نشتر ہسپتال: 40مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق، علاج معالجہ کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر

  نشتر ہسپتال: 40مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق، علاج معالجہ کی سہولتیں نہ ...

  

ملتان (نمائندہ خصوصی)نشتر ہسپتال کے ایک اور ڈاکٹر میں کورونا کی تصدیق تعداد 27 ڈاکٹرز,3 نرسز سمیت پانچ افراد پر مشتمل دیگر طبی عملہ بھی کورونا کا شکار، نشتر ہسپتال ملتان کے مزید 1 ڈاکٹر میں رات گئے کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی جس کے بعد وائرس سے متاثرہ ڈاکٹروں کی تعداد 27 ہو گئی ہے، مزید ڈاکٹرز کی رپورٹس آنا باقی ہیں، متاثرہ ڈاکٹر کو ائسولیشن(بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے،جبکہ اب تک 3 نرسز اور جبکہ ایک نرس کے دو بھائیوں سمیت پانچ پیرا میڈیکس میں بھی وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، سٹاف میں اور دیگر زیر علاج مشتبہ افراد بھی کورونا میں مبتلا ہو کر آئی سو لیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں،ادھر پی ایم اے ملتان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج نے نشتر ہسپتال میں ایمرجنسی ڈکلئیر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جلد از جلد مزید سٹاف کی بھرتی کا مطالبہ بھی کیا ہے ادھر نشتر ہسپتال میں افرادی قوت کی شدید کمی پیدا ہو چکی ہے ادھر نشتر ہسپتال کے آئی سو لیشن وارڈ میں کورونا میں مبتلا 17 مریض زیر علاج ہیں جن میں ڈاکٹرز سمیت دیگر طبی عملہ اور دیگر شہری بھی شامل ہیں جبکہ کورونا کے شبہ میں 25 مریضوں کے نمونے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے ان 25 مشتبہ مریضوں میں بھی زیادہ تعداد ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس اور نرسز کی ہے جبکہ دیگر عام شہری بھی شامل ہیں واضح رہے نشتر ہسپتال میں گزشتہ چار سے پانچ روز کے دوران 40 سے زائد مریضوں میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان میں 34 افراد پر مشمتل طبی عملہ بھی شامل ہے جن میں سے بیشتر پازیٹیو کیسز کو نشتر ہسپتال سے رجب طیب اردوان ہسپتال مظفر گڑھ منتقل کیا جا چکا ہے۔ نشتر ہسپتال ملتان کے 17 ڈاکٹروں میں کورونا کی تصدیق کے بعد بیس ڈاکٹروں کو رجب طیب اردوان ہسپتال مظفر گڑھ منتقل کر دیا تھا گزشتہ روز مظفر گڑھ ہسپتال میں زیر علاج کورونا پازیٹیو ڈاکٹروں نے دل بہلانے کے لئے جھومر ڈالا اور ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی،ڈاکٹر عبدالقدوس،ڈاکٹر سعید چودھری اور دیگر کا کہنا تھا کہ اس جھومر ڈالنے کا مقصد یہ ہے کہ کورونا میں مبتلا ہونے کے باوجود حوصلے بلند ہیں اللہ کا شکر ہے سب ڈاکٹر صحت یاب ہو رہے ہیں اور اصل پیغام یہ ہے کہ کورونا کے حوالے سے معاشرتی رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرنسپل کی جانب سے تین روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے برن یونٹ کو کورونا کئیر کاونٹر بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں کیا جا سکا، اس حوالے سے برن یونٹ پیرا میڈیکس اور نرسز نے احتجاج کرتے ہوئے مرکزی گیٹ بند کر دیا،مظاہرین میں شامل ملک خضر اور دیگر کا کہنا تھا کہ برن یونٹ کو کسی صورت کورونا کئیر ہسپتال نہیں بننے دیں گے،برن یونٹ کے مریضوں کو آئی سی یو کئیر اور دیگر اہم علاج کی ضروریات ہوتی ہیں،برن یونٹ کے مریضوں کو کسی اور جنرل وارڈ میں منتقل کرنے سے سب مریضوں کی جان کو خطرات لاحق ہو جائیں گے،حکومت پہلے سے خالی ڈینٹیسٹری انسٹیٹیوٹ یا نئے ڈسٹرکٹ ہسپتال کو کورونا کئیر ہسپتال کا درجہ دے دے اور اگر اس دوران سانحہ احمد پور شرقیہ یا سانحہ تیزگام جیسا خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو گیا تو جنوبی پنجاب کے اس واحد برن یونٹ کے علاوہ ان متاثرین کو کہاں رکھنے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑے برن یونٹ کو کورونا کے مریضوں کے لیئے مختص کرنے پر طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، طبی ماہرین تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال کی انتظامیہ نے جنوبی ہنجاب کے واحد بڑے برن یونٹ کو کورونا کے مریضوں کے علاج کرنے کے لیئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر طبی حلقوں میں تشویش کی لہر ڈور گئی ہے اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر خضر حیات ڈاکٹر فاران اسلم کہنا تھا کہ جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج کے لئے برن یونٹ واحد سہارا ہے جہاں آپریشن تھیٹرز، آئی سی یو، سینٹرل سپلائی آف گیسز، ڈائگناسٹکس اور بلڈ بنک ایک ہی جگہ موجود ہے، یہاں پر ان جھلسے ہوئے مریضوں کو داخل کیا جاتا ہے جو دوسری وارڈز میں نہیں بچ پاتے، اور اس کو کورونا کے علاج کے لیئے مختص کرنے سے 3 کورونا کے مریضوں کو بچانے کے لئے 30 جھلسے ہوئے مریضوں کو مرنے کے لیئے چھوڑ دیا جائے گا، جھلسے ہوئے مریضوں کے ساتھ یہ نا انصافی ہے۔ایک جانب کورونا وائرس کے خوف نے پوری قوم کو جکڑ رکھا ہے،ادھر نشتر ملتان کے ڈاکٹرز کے حوصلے بلند ہین،پی ایم اے کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج نے بتایا کہ 27 ڈاکٹروں سمیت 03 نرسز اور 05 پیرا میڈیکس میں کورونا کی تصدیق کے باوجود نشتر ہسپتال کے ایمرجنسی اور وارڈز میں ڈاکٹروں،نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف مسلسل مریضوں کی سکریننگ اور علاج کررہے ہیں،اس حوالے سے گزشتہ روز پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ملتان کے وفد نے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج کی سربراہی میں وفد نے رجب طیب اردوان ہسپتال مظفر گڑھ کا دورہ کیا جہاں کورونا میں مبتلا نشتر ہسپتال کے 16 ڈاکٹروں سے ملاقات کی اس دوران ڈاکٹروں نے مسائل سے آگاہ کیا جبکہ بتایا کہ تمام ڈاکٹر باالکل صحت مند ہیں اور سب کے حوصلے بلند ہیں اور جلد ٹھیک ہو کر عوام کی خدمت دوبارہ شروع کر دیں گے،کسی میں علامات ظاہر نہیں ہوئی،اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج نے بتایا کہ تمام ڈاکٹروں کے علاج کے دوران فالو اپ رکھا جائیگا اور جلد ریپیٹ ٹیسٹ بھی کروائے جائیں گے۔ٍ نشتر ہسپتال کے ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس سٹاف کی بڑی تعداد کورونا وائرس سے متاثر ہوئی، جس پر حفاظتی کٹس کے نہ ملنے اور مناسب انتظامات نا ہونے پر وائس چانسلر تنقید کی زد میں تھے، جس پر اب وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا نے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے ہوئے خود کو ہی کلینکل ڈیوٹیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے،جبکہ اس دوران ان کی غیر موجودگی میں یونیورسٹی کے انتظامی معاملات پرو وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود سر انجام دیں گے، اس حوالے سے نشتر ہسپتال کے عملے نے وائس چانسلر کو انتظامی امور پر کام جاری رکھنے اور عملے کو حفاظتی کٹس کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے جس پر وائس چانسلر کا موقف ہے کہ اس وباء میں وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں رہے بلکہ اضافی کام کریں گے۔

تصدیق /نشتر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -