کورونا وائرس،عالمی سطح پر سفری پابندیاں کب ختم کی جائیں؟ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کردیا

کورونا وائرس،عالمی سطح پر سفری پابندیاں کب ختم کی جائیں؟ عالمی ادارہ صحت نے ...
کورونا وائرس،عالمی سطح پر سفری پابندیاں کب ختم کی جائیں؟ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کردیا

  

جنیوا (ڈیلی پاکستان آن لائن)عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں صرف اسی صورت میں نرمی کی جائے جب جب کورونا وائرس کی منتقلی پر یقینی طورپر قابو پالیا جائے۔

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کی ممکنہ دوسری لہر سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتیں صحت کے نظام کو مضبوط کرنے سمیت اضافی اقدامات کے بغیر لاک ڈاﺅن میں نرمی نہ کریں کیونکہ قبل از وقت سماجی فاصلوں کو ختم کرنے سے کورونا وائرس کی منتقلی میں بے پناہ اضافہ اور وائرس کی ممکنہ دوسری لہر پیدا ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ متعدد ممالک، تنظیموں اور افراد کا شکرگزار ہے جنہوں نے حالیہ دنوں میں ڈبلیو ایچ او سے مالی وابستگی سمیت اپنی حمایت اور عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کو کورونا وائرس کے تباہ کن نتائج کو روکنے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں کرنی چاہیں اور انہیں ان تمام افراد کے لیے ٹیسٹنگ، تشخیص، آئیسولیشن، منتقلی کی تلاش اور قرنطینہ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے جو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ ڈبلیو ایچ او کی کی نئی ہدایات مربوط عالمی حمایت کو بھی اجاگر کرتا ہے جو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے درکار ہوتی ہے جبکہ ہنگامی اقدامات میںکورونا وائرس ردعمل کے منصوبوں میں مزید بہتری کی جارہی ہے۔

https://dailypakistan.com.pk/23-May-2020/1136340

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے وڈیو کانفرنس کے دوران بتایا کہ کورونا وائرس کے زیادہ کیسز یورپ اور امریکہ میں ہیں لہذا ہم ابھی اس کا بدترین دور نہیں دیکھ رہے اگرچہ سپین اٹلی سمیت متعدد ممالک میں وسیع پیمانے پر یہ وباءپھیلی ہے اور اب وہاں متاثرہ کیسز میں معمولی کمی ہو رہی ہے جبکہ برطانیہ اور ترکی میں ابھی بھی متاثرہ کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے لہذا یہ بہت ہی مخلوط یعنی ملی جلی صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ممالک کو لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی میں نرمی صرف اس صورت میں کرنی چاہیے جب کورونا وائرس کی منتقلی پر یقینی طور پر قابو پا لیا جائے یعنی ٹیسٹ، حالیہ متاثرہ افراد کے رابطوں کا پتہ لگانا، متاثرہ اور صحت مند افراد کو الگ الگ رکھنے جیسے اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ملک کے قومی صحت کے نظام نئے کیسوں کی تعداد کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں نیز سکولوں اور دفاتر میں حکام اور ملازمین ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ رکھ کر کام کریں یا بچے اور ملازمین گھروں سے کام کریں، لوگ غیرضروری گھروں سے نہ نکلیں اور اس متعلق لوگوں کو وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جائے۔

ترجمان نے کہا کہ بعض ممالک نے متاثرہ افراد کی جلد شناخت ، جانچ اور قرنطینہ کرنے اور ان کے رابطوں کا سراغ لگا کر کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکا لہذا سخت حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد سے متاثرہ کیسز اور اموات کو کم کرکے معیاری نگہداشت کی فراہمی جاری رکھی جائے لیکن ایسے اقدامات غیر متناسب طور پر غریب افراد ، تارکین وطن ، اندرونی طور پر بے گھر افراد اور پناہ گزینوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جو بھیڑ اور کم وسائل میں رہتے ہیں اور روز مرہ کی کمائی پر انحصار کرتے ہیں۔

مزید :

کورونا وائرس -