حکومتی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی بالکل درست ہے،اکانومی واچ

حکومتی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی بالکل درست ہے،اکانومی واچ

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان اکانومی واچ کے چیئرمین بریگیڈیئر محمد اسلم خان نے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں انشورنس سیکٹر کی افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔اس شعبہ کو بھی دیگر درجنوں سیکٹرز کی طرح کھولا جائے کیونکہ اسکی بندش سے لاکھوں پالیسی ہولڈر متاثر ہو رہے ہیں جبکہ رہی سہی اقتصادی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ محمد اسلم خان نے ملک کے معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ طارق حسین اور دیگر معاشی ماہرین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی بالکل درست ہے کیونکہ ہمارا ملک مکمل لاگ ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ مرکزی حکومت نے درجنوں اہم سیکٹرز کو کھول دئیے ہیں جن میں کیمیکل، سافٹ وئیر،ای کامرس، پیپر، پیکجنگ، معدنیات، شیشہ سازی،سیمنٹ، فرٹیلائیزر، ایگری کلچرل مشینری، ایگری پراڈکٹس، ایکسپورٹ انڈسٹری اورادویات سمیت مختلف کاروبار شامل ہیں جو خوش آئند ہے جبکہ کئی شعبوں کے بارے میں فیصلہ صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ انشورنس انڈسٹری لاکھوں افراد، انکے خاندان، گاڑیوں، گھروں، کاروبار، فصلوں، لائیو سٹاک اور اثاثوں کو تحفظ فراہم کر ہی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ، میرین، انڈسٹری اور بینکاری کا شعبہ بھی اس پر دارومدار رکھتا ہے۔جن شعبوں کو چلنے کی اجازت دی گئی ہے ان میں انشورنس لازمی ہے اور انشورنس سیکٹر کی بندش کی صورت میں انکا کام متاثر ہو گا۔موجودہ حالات میں ہیلتھ ٹریول اور آٹوانشورنس کے کلیم بڑھ رہے ہیں مگر انکی مدد ناممکن ہو گئی ہے۔ ٹریکر کمپنیوں کو بند رکھنے سے چوری ہونے والے گاڑیاں کا پتہ چلانا ناممکن ہو گیا ہے۔اس موقع پر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ طارق حسین نے کہا کہ مختلف شعبے کھولنے سے روزگار اور محاصل میں اضافہ ہو گا۔امپورٹ اور ایکسپورٹ کے کاروبار میں ٹرانسپورٹ سمیت ہر قدم پر انشورنس لازمی ہوتی ہے جو نہ ہونے کی صورت میں انکا اعتماد متاثر ہو گا۔انشورنس کمپنیاں، انشورنس بروکرز، انشورنس سروئیرز اور ٹریکرزکے شعبہ باہم مربوط ہیں جنھیں کھولا جائے اور حکومت حالات کا سارا بوجھ خود نہ اٹھائے بلکہ کاروباری برادری کے نقصانات میں کمی کے لئے انشورنس سیکٹر کو ساتھ لے کر چلے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -