تاج پورہ، لیسکوکی بے حسی برقرار علاقے میں تیسرا جنازہ اٹھ گیا: آٹھویں جماعت کا طالبعلم بجلی کی تاروں سے چھوکرجاں بحق، شیدید احتجاج

    تاج پورہ، لیسکوکی بے حسی برقرار علاقے میں تیسرا جنازہ اٹھ گیا: آٹھویں ...

  

لاہور(خبر نگار) تاجپورہ کی حدود میں واقع منظور کالونی میں لیسکو کے زیر انتظام بجلی کی ننگی تاروں سے چھو کر12 سالہ لڑکا جاں بحق ہو گیا،بچے کی ناگہانی موت پرگھر میں صف ماتم بچھ گئی،والدین پر غشی کے دورے،بہن بھائی زاروقطار روتے رہے،بچے کی رشتہ دار خواتین میت پربین کرتی رہیں،عزیز و اقارب اور اہل محلہ کی لیسکو حکام کے لئے جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں،تفصیلات کے مطابق منظور کالونی میں گزشتہ روز12 سالہ سیف اللہ جو کہ آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اورسب کی آنکھ کا تارا تھا،گزشتہ روز لیسکو کی بجلی کی ننگی تاروں سے چھو جانے سے کرنٹ لگنے سے دم توڑ گیا۔کم سن سیف اللہ کو آہوں اور سسکیوں میں مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا ہے۔اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور پورے علاقے میں سوگ کا سماں تھا۔بچے کا جنازہ اٹھا تو اس کی والدہ پر غشی کے دورے پڑنا شروع ہو گئے جبکہ والد پر سکتہ طاری ہو گیا۔واقعے کے خلاف پورا علاقہ لیسکو تاجپورہ سب ڈویڑن اور ایکسین کینٹ کے خلاف سراپا احتجاج بنا رہا۔ لواحقین اور اہل علاقہ سبھی احتجاج میں شامل تھے۔ سیف اللہ کا والد غلام قادر چار کم سن بچوں کا باپ اور مزدور ہے۔بیٹے کی ناگہانی موت پر غلام قادر نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بیٹے کی ہلاکت کے ذمہ دار لیسکو تاجپورہ سب ڈویژن اور ایکسین کینٹ ڈویژن ہے۔ان کی سست روی، عدم دلچسپی اور نااہلی کے باعث اس کے بیٹے کی موت واقع ہوئی۔متوفی بچے کے والد نے کہا کہ ایس ڈی او، لائن سپرنٹنڈنٹ اور ایکسین کینٹ کے خلاف تھانہ غازی آباد میں مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست جمع کروا دی ہے۔ ادھر اہل علاقہ نے بتایا کہ انکے گھروں کے سامنے اور چھتوں پر ننگی تاریں موت کا سامان ہیں،پورا علاقہ خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کسی بھی وقت کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔بچے اور خواتین چھتوں پر نہیں جا سکتے۔علاقے میں آئے روزکرنٹ لگنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔محلہ دار عبدالرزاق، عبدالغفار،نعمت علی، محمد افضل،آصف علی اور دیگر نے کہا کہ بجلی کی ننگی تاروں کو گھروں کی چھتوں سے پیچھے ہٹانے کے لیے ایس ڈی او تاجپورہ اور ایکسین کینٹ ڈویژن مزمل حسین کو متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔اس سے قبل بھی بجلی کی ننگی تاریں دو کم سن بچوں کی زندگیاں لے چکی ہیں۔علاقہ کے مکینوں نے متعدد بار احتجاج بھی کئے ہیں علاقہ کے مکینوں نے چیف ایگزیکٹو لیسکو مجاہد پرویز چٹھہ سے مطالبہ کیا کہ وہ خود اس بے بسی کا نوٹس لیں گھروں کے اوپر سے گزرتی ہوئی بجلی کی تاروں کو پیچھے ہٹائیں۔ لیسکو ترجمان نے کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

مزید :

علاقائی -