محمد سلیم صابری نے پریس کلب کے باہر قوالی شروع کردی

  محمد سلیم صابری نے پریس کلب کے باہر قوالی شروع کردی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)معروف پاکستانی قوال امجد صابری پر کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں جون 2016 میں جان لیوا مسلح حملے میں زخمی ہونے والے ان کے ہمنوا محمد سلیم صابری ان دنوں معاشی بدحالی اور انتہائی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ سلیم صابری کراچی پریس کلب کے مرکزی دروازے کے سامنے سڑک پر قوالی گا کر احتجاج ریکارڈ کراتے دیکھے جا رہے ہیں، محمد سلیم صابری نے اس موقع پر امجد صابری کے ساتھ دنیا بھر کے غیرملکی دوروں کے دوران ملنے والے ایوارڈز اور اعلی شخصیات کے ساتھ تصاویر کی نمائش بھی لگا رکھی ہے۔ قوال سلیم قادری کی اہلیہ، بچے اور بچیاں بھی "سنگنگ پروٹیسٹ" میں ساتھ موجود ہیں، امجد صابری پر حملے کے وقت زخمی ہونے والے ان کے ہمنوا سلیم صابری اس وقت کی سندھ سرکار کی اعلان کردہ امداد رقم سے تاحال محروم ہیں۔ سلیم صابری کے مطابق اس وقت کے وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ نے واردات کے بعد مقتول امجد صابری کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے جبکہ زخمی کے لیے 15 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ سلیم کے مطابق سندھ کی صوبائی حکومت سے امدادی رقم کے حصول کے لیے ہر طرح کی کوششوں کے باوجود وہ ناکام رہے ہیں، اپنے ساتھ احتجاجی پوسٹر اٹھا کر بیٹھے اپنے بڑے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلیم قادری نے گلوگیر لہجے میں کہا کہ ان کا یہ بڑا بیٹا آرمی آفیسر بننا چاہتا ہے جبکہ چھوٹا امجد صابری قوال بننے کے خواب دیکھتا ہے۔ سلیم صابری نے کہاکہ گھر میں فاقے ہیں وہ ان کی خواہشات کیسے پوری کریں، سلیم صابری کا شکوہ ہے کہ وہ جس بھی اعلی شخصیت سے ملتے ہیں سب کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ "میں ملک کا اثاثہ ہوں " انہوں نے کہاکہ انہیں اثاثہ کہنے سے کسی کو کیا حاصل؟ مالک مکان کو ہر حال میں گھر کا کرایہ چاہیے ہوتا ہے اور آنے جانے کے لیے ٹیکسی والا بھاڑا مانگتا ہے، سلیم صابری نے بتایاکہ انہیں امدادی رقم سے زیادہ دلچسپی بچوں کی تعلیم اور گھر کی مستقل کفالت کے لیے نوکری کے حصول میں ہے۔ سلیم صابری قوال نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ نوکری نہیں دے سکتے تو اعلان کردہ امدادی رقم ہی دے دیں تاکہ پرچون کی دکان کھول سکوں یا موسیقی کے آلات خرید کر قوالوں کا گروپ بناکر حمدوثنا کے سلسلے کو آگے بڑھا سکوں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -