ملکی معیشت کا پہیہ جام‘ آنیوالے دن انتہائی خطرناک ہوں گے‘ سید احمد محمود

  ملکی معیشت کا پہیہ جام‘ آنیوالے دن انتہائی خطرناک ہوں گے‘ سید احمد محمود

  

خان پور(نمائندہ پاکستان)پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر وسابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں مزید حکومتی توسیع کی بجائے اگر تاجروں کی لاک ڈاؤن ختم کرنے کی بات مان لی جائے تو حکومت کیلئے بہتر رہے گا کیونکہ ملکی لاک ڈاؤن کے باعث قحط سالی کی طرف تیزی سے دوڑ رہا ہے ادھر صوبائی سرحدوں کی بندش نے (بقیہ نمبر32صفحہ6پر)

تجارت کو قد غن لگادی ہے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران کی پالیسیوں اور یہاں کے کاروباری اداروں کے سربراہان کے درمیان کھلا تضاد ہے جو ملکی معیشت کو دفن کربیٹھے گا۔وہ پی پی پی کے ضلعی صدر سردار حبیب الرحمان گوپانگ اور ضلعی رہنما جام خلیل احمد ودیگر پی پی پی کی اہم شخصیات سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔مخدوم سید احمد محمود نے مزید کہا کہ کرونا کے پھیلاؤ نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے کھڑا کردیا ہے اور حالات مزید شکیدگی کی طرف حکومت خود لیکر جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف اندرون ملک ٹرینیں تک بند کردی گئیں،کئی اضلاع میں دفعہ144نافذ کردی گئی،ڈبل سواری اور دو سے زائد افراد کے ہجوم پر پابندی لگادی گئی تو دوسری طرف حکومت خود سبزی منڈیوں میں ہزاروں افراد کے ہجوم،احساس پروگرام میں خواتین کے ہجوم اور حد نگاہ لمبی قطاریں،بنکوں کے باہر بھی خواتین کا رش قائم کرکے اپنی ہی لگائی گئیں پابندیوں کی خلاف ورزی کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں بے روزگار ہونیوالے کروڑوں عوام کو حکومت اگر دو وقت کی روٹی گھر بیٹھے نہیں دے سکتی تو کم از کم انکو احتیاطی تدابیر کا پابند کرکے انک اپنے اپنے کاروبار کرنے کی اجازت دے دینی چاہئے۔مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ ملکی معیشت کا پہیہ جام رہنا وطن عزیز کیلئے آنیوالے دنوں میں بہت زیادہ خطرنال ثابت ہوگا۔اس موقع پر جام خلیل احمد نے مخدوم سید احمد محمود کو مزدور طبقہ کی بے روزگاری اور انکے گھروں میں فاقوں بارے آگاہ کیا جس پر انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو اپنی فیصلوں بارے اب روائتی انداز اپناتے ہوئے یوٹرن لے لینا چاہئے اور اس حکومت کیلئے کوئی نئی بات نہیں کیونکہ جو حکومت سوچ سمجھکر فیصلے نہیں کرے گی اسے یوٹرن کی عادت پڑ جاتی ہے۔ تصویر ہمراہ ہے

احمد محمود

مزید :

ملتان صفحہ آخر -