قرنطینہ اور احتیاط، زندگی ہے

قرنطینہ اور احتیاط، زندگی ہے
 قرنطینہ اور احتیاط، زندگی ہے

  

قرنطینہ کا تصور جدید دنیا میں 14ویں صدی کے وسط میں اٹلی سے آیا،اگر چہ اس تصور کو عملی شکل میں 2018ء میں ہالی ووڈ میں عکسبند کی گئی فلم”corantigion“ میں پیش کیا گیا جس نے آج پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں کس رکھا ہے۔ 14 ویں صدی میں اٹلی میں طاعون کی وباء پھیلی تو وہاں متاثرہ علاقوں سے آنے والوں کو 40دن تک شخصی تنہائی میں رکھا جاتا،اس عمل کو ”quaranta giorni“کا نام دیا گیا اطالوی زبان میں اس کا مطلب ہے ” 40دن“۔ انگریز دور میں بھی سیاسی مخالفین کو سزا دینے یا سماج سے دور رکھنے کیلئے کسی دور دراز جزیرے یا علاقہ میں بھیج دیا جاتا جسے ”کالا پانی“کا نام دیا جاتا تھا۔ قدیم مصر میں بھی قیدیوں کو شخصی تنہائی میں رکھا جاتا تھا اور ان کو ”سجن‘کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن تاریخ انسانی میں اصل قرنطینہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانثار صحابہ کیساتھ شعب ابی طالب میں گزارا جہاں وہ کامل تین سال سماج سے کٹ کر رہے مگر یہ شخصی تنہائی کسی وباء کی وجہ سے نہ تھی بلکہ مشرک معاشرہ میں دین الٰہی اور وحدانیت کاسچا پیغام دینے کی پاداش میں تھی۔آج دنیا کورونا وائرس کی ہولناکی کا شکار ہے مگر ہم اس سے خوفزدہ ہیں نہ ان حفاظتی تدابیر کو اختیار کرنے کو تیار ہیں جن کو حکومتی اداروں اور طبی ماہرین کی جانب سے کہا گیا ہے۔

کورونا معلوم بیماریوں میں سے واحد ہے جس کے کیرئر کو بھی علم نہیں ہوتا کہ وہ دنیا کا خطرناک ترین وائرس اٹھائے اپنے خاندان،ہمسایوں، دفتری ساتھیوں،بازار میں عام لوگوں میں تقسیم کرتا پھر رہا ہے،اس وائرس کی کسی متاثرہ میں موجودگی کا ثبوت کم از کم 14روز کے بعد ملتا ہے،خواہ کسی میں مرض کی علامات ہوں یا نہ ہوں،جب تک اس وائرس کا سراغ ملتا ہے تب تک وائرس پھیپھڑوں سانس کی نالی اور نظام تنفس کو اپنی گرفت میں لیکر بڑی تیزی سے انسان کو موت کی طرف دھکیلتا جاتا ہے۔اب تک اس وائرس کا ایک ہی علاج دریافت ہوا ہے اور وہ ہے احتیاط،احتیاط اور صرف احتیاط۔یہ ایسا متعدی وائرس ہے جو سانس کی نالی میں جگہ بنانے کے بعد سانس کے ذریعے دوسروں میں منتقل ہو جا تا ہے،چھینک مارنے سے بھی منتقلی ممکن ہوتی ہے،ناک اور منہ پر ہاتھ رکھنے سے یہ وائرس ہاتھ پر لگ جاتا اور متاثرہ کا ہاتھ جہاں لگے وہاں اپنی جگہ بنا لیتا ہے،یہ وائرس صرف 30ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت میں مرتا ہے اس سے کم میں یہ شیشے،سٹیل،دھا ت،پلاسٹک اور کپڑوں میں منتقل ہو کر کئی کئی روز تک زندہ رہتا اور ان کو چھونے والوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔اٹلی،سپین،امریکہ نے ان احتیاطی تدابیر سے چشم پوشی برتی جس کا نتیجہ ہلاکت کی صورت میں نکلا،بد قسمتی سے ہماری قوم کی اکثریت بھی خاص طو ر پر نوجوان طبقہ ان پابندیوں کو نظر انداز کر رہا ہے،حالانکہ شخصی تنہائی یا قرنطینہ سزا نہیں بلکہ متاثرہ اور اس کے خاندان سے ملنے جلنے والوں کیلئے زندگی کا پیغام ہے۔ آئسولیشن میں رہنے والوں کو بہترین خوراک ادویہ اور سہولیات کیساتھ زندہ رہنے اور ان کے اہل خانہ کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے،اس کے باوجود متاثرین سماجی فاصلے رکھنے پر تیار ہیں نہ ان کے لواحقین ان کو الگ کرنے پر آمادہ ہیں جس کا نتیجہ صرف اور صرف تباہی ہلاکت اور بر بادی ہے،اس لئے اس نازک موقع پر ہر شہری کو بلا امتیاز رنگ نسل زبان صوبہ اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔

عارضی لاک ڈاؤن سے خوفزدہ یا تنگ آنے والے صرف ایک بار شعب ابی طالب میں نبی پاک اور ان کے ساتھیوں کے گزرے تین سال پر نظر دوڑائیں ان کو معلوم ہو گا کہ حق گوئی پر ان پاک اصحاب نے کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کیں اور ہم اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی بچانے کیلئے چند روز کی تنہائی برداشت کر نے کو تیار نہیں،آقا علیہ السلام کیساتھ اس تنگ دشوار گزار پانی سے محروم گھاٹی میں مردوں کے ساتھ بچے،خواتین اور بزرگ بھی تھے،سوشل بائیکاٹ ایسا کہ ان اصحاب استقامت کو کھانا، پانی دینا بھی جرم تھا،بھوک پیاس سے بلبلاتے بچوں بوڑھو ں پر مشرکین کے قہقہے کوڑے کی طرح برستے،صحرا کی گرمی میں سایہ نہ پانی،بھوک اور تنہائی،مگر ان اصحاب با کمال کا جذبہ ایمانی سرد نہ ہو سکا،ایک ہم ہیں،کھانا،پانی،دوا دارو دستیاب، صرف پنکھے ہی نہیں ائر کنڈیشن کی بھی سہولت موجود،فون پر دوستوں رشتہ داروں سے گپ شپ بھی جاری،اور لاک ڈاؤں بھی ہماری بہتری اور بھلائی کیلئے مگرہم اپنے معمولات کو تجنے پر تیار نہیں،یہاں صرف غیر ضروری آمدورفت پر سختی ہے مگر شعب ابی طالب کا تو کفار نے مکمل محاصرہ کر رکھا تھا اور کسی کو اس بے آب و گیاہ وادی سے قدم نکالنے کی اجازت نہ تھی،اس پر گرمی کی شدت اور بھوک اور پیاس کا عذاب۔

تاریخ اسلام میں کربلاء کے سانحہ سے بھی سبق حاصل کیا جا سکتا ہے،یہاں تو سورج سوا نیزے پر تھا اور ساتھ ہی بہتا دریا مگر اہلبیت کرام کو پانی کے گھونٹ تو کیا قطرے تک سے محروم رکھا گیا،واپس جانے کے راستے اور جواز تھے اور سب جانتے تھے کہ کربلاء میں قیام کا مطلب موت ہے مگر کسی نے وہاں سے جانے کی کوشش تو دور کی بات خواہش بھی نہ کی،تاریخ اسلام کے یہ روشن واقعات دراصل ہمارے لئے سبق ہیں۔اگر کورونا اللہ کا عذاب ہے تو اس سے فرار ممکن نہیں آزمائش ہے تو بھی بھاگ نہیں سکتے،ہاں توبہ کے دروازے کھلے ہیں،اللہ پاک سے گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں،جو احتیاط،حفاظتی تدابیر بتائی گئی ہیں ان کو اپنا کر خود بچیں اور دوسروں کو بچائیں،یہ بھی ذہن میں رہے کہ فرمان نبوی ہے کہ ”کسی علاقہ میں وباء پھوٹے تو نہ اس علاقہ میں جائیں اور نہ وہاں سے باہر نکلا جائے“یعنی وباء سے متاثرہ علاقہ کے لوگوں کو آئسلیٹ کرنے کا حکم دیا گیا،مگر ہم جانے کیوں سب کچھ جانتے بوجھتے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو تیار نہیں،جبکہ پابندیاں ہمارے اپنے فائدہ میں ہیں۔یہ بات بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ اگر ہم نے احتیاط نہ کی وائرس زیادہ تیزی سے پھیلے گا اور پھر پابندیاں بھی مزید سخت اور طویل ہو جائیں گی،اس لئے پیارے پڑھنے والو بار بار ہاتھ دھونا عادت اور سینی ٹائزر کا استعمال معمول بنا لو، گھر سے باہر ماسک کو اپنی شخصیت کا لازمی جزو بنا لیں،سماجی فاصلے برقرار رکھیں،بے مقصد آمدورفت سے گریز کریں، خو د بھی محفوظ رہیں دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -