لاک ڈاؤن سے شہری گھروں میں قید، گلی محلوں میں بھکاریوں کا راج

لاک ڈاؤن سے شہری گھروں میں قید، گلی محلوں میں بھکاریوں کا راج

  

کراچی (رپورٹ/ندیم آرائیں) حکومت سندھ کی جانب سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں شہریوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کی گئی ہے وہیں پیشہ ور بھکاریوں کے غول در غول شہر کی سڑکوں پر اور گلیوں محلوں میں گھر گھر جاکے بھیک مانگتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تاحال ان بھکاریوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔ان بھکاریوں کی آزادانہ نقل و حمل سے شہر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عالمگیر وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کاروبار زندگی معطل ہے اور شہری اپنے گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔حکومت پاکستان کی جانب سے بھی لاک ڈاؤن میں 30اپریل تک توسیع کردی گئی ہے۔اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ان کے صوبے میں اس لاک ڈاؤن کو مزید سخت کیا جائے گا تاہم حیرت انگیز امر یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے احکامات کی وجہ سے جہاں شہر میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں اور شہری اپنے گھروں پر رہنے پر مجبور ہیں وہیں صبح سے لے کر رات گئے تک شہر کی مختلف سڑکوں اور گلی محلوں میں پیشہ ور بھکاری بھیک مانگتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ان بھکاریوں کے ہمراہ چھوٹے بچے بھی موجود ہوتے ہیں۔یہ پیشہ ور بھکاری آزدانہ طور پر شہر کے مختلف علاقوں میں نقل و حرکت کرتے ہیں اور ان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی روک ٹوک کا سامنا نہیں ہے۔سولجر بازار سمیت دیگر علاقوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خاتون بھکاری اپنے چھوٹے بچوں کے ہمراہ چادر بچھائے بیٹھی ہوتی ہیں لیکن ان کو وہاں سے کوئی بھی نہیں اٹھاتا ہے۔پیشہ ور بھکاریوں کے اس عمل سے شہر میں کورونا وائرس کی وبا میں پھیلاؤ کا بھی خدشہ ہے کیونکہ یہ بھکاری زیادہ تر خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ افراد کچی آبادیوں میں بھی رہتے ہیں۔اگر خانہ بدوشوں کی بستوں اور کچی آبادیوں میں کورونا وائرس پھیل گیا تو اس کے لیے انتہائی سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔اس حوالے سے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو حکومت شہریوں کو گھروں پر رہنے کا پابند بنارہی ہے وہیں ان پیشہ ور بھکاریوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔اس وقت شہر میں مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے بلاتفریق رنگ و نسل تمام مستحق افراد میں راشن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔اگر یہ اتنے ہی مستحق ہیں تو ان اداروں سے راشن کیوں نہیں لیتے ہیں اور اگر ان کو اس بات کا علم نہیں ہے تو حکومت فلاحی اداروں کو کہہ کر ان کے راشن کا بندوبست کرے اور بھکاریوں کو گھروں میں رہنے کا پابند بنایا جائے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -