لاک ڈاؤن میں سختی، خلاف ورزی پر گرفتار یاں، کرونا وائرس سے شرح اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے: ظفر مرزا، مزید 10افراد دم توڑ گئے، تین صوبوں میں 30، پنجاب میں 25اپریل تک لاک ڈاؤن میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    لاک ڈاؤن میں سختی، خلاف ورزی پر گرفتار یاں، کرونا وائرس سے شرح اموات میں ...

  

لاہور اسلام آباد، پشاور کراچی(جنرل رپورٹر، کرائم رپورٹر، سٹاف رپورٹر،، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ سندھ نے لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا تین چار بچوں کے ساتھ ڈبل سواری کی اجازت نہیں، آٹو موبائل انڈسٹری بھی نہیں کھول رہے، تعمیراتی شعبے سمیت دیگر محکموں کو ایس او پیز کے مطابق کھولا جائے گا، بلڈرز کو پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ہوگی، بات نہ ماننے والوں سے سختی سے نمٹا جائے سندھ میں گزشتہ روز لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر متعدد افراد کیخلاف کارروائی کی گئی اور درجنوں کو گرفتار کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سندھ میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش ہے، اگرکوئی کہہ رہا ہے کہ وائرس دیگر ممالک سے کم ہے تو غلط ہوگا، کورونا سے بچاؤ کیلئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ٹیسٹنگ کٹس اور حفاظتی سامان مل چکا، تمام کام قوانین کے مطابق کریں گے، پاکستان میں وائرس دیگر ممالک کی طرح خطرناک ہے، وبا سے نمٹنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا وفاق کے ایس او پیز پر 4 صفحات کا جواب دے دیا، کچھ صوبوں کا خیال تھا ہیئر ڈریسر، پلمبر و دیگر دکانیں کھلنی چاہئیں، ہم نے کہا ابھی ان کو کھولنے کی ضرورت نہیں، لاک ڈاؤن میں ہیئر ڈریسر، درزی کے پاس جائے گا کون؟ ڈومیسٹک فلائٹس سے متعلق کہا ابھی مزید 2 ہفتے گزارہ کر سکتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ چاروں صوبوں میں نہیں چلے گی، سب صوبوں کا خیال تھا کہ لاک ڈاؤن بڑھایا جائے۔وزیراعلی سندھ نے مزید کہا سب کا ایس او پیز پر اتفاق ہوا، وزیراعظم کو مبارکباد دیتا ہوں، وزیراعظم نے بتایا زراعت کے بعد سب سے اہم تعمیراتی صنعت ہے، صنعتیں ملازمین کیلئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کریں گی، بسوں پر انڈسٹری کا نام لکھا ہوگا، صرف 10 فیصد لوگ سوار ہونگے، بلڈنگ کی تعمیر کیلئے مزدور، سامان وغیرہ کی معلومات دینا ہوں گی، علمائے کرام سے افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں گے۔فاق کی جانب سے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک گیر جزوی لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع کے بعد خیبر پختونخوا اور بلوچستان حکومت نے بھی لاک ڈاؤن کی مدت 30 اپریل تک بڑھادی۔پنجاب حکومت نے صوبہ میں کورونا وبا کے پیش نظر 25اپریل تک کیلئے لاک ڈاون کانوٹیفکیشن جاری کردیا نوٹیفکیشن پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سیکرٹری پرائمری اینڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کیپٹن رعثمان نے جاری کیا جس کے مطابق تمام مارکیٹس،شاپنگ مال،ریسٹورنٹس،سرکاری ونجی دفاتر بند رہیں گے۔نوٹیفکیشن میں مذید کہا گیا ہے کہ سماجی،مذہبی،تقریبات،میلوں،سپورٹس فیسٹول،جم اور سنوکر کلب پر پابندی رہے گی شادی ہال،شادی کی تقریبات،تعلیمی اداروں،سکولز،کالجز،میڈیکل کالجز،ٹیکنکل اور وکیشنل انسٹی ٹیوٹ،یونیورسٹیز،ٹیوشن سینٹرز،دینی مدارس اورامتحانات پر پابندی رہے گی تمام ایسے سرکاری دفاتر ان کے سرکاری اہکار دفاتر میں جاسکیں گے قانون نافذ کرنے والے ادارے،ایجنسی اور متعلقہ اداروں کے اہلکار فرائض انجام دے سکیں گے۔ ضروری خدمات سرانجام دینے والے اداروں کے ملازمین ڈیوٹی پر جاسکیں گے۔یوٹیلٹیز کمپنیز،واسا،میوسپلیٹز،واپڈا،این ٹی ڈی سی،ڈسکوز اور ایس این جی پی ایل کے ملازمین کام کرسکیں گے موبائل کمپنیز،فرنچائز اورکسٹمرز سپورٹ کے ضروری افراد ڈیوٹی انجام دے سکیں گے، لاہورپی ٹی سی ایل اور اس کے ٹاورز پر کام کرنے والے ملازمین کام کرسکیں گے۔دفاع سے متعلقہ مینوفیکچرنگ انڈسٹری اور پیکنگ فسیلٹی دینے والے ادارے کے ملازمین کام کرسکیں گے مائیکروفنانس انسٹی ٹیوشنز کاضروری عملہ پبلک ڈیلنگ کیلئے دفاتر آسکے گا۔لاہورسیکورٹیز اینڈ ایکسچینجز کمپنی،سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی،نیشنل کلیئرنگ کمپنی،مارچنٹائل ایکسچینج کمپنی اپنے کام سٹاف سے کام کرے گی احساس کفالت پروگرم سمیت دیگر متعلقہ اداروں کاسٹاف بھی اپنے فرائض انجام دے سکے گا فارن ڈپلومیٹس اور ان کے لوکل سٹاف کوکام سے متعلق گھومنے کی اجازت ہوگی صحت اور اس سے متعلقہ ادارے جن میں لیبارٹیز اور فارماسوٹیکلز فیکڑیز کوکام کرنے کی اجازت ہوگی نماز جنازہ کی ادائیگی اور اس سے متعلقہ پروگرام کی اجازت ہوگی کال سینٹرز،ای کامرس بزنس اور لوکل ڈلیوریز کمپنی کو50فیصد سٹاف کی اجازت ہوگی بینک اپنے لازمی سٹاف کے ساتھ کام کرسکیں گے پرچون سٹورز،جنرل،کریانہ سٹورز،بیکریز،آٹا چکی،ڈیری شاپس،چکن اینڈ گوشت،مچھلی،فروٹس اور سبزیوں،تندور،آٹو ورکشاپس،ٹائر پنکچرز،سپیئرز پارٹس،پیٹرول پمپس اور آئل ڈپو کھلے رہیں گے ریسٹورنٹس کے ٹیک ویز اور ہوم ڈلیوری بھی کھلے رہیں گے ایل پی جی کے آوٹ لیٹس،فلنگ پلانٹس،اور سپلائی چینز سٹورز کھلے رہیں گے پوسٹل کورئیر سروسز،پک اینڈ ڈرپس ڈور سٹیپ تک جانے کی اجازت ہوگی۔کسٹم ڈرائی پورٹس آپریشن کوکام کرنے کی اجازت ہوگی پولیٹری فیڈ،پرسنل پروٹیکشن ایکوئیمنٹس بنانے اور سپلائی کرنے کی اجازت ہوگی فرٹیلائزر کمپنی کے سٹاف کے نقل وحمل کی اجازت ہوگی شناختی کارڈ تصدیق کیلئے لازمی ہوگا ریفائنریز کمپنیوں کے بھی سٹاف کوبھی کام کرنے اور ڈسٹری بیوشن کی جازت ہوگی ٹریکٹر اور اس کے آلات بنانے والے اداروں،فارماسٹوٹیکل انڈسٹریز کوکام کرنے کی اجازت ہوگی سوڈا ایش انڈسٹری کوکم ازکم سٹاف کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہوگی۔سیمنٹ پلانٹس کے سٹاف اورانڈسٹری کوکام کرنے کی اجازت ہوگی میڈیا سے متعلقہ افراد اور نیوز ہاکرز کوکام کرنے کی اجازت ہوگی۔وکلا کوکورٹس میں اہم کیسوں میں پیش ہونے کی اجازت ہوگی کیمکل،سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ،پروگرامنگ،ٹیک سپورٹ کمپنیاں،الیکڑیشن،پلمبر،کارپنٹرز اور درزیوں کوکام کرنے کی انفرادی اجاز ت ہوگی ویٹنری سروسز،رئیل اسٹیٹس،بک شاپس،کلاس مینوفیکچرنگ یونٹ،پیپر پیکنگ،ہارٹیکلچرز،مائنز اینڈ منرل،روڈ سیکڑ،کرے سٹکچرز اور متعلقہ اداروں کوکام کرنے کی جازت ہوگی ایکسپورٹ سے متعلقہ انڈسٹری کوایس او پیز کے مطابق کام کرنے کی اجازت ہوگی۔گھر سے دو افراد پرچون کاسامان،ادویات،ڈاکٹر کے پاس جاسکتے ہیں ڈرائیور کے ہمراہ گاڑی میں جاسکتے ہیں جن سٹورز کوکام کرنے کی اجازت ہے ان کوسوشل ڈسٹینس رکھنا ضروری ہے۔پرچون اور کریانہ سٹورز،کوصبح نو سے پانچ بجے تک کام کرنے کی اجازت ہوگی دودھ اور گوشت کی دکانیں صبح نو سے رات آٹھ بجے تک کھلی رہیں گی۔اس حوالے سے حکومت پنجاب کے ترجمان نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بیوٹی پارلرز اور حجام کی دکانیں بھی بند رہیں گی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارووائی کی جائے گی۔گزشتہ روز پنجاب مین صبح کے وقت لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی جس کے بعد لوگ مارکیٹوں میں پہنچ گئی اور دکانیں کھل گئیں جس پر انتظامیہ نے اچانک لاک ڈاؤن مین سختی کر دی اور دکانین زبردسشتی بند کرا دین اس موقع پر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیادوسری طرف معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے شرح اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دیگر ملکوں کی نسبت ہمارے کیسز کم ہیں۔ اس موذی مرض میں مبتلا 1500مریض صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج 44 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب تک 73 ہزار 440 شہریوں کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صعنتیں کھولنے کا مقصد یہ نہیں کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا جائے۔ تمام گائیڈ لائنز ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ سب نے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے۔ مالکان کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ اگر مالکان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے تو جواب دیں گے۔اس موقع پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ فیصلے زمینی حقائق کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔ یہ مشکل صورتحال ہے۔ ہم نے 22 کروڑ عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرنے ہیں۔ تاہم دو مختلف قسم کی رائے اور آوازیں سننے کو مل رہی ہیں۔ کوشش ہے تمام اکائیاں ساتھ مل کر کام کریں۔اسد عمر نے کہا کہ مشکل فیصلے کبھی خوشی سے نہیں کیے جاتے۔ حکومت نے کورونا وبا کیساتھ ساتھ بھوک اور افلاس پر بھی قابو پانا ہے۔ پبلک ہیلتھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے پاکستان کے معاشی حالات کافی نازک ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ ملکی معاشی حالات کے حوالے سے عالمی بینک اور آئی ایم ایف نے بھی پیشگوئی کر دی ہے۔ کرونا کی وجہ سے اس سال پاکستانی برآمدات میں 3 ارب ڈالر تک کمی متوقع ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مہینے گزشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات 70 فیصد گر گئی ہیں۔ کاروباری طبقے کے قرضوں کی ادائیگی موخر کرنے کے معاملے پر اسٹیٹ بینک سے بات چیت جاری ہے۔مشیر تجارت نے گزشتہ سال چینی کی برآمد نہ روکنے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔

لاک ڈاؤن

اسلام آباد لاہور، کراچی (جنرل رپورٹر،سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان میں بدھ کے روز کرونا وائرس سے مزید 10 اموات ہوئی ہیں جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 117 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 6300 تک پہنچ گئی۔ملک میں ہونے والی 117 ہلاکتوں میں سے سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں 42 جبکہ 41 ہلاکتیں سندھ میں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں 28، بلوچستان میں 2، گلگت 3 اور اسلام آباد میں ایک ہلاکت ہوچکی ہے۔بدھ کے روزملک میں کررونا کے مزید 316 کیسز سامنے آئے ہیں اور 10 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ سندھ میں 150 کیسز 6 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا میں 47 کیسز 4 ہلاکتیں، پنجاب 71، بلوچستان 33، اسلام آباد 9، گلگت بلتستان 3 اور آزاد کشمیر سے 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سندھ میں کرونا وائرس کے مزید 150 کیسز سامنے آئے اور 6 ہلاکتیں بھی ہوئیں جس کی تصدیق صوبائی ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کی۔پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 71 کیسز سامنے اائے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 3016 ہوگئی ہے جب کہ ہلاکتیں 28 ہوئیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 701 زائرین، 1091 تبلیغی ارکان، 91 قیدی اور 1133 عام شہری کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ اب تک صوبے میں کورونا سے 508 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں مزید 33 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 281 ہوگئی جب کہ صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہے۔دوسری جانب کورونا وائرس کے مریضو ں کی تعداد کے حوالے سے ترجمان حکومت بلوچستان،محکمہ صحت اور وفاقی حکومت کی رپورٹس میں تضاد نظر آنے لگا ہے جس سے صحافی پریشان ہیں کہ کس رپورٹ پر یقین کریں اور کس پر نہیں۔محکمہ صحت اور ترجمان حکومت بلوچستان صوبے میں کورونا سے 3 اموات بتارہے ہیں جب کہ وفاقی حکومت کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم 2 اموات بتا رہا ہے۔وفاقی دارالحکومت سے کورونا کے مزید 9 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔آزاد کشمیر سے ا?ج کورونا کے مزید 3 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔خیبرپختونخوا میں بدھ کو 47 نئے کیسز اور 4 اموات سامنے آئیں جس کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی جب کیسز کی مجموعی تعداد 912 ہوگئی۔صوبے میں مزید 13 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جس کے بعد مہلک وائرس سے جنگ جیتنے والے افراد کی تعداد 191 ہوچکی ہے۔گلگت بلتستان میں بدھ کو کورونا کے مزید 3 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 237 ہو گئی۔۔لاہور میں مزید9 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے سے شہر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد484 ہوگئی۔ پنجاب میں مزید 71 کیسزسامنے آنے سے مجموعی تعداد 3016 ہو گئی۔ کیمپ جیل لاہور میں 59، رائے ونڈ مرکز میں 484کنفرم مریض ہیں۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق 704 زائرین سنٹرز، 1091 رائے ونڈ سے منسلک افراد میں تصدیق ہوئی۔ 91 قیدیوں، 1133 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ سیالکوٹ 14 اور گوجرانوالا میں 7 قیدیوں میں وائرس کی تصدیق، ڈی جی خان میں 9 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق، ڈی جی خان میں 221 زائرین، ملتان میں 457 زائرین میں وائرس کی تصدیق۔ فیصل آباد میں 23 زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق، شیخوپورہ 12، بہاوالدین میں 17 تبلیغی ارکان میں تصدیق، سرگودھا 35، وہاڑی 37، راولپنڈی 16، جہلم میں 41 تبلیغی ارکان میں تصدیق، ننکانہ 2، گجرات 10، گوجرانولا 2، رحیم یار خان 45، بھکر 61 ارکان میں تصدیق، خوشاب 2، راجن پور 9، حافظ آباد 35، سیالکوٹ 19، لیہ میں 27 ارکان میں تصدیق، مظفر گڑھ 52، نارووال 15، بہاولنگر 9، فیصل آباد میں 6 تبلیغی ارکان میں تصدیق، ملتان میں 105، ساہیوال 7 اور بہاولپور میں 10 تبلیغی ارکان میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔عام شہریوں میں ننکانہ 16، قصور 9، شیخوپورہ 10، راولپنڈی 102، جہلم میں 33 افراد میں تصدیق، اٹک 1، چکوال 4، گوجرانوالا 39، سیالکوٹ 31، نارووال میں 8 افراد میں تصدیق، گجرات میں 138 شہریوں میں کورونا کی تصدیق، حافظ آباد 12، منڈی بہاوالدین 9، ملتان 23، خانیوال 2، وہاڑی 35 افراد میں تصدیق، فیصل آباد 35م، چنیوٹ 8، رحیم یار خان 42، سرگودھا میں 14 شہریوں میں تصدیق، میانوالی 11، خوشاب 4، بہاولنگر 5، بہاولپور 20، لودھراں 3 افراد میں تصدیق، ڈی جی خان 18، لیہ، اوکاڑہ اور پاکپتن میں ایک،ایک کنفرم مریض ہے۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے کل 28 اموات جبکہ 508 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن میں سختی کرنے کا فیصلہ کرلیا، کورونا وائرس کے خوف کے باوجود زندگی کا پہیہ رواں دواں ہے۔خلاف ورزی کے مرتکب افراد کی پکڑ دھکڑ بھی ہونے لگی۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤکو روکنے کے لئے شہر میں لگائے گئے جزوی لاک ڈاون میں معمول کے مطابق ٹریفک رواں دواں ہے، تاہم پولیس کے ناکوں پر سختی کی جائے گی، غیر ضروری باہر نکلنے والوں کے خلاف پولیس کی جانب سے کارروائی جاری رکھنے اور دفعہ 144کی خلاف ورزی کے حامل افراد کو پکڑنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے ہے، ڈبل سواروں کے خلاف بھی کاروائیاں جاری ر ہیں گی۔ڈبل سواروں کو جرمانے بھی ہو نگے، پولیس کی جانب سے غیر ضروری باہر نکلنے والوں کو وارننگ اور چلان کے فیصلوں میں مزید سختی کر نے کاحکم دیا گیا ہے۔آخری اطلاع آنے تک شہر میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے درجنوں افراد کو حراست میں لیا ضا چکا تھا دوسری طرف دنیا بھر میں کورونا سے ایک لاکھ 33ہزار 741 افراد ہلاک ہوگئے،جبکہ 20لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، عالمی وبا کے باوجود جنوبی کوریا میں انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔دنیا بھرمیں 51 ہزار 612 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، امریکا کے بعد اٹلی میں صورتحال سب سے خوفناک ہے جہاں 21 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔سپین میں 18 ہزار 255 شہری کورونا کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے گئے، فرانس میں 15729 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ برطانیہ میں 12 ہزار 107 افراد ہلاک ہوگئے۔ ایران میں کورونا سے 4683، ترکی میں 1403، بیلجیم میں 4157 افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو کے گورنر ولسن ویزل کورونا کا شکار ہوگئے۔ کینیڈا میں 903 افراد کورونا سے ہلاک ہوگئے۔ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کو کم کرنے میں ابھی کئی ہفتے لگیں گے۔سعودی عرب کی وزارت صحت نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے مزید آٹھ ہلاکتوں اور 435 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزارت صحت نے بتایا کہ مملکت میں اب کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 73 ہوگئی ہے اور کل تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 5369 ہوگئی ہے۔دارالحکومت الریاض میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کے بعد 114 نئے کیس سامنے آئے۔ مکہ مکرمہ میں 111، الدمام میں 69،مدینہ منورہ میں 50 اور جدہ میں 46 نئے کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے۔الہفوف میں 16، بریدہ میں 10 اور ظہران میں سات کیسوں سمیت مملکت کے دوسرے شہروں میں بھی ایک،ایک دو، دو افراد اس مہلک وَبا کا شکار ہوئے گزشتہ روز امریکہ میں مزید1502،سپین 322،اٹلی578،برطانیہ میں 761افراد ہلاک ہو گئے

کرونا ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -