ایک مبلغ ناول نگار

ایک مبلغ ناول نگار
ایک مبلغ ناول نگار

  

میں نے پچھلے ہفتے میں اوپر تلے ڈپٹی نذیر احمد کے چار ناول پڑھے۔

مراة العروس

ابن الوقت

فسانہ مبتلا

توبتہ النصوح

ڈپٹی صاحب ناول کی کہانی خوب چلاتے ہیں۔ ناول کا پلاٹ عمدہ ہوتا ہے۔کردارنگاری کے بادشاہ ہیں۔ جو کرادار برا ہے یا بھلا،جس کردار میں جو خوبی ہے یا جو خامی اس کی خوبیوں اور خامیوں کو اس طرح سے ابھارتے ہیں کہ اس کردار کا خاکہ آپ کے دل پہ کاا لنقش فی الحجر ہو جاتا ہے، وہ فرشتہ یا شیطان بن کے آپ کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتا ہے۔

کرداروں کے عیوب و محاسن یوں بیان کرتے ہیں کہ جس کو بد بناتے ہیں اس سے متنفر کر کے چھوڑتے جس کو نیک بناتے ہیں اس کی شان میں یوں رطب اللسان ہوتے ہیں کہ زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں ان کے کردار یا تو فرشتے ہیں یا شیاطین ان کے بین بین کوئی چیز ان کو نہیں جچتی۔جو اچھا ہے وہ تو خوبی کا مرقع ہے بدی نے اس کو چھوا نہیں اور جو بد ہے وہ پھر اسفل السافلین میں جا شامل ہوا اس کا نیکی کے کوچے سے کیسا گزر۔اصغری اور اکبری کے کردار لے لیں یا نصوح اور کلیم کے سراپے کو سامنے رکھ کر پرکھیں۔

ان کے کردار انسانیت کے درجے کے قریب نہیں کہ نیکی اور بدی کا تھوڑا تھوڑا خمیر لے ایک خطا کہ پتلا بنا دیں جس سے نیکی کی توقع بھی ہو بدی بھی جس سے بعید نہ ہو۔سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ ہو،کھرے میں تھوڑا سا کھوٹ بھی شامل ہو۔کہانی عمدہ اور دلچسپ بیان کرتے ہیں۔مکالمے تو کیا کمال کے لکھتے ہیں۔یعں لگتا ہے دلی کے گھروں میں بولتے لوگوں کی گفتگو رکارڈ کر کے مولانا نے لکھ دی ہے۔کوئی بناوٹ نہیں کوئی تصنع نہیں۔برجستگی اپنے عروج پہ نظر آتی ہے۔کوثر و تسنیم میں دھلی بہت شفاف نثر لکھتے ہیں۔کہیں آپ کہانی کا مزہ لوٹتے ہیں تو کہیں زبان کے چٹخارے سے لطف لیتے ہیں۔

چھوٹے چھوٹے چست جملے ہر کردار کے نوک زباں ہیں۔جو مولوی ہے اس کی فصاحت بلا کی ہے یوں لگتا ہے کردار منبر مسجد پہ متمکن ہے اور جمعہ کے خطبہ میں وعظ و تلقین کر رہا ہے۔جس نے کٹ حجتی اور بحث کرنی ہے کیا کیا فصیحتیں اس کردار نے نوک زباں کر رکھی ہیں۔ڈپٹی نذیر احمد نے دلی کے تہذیبی ڈھانچے کو جو ڈیڑھ صدی پہلے کا تھا خوب محفوظ کیا اپنے ناولوں میں۔کہیں کہیں مقفع ،مسجعی اور معری نثر لکھ کے قلم توڑ دیا ہے۔زبان کی چاشنی اور شیرینی سے دماغ کے نہاں خانوں میں رس گھول دیا ہے۔مولوی صاحب کے اندر چھپا مولوی اور واعظ اور مقرر شعلہ بیان ان کی ناول نگاری پہ غالب نہ آ جاتا اور جگہ جگہ وہ تبلیغ کے دفتر نہ کھول کے بیٹھ جاتے کہانی کو کہانی اور زندگی کو بس زندگی رہنے دیتے تو اردو زبان ان سے بڑے ناول نگار کا چہرہ نہ دیکھ سکتی۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -