علماء کے متفقہ اعلامیہ پر عملدرآمد کیا جائے،مولانا عزیز الرحمن

علماء کے متفقہ اعلامیہ پر عملدرآمد کیا جائے،مولانا عزیز الرحمن

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم، پیررضوان نفیس، مولانا علیم الدین شاکر، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا خالد محمود گزشتہ روز کراچی مختلف مکاتب فکر کی طرف سے منعقد ہونیوالے اجلاس کے اعلامیہ کی مکمل حمایت اور تائید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری علماء کے اس متفقہ اعلامیہ پر عمل درآمد یقینی بنائے۔علماء نے کہا ہے کہ لازمی سروسز کی طرح مساجد میں بھی لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ جانے کی اجازت ہونی چاہیے ہم چاہتے ہیں کہ منظم طریقے سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ اجتماعات ہوں۔

علماء نے کہا کہ ابھی تک جن لازمی سروسز کی اجازت دی گئی ہے وہاں لوگ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کررہے ہیں، ان جگہوں پر بھی جمگھٹا لگانے سے روکنے کے ساتھ انہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی جائے،لازمی سروسز کی طرح مساجد میں بھی لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ جانے کی اجازت ہونی چاہئے۔معاہدہ کے باوجود آئمہ کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے گرفتاریاں کی گئیں، لوگوں کو مساجد میں آنے سے روکنے کا کام آئمہ کا نہیں ہے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔علماء نے کہا کہ وبا اللہ کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ ہی اسے ختم کرسکتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قوم احتیاطی تدابیر کے ساتھ نمازوں کا اہتمام کرے اور رمضان میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں ہم بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں تو امید ہے اس میں مزید بہتری آئے گی۔ علمائے کرام تصادم یا خلفشار نہیں چاہتے ہیں، اس نازک موقع پر متحد ہو کر مگر معقولیت کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ا نہوں نے کہا کہ دیگر مکاتب فکر کے علماء اورزعماء کرام کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب ارکان پارلیمنٹ سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے درخواست ہے کہ وہ رمضان المبارک کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کریں اور حکومت کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ حفاظتی تدابیر، سینیٹائیزر گیٹ، ماسک اور دیگر وہ تمام اقدامات عوام کو فراہم کریں جو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -