پالیسیوں پر اختلافات‘ پیف پارٹنرز‘ صوبائی وزیر تعلیم آمنے سامنے

  پالیسیوں پر اختلافات‘ پیف پارٹنرز‘ صوبائی وزیر تعلیم آمنے سامنے

  

ُٰشجاع آباد (نمائندہ خصوصی) پیف پارٹنرز اور صوبائی وزیر تعلیم میں پالیسیوں پر اختلافات بڑھ گئے پیف پارٹنر زنے صوبائی وزیر تعلیم کیخلاف پر سوشل میڈیا مہم پر صوبائی وزیر تعلیم نے پیف پارٹنر ز کو ادائیگیوں میں چنے چبوا دیئے کئی کئی ماہ سے ادائیگیاں نہ کی جا سکیں گزشتہ ماہ میں جو ادائیگیاں کی گئیں ان میں پنجاب بھر کے 289000طلبا جو کہ دوران چیکنگ غیر حاضر(بقیہ نمبر38صفحہ6پر)

پائے گئے انہیں صوبائی وزیر تعلیم نے انہیں فیک ظاہر کرتے ہوئے گزشتہ پانچ ماہ کے جرمانے عائد کر دئیے گئے جس میں سے پنجاب بھر کے پچاس سکولز ایسے ہیں جن کی زیرو پے منٹ آئی اور پچاس فیصد سکولوں کو کی ادائیگیوں کو پانچ ماہ کا کٹ لگایا گیا جس سے پیف سکول مالکان ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور تا حال تین ماہ کی ادائیگیاں نہ کی جا سکی ہیں جس کی وجہ سے پیف سکول مالکان اساتذہ کرام کو تنخواہیں نہیں دے پا رہے ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سکول مالکان اور اساتذہ کرام کے گھروں میں بھوک ناچ رہی ہے قابل غور بات یہ ہے کہ جن طلباوطالبات کو صوبائی وزیر تعلیم فیک تصور کر رہے ہیں ان کا پیک طلباوطالبات کا پیک کا امتحان اور QATٹیسٹ بھی لیا جا چکا ہے ایک طرف تو طلبا کو فیک تصور کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف امتحان لیا جا چکا ہے ابھی تک یہ معاملہ کئی ماہ گزرنے کے بعد حل نہ ہو سکا ہے جس کی وجہ سے پیف پارٹنر ز تذبذب کا شکار ہیں جبکہ پیف پارٹنرز کا موقف ہے کہ ہمارے ہر سکولوں میں زائد طلباوطالبات بیٹھے ہوئے ہیں جن کی ادائیگی پیف نہیں کررہا ہے ہر ماہ پیف کے نمائندے مانیٹرنگ کر کے رپورٹ بھیجتے ہیں تہ ان حالات میں فیک بچوں کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رولز کے مطابق 20فیصد غیر طلبا کی رعائیت ہے مگراس کے بر عکس ایک ماہ کی نہیں بلکہ گزشتہ پانچ ماہ کی ادائیگیوں کو کٹ لگا دیا ہے جس سے سکولز مالکان مالی بد حالی کا شکار ہیں جس پر فاس پروگرام میں شامل سکول مالکان صوبائی وزیر تعلیم کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے صوبائی وزیر تعلیم ان کا قبلہ درست کرنے کیلئے مختلف کار ہائے سرانجام دے کر پیف پارٹنرزکے معاملات کو الجھا رہے ہیں صوبائی وزیر تعلیم اور پیف پارٹنرز کے آپس کے معاملات کب حل ہوں گے یہ ایک اہم سوال ہے؟

آمنے سامنے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -