث شاہ نے بھی زمین پر سب سے بڑے جانور (ہاتھی) کو سدھانے کے لئے بھوک کے جس نسخے کا ذکر کیا ہے اسے ہاتھیوں اور شیروں کو سدھانے والے حضرات نے آزمایا اور تیر بہدف پایا…… کچھ یہی حال ماضی ء قریب میں سیاسی پارٹیوں کے عشاق کا بھی ہوا۔

ابھی یہ لکھاری اور تجزیہ نگار رفتہ رفتہ سیاسی تجزیات کی پٹڑیوں سے اتر رہے تھے اور لوپ لائن سے مین لائن پر آ رہے تھے کہ کرونا وائرس بیچ میں دھم سے آ کودا…… اب سارا میڈیا صبح و شام کرونا، کرونا پکارتا ہے، سارے لکھاری اخباروں میں کرونا کی دہائیاں دے رہے ہیں اور سارے ابلاغی مبصروں کا فوکس کرونا پر ہو گیا ہے۔ مین سٹریم میڈیا کے آئی کون بلے بازوں کو بھی اس کرکٹر نے یکے بعد دیگرے پیولین کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اب وہ بیچارے کبھی ایک ٹیلی ویژن چینل کی شاخ پر بسیرا کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی وہاں سے جی اچاٹ ہوتا ہے تو دوسرے نشیمنوں کا رخ کر لیتے ہیں۔ ان کی کس مپرسی کی کیفیت کو کرونا وائرس نے اگرچہ سنبھالا دینے کی کوشش کی ہے لیکن وہ تو سیاست کے بزرجمہر تھے، انہوں نے کوئی دوسرا فن سیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ تو اپنے ممدوح کی مدح سرائی کی بھیرویں کے سواکسی دوسرے راگ کی راگنی ہی نہیں تھے۔ ساری عمر سیاسی کوچے کی ”دشت پیمائی“ کرتے رہے۔ لیکن کوچہ تو کوچہ ہی رہتا ہے، وہ کتنا بھی وسیع و عریض ہو جائے، دشت نہیں بن سکتا۔

کرونا وائرس کو اس شعبے کے اہلِ علم نے کووڈ۔19 کا ایک نیا اور پروفیشنل نام دے دیا ہے۔ اس لئے ہم بھی سوچ رہے ہیں کہ کرونا کو اس نئے نام سے پکارا اور لکھا کریں۔ لیکن فی الحال اس کا استعمال خلط مبحث کا باعث ہو گا اس لئے کرونا وائرس ہی چلنے دیتے ہیں۔

کووِڈ۔19 پر لکھنے والوں کی بھی ایک کھیپ ابھر آئی ہے۔ جو لوگ میری طرح تھوڑی سی انگریزی جانتے ہیں وہ انٹرنیشنل میڈیا کو کھنگال کر اس کی جانکاری پرنٹ میڈیا کے قارئین اور الیکٹرانک میڈیا کے ناظرین و سامعین کو منتقل کرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں …… اور یہ بڑی اچھی خبر ہے…… میدانِ سیاست سے میدانِ طب کے ایک وبائی کوچے کی خیر خبر لانا بادی النظر میں کوئی ایسا جامع موضوع دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن ہم نے اگر اپنے آپ کو صرف ایک ہی موضوع کے کھونٹے سے باندھ رکھا ہو تو اس وبائی مرض کے دشت و بیابان میں کیسے بھٹکیں؟ تاہم مقامِ اطمینان ہے کہ ہم کالم نگاروں نے بہت جلد سیاست کی وباء سے نکل کر اس کرونائی وبا کی سُن گُن لی ہے اور اس پر لکھنا لکھانا شروع کر دیا ہے۔

پاکستان ہی نہیں، ساری دنیا کرونائی گرداب میں گھر چکی ہے۔ امریکہ اور چین کی وہ رقابت بھی طاقِ نسیاں پر رکھی جا چکی جو گزشتہ برس کے اواخر تک عالمی میڈیا پر (بالخصوص مغربی میڈیا پر) پیش پیش نظر آتی تھی۔ امریکہ کے ایک ایک شہر میں دو دو ہزار انسان روزانہ کرونا کی نذر ہو رہے ہیں، اس لئے اب امریکیوں کو ہوش آ رہا ہے کہ کرونا نے ان کی عسکری اور معیشی قبا کو کس طرح تار تار کر دیا ہے۔ کئی برس سے امریکہ ہم جیسے معاشروں کو ننگا کر رہا تھا…… میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں ایک امریکی طیارہ بردار (یو ایس ایس روزویلٹ) پر کرونا کے شکار ہونے والے نیول آفیسرز اور دوسرے عملے کی حالتِ زار کی منظر کشی کی تھی۔ اس طیارہ بردار کے علاوہ بھی امریکہ کے کئی دوسرے عسکری اثاثوں پر اس وائرس کا حملہ ہو چکا ہے اور اس موضوع پر قارئین کو بہت سا مواد بین الاقوامی میڈیا پر مل رہا ہے۔ لیکن ہمارے ہمسائے انڈیا کو شائد ابھی تک اس حقیقت کا عرفان نہیں ہوا کہ یہ وقت سیاسی تنازعات کو پالنے کا نہیں، ان کو اگر حل کرنے کا نہیں تو ٹالنے کا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا میں ایسے مضامین اور کالموں کی بھرمار ہے جن میں مودی سرکار نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو مسلمانوں کے سرتھوپ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وبا دہلی میں تبلیغی جماعت کے ایک ہیڈکوارٹر (مرکز) سے پھوٹی ہے۔ اس جماعت کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے جو مسلمان چین اور مشرقِ بعید کے ممالک سے آئے تھے، انہوں نے یہ وائرس بھارت میں پھیلایا ہے۔ حالانکہ انٹرنیشنل میڈیا متواتر یہ خبریں دے رہا ہے کہ دسمبر2019ء تک انڈیا میں ائر ٹریفک کا حجم 80,000 فی یوم تھا۔ ان لاکھوں آنے جانے والوں میں کیا کرونا کا کوئی Positive کیس شامل نہ تھا؟…… انڈیا ہمیشہ اپنی منجی کے نیچے ڈنگوری نہیں پھیرتا۔ اس کا یہ مرض نیا نہیں بلکہ مزمّن ہو چکا ہے۔ اس کا اپنا میڈیا بھی یہ دہائی دے رہا ہے کہ اس وائرس کا پھیلاؤ لوکل ہے، باہر سے اگر کوئی پازیٹو کیس آیا بھی ہے تو اس کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ صرف مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر انڈیا نے اپنے ہی لوگوں کو گمراہ کرنے کا ارتکاب کیا ہے جو کوئی نیا مظہر نہیں، مودی حکومت کا پرانا عذرِ لنگ ہے۔

انڈیا کا حال یہ ہے کہ آج جو کچھ پاکستانی وزیراعظم اور ان کی ٹیم کرتی ہے، آنے والے کل میں یہی کچھ مودی اینڈ کو بھی کر دیتی ہے۔ پاکستان نے اگر لاک ڈاؤن میں 30اپریل تک توسیع کی ہے تو انڈیا نے 3مئی تک کر دی ہے۔ اگر پاکستان نے ایگریکلچرل اور انڈسٹریل صنعتوں پر پابندیاں نرم کر دی ہیں اور مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے نیم لاک ڈاؤن کر دیا ہے تو انڈیا نے بھی بالکل ایسا ہی کیا ہے۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مودی سرکار، پاکستانی میڈیا کی پل پل مانیٹرنگ کرتی رہتی ہے اور جو کچھ ہماری حکومت کرتی ہے، وہی کچھ انڈین بیورو کریسی کی سفارش پر بی جے پی سرکار بھی کر دیتی ہے…… لیکن ہندو اس سودے میں بھی ڈنڈی مارنا نہیں بھولتا۔

جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں (15اپریل بروز بدھ بوقت 12بجے دوپہر) انڈین میڈیا (دی ہندو، دی انڈیا ٹائمز،NDTVوغیرہ) پر کرونا متاثرین کے جو اعداد و شمار آ رہے ہیں وہ یہ ہیں:

1۔ کل متاثرین: 11439

2۔صحت یاب ہونے والے: 1306

3۔مرنے والے:377

اس کے مقابلے میں پاکستان کے اعداد و شمار یہ ہیں:

1۔ کل متاثرین: 5837

2۔صحت یاب ہونے والے: 1378

3۔مرنے والے: 96

.

دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 126,681 بتائی جا رہی ہے…… میں حیران ہوں کہ انڈیا کا لاک ڈاؤن ہمارے لاک ڈاؤن سے زیادہ موثر نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر پاکستان میں 96لوگ موت کا شکار ہوئے ہیں تو انڈیا کی آبادی پاکستان سے 6گنا زیادہ ہے۔ اس حساب سے انڈیا میں مرنے والوں کی تعداد (6x96) 576 ہونی چاہیے۔ لیکن انڈین میڈیا اگر یہ تعداد 377 بتا رہا ہے تو اس پر کون اعتبار کرے گا؟…… ہمارے ہاں انڈین میڈیا میں تقریر و تحریر کی آزادی کی جو مِتھ (Myth) پیش کی جاتی ہے وہ سراسر سفید جھوٹ ہے…… اور یہ ایک اور قابلِ توجہ موضوع ہے جس کا ذکر پھر کبھی……

مزید :

رائے -کالم -