رکی پونٹنگ کو اپنے کیرئیر میں سب سے خطرناک سپیل کس باﺅلر کا لگا؟ ایسا انکشاف کہ پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہو جائیں

رکی پونٹنگ کو اپنے کیرئیر میں سب سے خطرناک سپیل کس باﺅلر کا لگا؟ ایسا انکشاف ...
رکی پونٹنگ کو اپنے کیرئیر میں سب سے خطرناک سپیل کس باﺅلر کا لگا؟ ایسا انکشاف کہ پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہو جائیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آسٹریلیا کے مایہ ناز سابق بلے باز اور دنیائے کرکٹ کے سب سے کامیاب کپتان رکی پونٹنگ نے اعتراف کیا ہے کہ اپنے کیریئر میں انہوں نے جس سب سے خطرناک اور تیز ترین سپیل کا سامنا کیا وہ شعیب اختر کا تھا۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں 26 ہزار سے زائد رنز بنانے والے سابق کپتان اور بلے باز رکی پونٹنگ نے چند روز قبل ایک ٹوئٹ میں 2005ءکی ایشز سیریز کے ایک میچ میں سابق انگلش آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹوف کی جانب سے خود کو کرائے گئے اوور کی ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ رکی پونٹنگ کا کہنا تھا کہ ” یہ ایک بہترین اوور تھا جس کا میں نے سامنا کیا ہے، اس میں 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بہترین ریورس سوئنگ تھی۔“

ٹیسٹ کرکٹ میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ رنز بنانے والے رکی پونٹنگ کی جانب سے فلنٹوف کو سپیل کو بہترین قرار دئیے جانے پر ان سے بے شمار سوال کئے گئے جس پر انہوں نے 1999ءمیں پرتھ آسٹریلیا میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں سے شعیب اختر کی ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ”فلنٹوف کے اوور کو بہترین قرار دینے کے بعد سے مجھ سے بے شمار سوال کئے گئے۔ میرے کیرئیر میں شعیب اختر کے یہ سپیل تیز ترین تھا جس کا سامنا کیا۔ یقین کریں کہ وکٹ پر میرے ساتھ موجود دوسرے کھلاڑی جسٹن لینگر بھی میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔“

سابق پاکستانی سپیڈ سٹار شعیب اختر نے بھی پونٹنگ کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”صرف رکی پونٹنگ ہی یہ سپیل کھیل سکتے تھے وہ سب سے بہادر کھلاڑی تھے۔ یہ بات سچ ہے کہ جسٹن لینگر دوسرے اینڈ پر ہی رہنا چاہ رہے تھے اور میرا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے۔“

خیال رہے کہ رکی پونٹنگ کا شمار دنیا ئے کرکٹ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ ون ڈے کرکٹ میں وہ تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ رکی پونٹنگ کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے 1996ءسے لے کر 2007ءتک کے تمام ورلڈ کپ فائنلز میں شرکت کی جبکہ وہ مسلسل تین مرتبہ 1999ءسے 2007ءتک ورلڈ چیمپین بننے والی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ تھے جن میں سے دو میں ٹیم کی قیادت ان کے پاس تھی۔

مزید :

کھیل -