ذیا بیطس اور کورونا وائرس، تازہ تحقیق میں شوگر کے مریضوں کے لیے انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آگیا

ذیا بیطس اور کورونا وائرس، تازہ تحقیق میں شوگر کے مریضوں کے لیے انتہائی ...
ذیا بیطس اور کورونا وائرس، تازہ تحقیق میں شوگر کے مریضوں کے لیے انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آگیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءپھوٹنے کے بعد سے ماہرین بتاتے آ رہے ہیں کہ شوگر، سانس اور دل کی بیماریوں جیسے عارضوں میں مبتلا افراد کی کورونا وائرس سے موت ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔ اب شوگر کے مریضوں کے متعلق اس تشویشناک خطرے کا تصدیق ایک تحقیق میں بھی ثابت ہو گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چین کی ووہان یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ بلڈ گلوکوزکا لیول زیادہ ہونے سے کورونا وائرس کی علامات زیادہ سنگین ہوتی ہیں اور ایسے مریض کی موت ہونے کا خطرہ کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں میں بلڈ گلوکوز زیادہ ہو انہیں کورونا وائرس لاحق بھی بہت آسانی سے ہوتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شی لیو کا کہنا تھا کہ ”جس کے جسم میں بلڈ گلوکوز زیادہ ہو اس میں گلوکوڈ میٹابولزم تیز ہوتا ہے جس سے اس کے پھیپھڑوں میں مدافعتی خلیے (Immune cells)بہت زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کو ’سائٹوکین سٹارم‘ (Cytokine Storm)کہا جاتا ہے۔ یہ صورتحال کورونا وائرس کی افزائش کے لیے آئیڈیل ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ایسے شخص کو ایک طرف وائرس جلدی لاحق ہوتا ہے اور دوسرے اس میں علامات زیادہ سنگین ہوجاتی ہیں، جس سے اس کی موت ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔“

مزید :

تعلیم و صحت -کورونا وائرس -