وکلا ء کو ویلیفئر فنڈ نہ ملنے پر مختلف اداروں کو نوٹس‘ 27اپریل کو جواب طلب

وکلا ء کو ویلیفئر فنڈ نہ ملنے پر مختلف اداروں کو نوٹس‘ 27اپریل کو جواب طلب

  

ملتان ( کورٹ رپورٹر  ) ہائیکورٹ ملتان بنچ نے کورونا وائرس کے پیش نظر وکلاء کو ویلفئیر فنڈ نہ ملنے کے خلاف مختلف دو درخواستوں پر حکومت پاکستان و پنجاب سمیت دیگر اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 اپریل(بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

کو جواب طلب کرلیا ہے جبکہ ایک درخواست نمٹاتے ہوئے پاکستان بار کونسل کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ہفتوں میں معاملے پر فیصلہ کریں جس بارے بار کونسل کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔قبل ازیں فاضل عدالت میں پٹشنر ملک محمد عثمان بھٹی نے چوہدری محمد اکرم،عابد بھٹہ کے جبکہ پٹشنر رانا محمد اشرف جمیل نے کونسل شیخ تنویر احمد کے ذریعے درخواستیں دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء نے دیگر طبقات کی طرح وکلاء برادری کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور مالی طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت پاکستان نے ہر طبقے کی مالی مدد کے لیے فنڈز کا اجراء کیا ہے۔ تین لاکھ خاندانوں کا تعلق عدالتوں سے ہے اور ایک لاکھ کے قریب پنجاب کے وکلاء پریکٹس کرتے ہیں جن کے لیے کوئی ریلیف پیکج کا اعلان نہیں کیا گیا جو رقم پنجاب بار نے دی ہے وہ انتہائی کم ہے جس سے وکلاء مستفید نہیں ہوسکتے۔ جبکہ بار کونسل کے پاس وکلاء کا فلاح و بہبود فنڈ ہمیشہ موجود رہتا ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں وکلاء کو مستفید کرنے کے لیے مہیا کیا جانا چاہیے اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بار کونسل بغیر کسی درخواست وصولی وکلاء کو 40 ہزار روپے کا چیک جاری کرے تاکہ سفید پوش وکلاء اپنے معاملات بہتر طریقے سے چلا سکیں۔ اس لئے فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ وکلاء کے معاشرتی تقدس کا خیال رکھتے ہوئے حکومت کو بھی فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز احمد ندیم گھیلا اور چوہدری محمد شکیل نے فاضل عدالت کی معاونت کی۔

جواب طلب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -