کورونا کا سدباب نہ کیا گیا تو ناقابل بیان نقصان ہوگا، خرم شیرزمان

کورونا کا سدباب نہ کیا گیا تو ناقابل بیان نقصان ہوگا، خرم شیرزمان

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)، صدر پی ٹی آئی کراچی و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا کہحکومت سندھ لاک ڈاون میں توسیع کرنے میں کامیاب اور عملدرآمد کروانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ وزیر اعلی میڈیا پر کہتے ہیں کہ کرونا تیزی سے لوگوں کو لپیٹ میں کے رہا ہے۔وزیر اعلی اسکا جواب دیں کہ تین ہفتوں کے لاک ڈاون کے باوجود کیسزمیں اضافہ کیوں ہوا؟ سندھ حکومت لاک ڈاون ہر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہوچکی ہے۔جبکہ دوسری جانب حکومت سندھ بتائے کہ جو لوگ یومیہ اجرت پیشہ اور چھوٹے کاروبار سے منسلک ہیں وہ اپنے گھر کیسے چلائیں؟ ان خیالات کا اظہار خرم شیر زمان نے انصاف ہاوس سے جاری اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے کہا تھا کہ لاک ڈاون میں توسیع سے قبل باقاعدہ حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ ایک بار پھر بغیر کسی موثر حکمت عملی کے لاک ڈاون میں توسیع لوگوں کا معاشی قتل ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ لاک ڈاون وقت کی اشد ضرورت ہے مگر دوسری جانب غربا اور محنت کش طبقے کے حالات کا بھی خیال ہے۔ سندھ حکومت نے ضلع شرقی اور وسطی کی مختلف یونین کونسل کو حساس قرار دیتے ہوئے سیل کرنے کا حکم دیا۔ برائے نام سیل کرنے اور برائے نام لاک ڈاون سے کرونا پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے مرکزی سڑکوں پر بلاک کیا ہے جبکہ علاقوں کے اندر معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومت سندھ عوام کی زندگیوں کے ساتھ مزاق کرنا بند کردے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ حکومت حساس علاقوں میں لاک ڈاون پر مکمل عملدرآمد کروائے، اور حساس علاقوں میں گھروں میں جا کر اسکریننگ کی جائے تا کہ اس مرض کو کسی حد تک قابو کیا جاسکے۔ رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا کہ لاک ڈاون میں توسیع کا سن کر شہریوں بے حد تشویش و بے چینی پائی جاتی ہے۔ وزیر اعلی سندھ جواب دیں کہ وفاقی حکومت پر تنقید اور بغیر سوچے سمجھے فیصلوں کے علاوہ انہوں نے کیا کیا ہے؟ پی ٹی آئی روز اول سے ایک ہی بات کہہ رہی ہے کہ یہ وقت سیاست نہیں بلکہ خدمت کا ہے۔ عوام کو اس وقت حکمرانوں ک ضرورت ہے۔ وزیر اعلی روز میڈیا پرآکر بیانات دینے کے بجائے عوام کی خدمت اور ریلیف کے حوالے سے اقدمات کریں۔ یہ ایک عالمی ایمرجنسی سے اگر اسکا فوری سدباب نہیں کیا گیا تو ناقابل بیان نقصان کا خدشہ ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -