صنعتی شعبہ کی بندش ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے،خادم حسین

صنعتی شعبہ کی بندش ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے،خادم حسین

  

لاہور( لیڈی رپورٹر)تاجر رہنما و پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن خادم حسین سینئر نائب صدر خادم حسین ایگزیکٹو ممبرلاہور چیمبرز آف کامرس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث صنعتی شعبوں کی بندش کے باوجود ملک میں بلند شرح سود صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اگرچہ اسٹیٹ بینک نے دو بار شرح سود میں کمی کی ہے لیکن اس کے باوجود اب بھی 12.5فیصدشرح سود بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروبار ی ادارے بلند شرح سود اا کرکے منافع میں نہیں جاسکتے،معاشی نمو میں بہتری کیلئے شرح سود میں مزید کمی کی جائے اور اسے سنگل ڈیجٹ تک لایا جائے۔ ان خیالات کااظہار فیروز پور بورڈ کے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔خادم حسین نے کہا کہ بلند شرح سود میں اضافہ سے نئی انویسٹمنٹ متاثر ہوگی اور سرمایہ تجارتی سرگرمیوں کی بجائے محفوظ منافع کیلئے بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دی جارہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بینکوں کے شرح منافع میں اضافہ کار جحان ہے انہوں نے کہا کہ شرح سود کم نہ ہونے سے سرمایہ کاری میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ کرونا وائرس کے باعث ملک میں معاشی نمو میں کمی کا خدشہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے حکومت صنعتی شعبہ کو معاشی ریلیف دے۔کرونا وائرس کے باعث امریکہ میں معاشی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ان کے مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی کردی ہے کیونکہ شرح سود میں کمی سے معاشر سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ کہ امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق پاکستان ایشیاء میں سب سے زیادہ شرح سود کے حامل ممالک میں شامل ہے۔شرح سود میں اضافہ سے بنکوں کے ڈیپازٹ میں تو اضافہ ہورہا ہے لیکن اس کے باعث صنعتی ترقی میں کمی واقع ہو گی کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے صنعتی مقاصد کے لیے قرضوں میں خودبخود اضافہ ہوگیا ہے جس سے صنعتکار پریشانی کا شکار ہیں اور ان کے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔صنعتی شعبہ کے قرضوں میں اضافہ سے صنعتی برادری متاثر ہو ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلند شرح سود اور عالمی معاشی حالات میں ابتری کے باعث پاکستانی درآمدات اور برآمدات بھی متاثر ہورہی ہیں اس لیے اسٹیٹ بنک شرح سود میں فوری کمی کرے کیونکہ خطہ میں پاکستان میں شرح سود سب سے زیادہ ہے۔

مزید :

کامرس -