کراچی لاک ڈاؤ ن میں نرمی کے حوالے سے کنفیوژن، بیشترکاروبار نہ کھل سکے

  کراچی لاک ڈاؤ ن میں نرمی کے حوالے سے کنفیوژن، بیشترکاروبار نہ کھل سکے

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)وفاقی اور سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے کنفیوژن کے نتیجے میں کراچی میں گزشتہ روز بیشتر کاروبار نہ کھل سکے اور کاروباری حضرات دکانیں کھولنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار دکھائی دیئے۔تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کی سفارشات کے نتیجے میں 15اپریل سے مکینک، الیکٹریشن، پلمبر، درزی،لانڈری،حجام اور بعض دیگر شعبہ جات کو کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے،تاہم وفاقی اور صوبائی حکومت کے فیصلوں میں ابہام اور وضاحت نہ ہونے کے باعث گزشتہ روز شہر میں مکینک اور اکثر آٹو ورکشاپس بند رہیں،گارڈن،لسبیلہ،لیاقت آباد،واٹرپمپ،نارت کراچی، چھوٹا گیٹ،وائرس گیٹ ا،اسٹار گیٹ،عائشہ منزل مکا چوک سمیت دیگر علاقوں میں واقع آٹو ورکشاپس اور مکینک کی دکانیں مکمل طور پر بند رہیں اور اکثر مکینک اپنی بند دکانوں کے باہر بیٹھے دکھائی دیئے،اس حوالے سے جب مکینک حضرات سے دکانیں اور ورکشاپس کھولنے کے حوالے سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں علم ہی نہیں کہ ورکشاپس کھولنی ہیں یا نہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ورکشاپس کھولنے پر پولیس آجائے یا پھر انتظامیہ ہم پر جرمانے عائد کردے۔ورکشاپس اور مکینکس کے برعکس شہر میں حجام اور درزی کی دکانیں کھلنا شروع ہوگئی تھیں،حجام کی دکانوں پر لوگوں کا رش دکھائی دیا اور اکثر حجام احتیاطی تدابیر کو نظر انداز بھی کرتے رہے تاہم کچھ علاقوں میں دکانیں کھولنے سے حجام گریز کرتے دکھائی دیئے جبکہ بعض علاقوں میں حجام کی دکانیں بند بھی کرائی گئیں۔اس حوالے سے ہیئرڈریسراینڈ بیوٹیشن ویلفیئرایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ناصر محمود جنجوعہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ہیئرڈریسرز اور بیوٹیشنز کو ملک بھر میں کاروبارکرنے کی اجازت دیئے جانے کے باوجود سندھ حکومت نے کاروبار کرنے کی باضابطہ اجازت نہیں دی حالانکہ ہمارے تمام ممبران نے یہ یقین دلایا تھا کہ وہ تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے لیکن جبراً ہمارے کاروبار کو بند کرکے سندھ حکومت کیا نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔دوسری جانب درزی کی دکانیں کھلنے کے باوجود ان کے پاس کام کی کمی ہے کیونکہ شہر میں کپڑے کی دکانیں تاحال بند ہیں،تاہم درزی اس وقت اپنے پاس موجود پہلے سے کام کو نمٹا رہے ہیں،لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد شہر میں الیکٹریشن اور پلمبر کی ڈیمانڈ بھی بڑھ گئی ہے مگر شہر بھر میں ہارڈویئر،بجلی کے سامان کی دکانیں بدھ کودوپہر تک نہ کھل سکیں اسی طرح تعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت کے باوجودسندھ حکومت کی خاموشی کے سبب سیمنٹ، سریا اورتعمیراتی سامان فروخت کرنے والوں کی دکانیں بھی نہ کھل سکیں اور نہ ہی شہر میں تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوسکا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -