سیاحت، معیشت اور پاکستان

سیاحت، معیشت اور پاکستان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پرانے زمانے کے لوگ مشاہدے اور علم کے حصول کے لیے بہت سفر کیا کرتے تھے۔ ارسطو، افلاطون، ولیم شیکسپیئر، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کی تصانیف اس لیے لازوال ہیں کہ انہوں نے عمر کا ایک بڑا حصہ ٹریولنگ کرتے ہوئے مختلف معاشروں کے بارے میں جاننے میں صرف کر دیا اور پھر اسی علم کو بذریعہ قلم اپنی کتب میں منتقل کر دیا۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا کامیاب شخص ہو جس نے عمر کا ایک حصہ سیاحت کو نہ دیا ہو۔ گویا ٹورازم کی اہمیت سے کسی طرح انکار نہیں کیا جاسکتا۔


سیاحت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ساڑھے تین ہزار سال قبل فرعون کے دربار سے لوگ تفریح کے لیے بحر روم کے ساحل پر جایا کرتے تھے۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں روم کے امیر لوگ فارغ وقت میں خلیج نیپلز کے قریب ایک مقام بایا جا کر عیش کا سامان کرتے تھے۔ اسی طرح چینی باشندے ہزاروں سال سے اپنی مقدس پہاڑیوں اور دوسری جگہوں پر روحانی اور ذہنی سکون کے لیے جاتے رہے ہیں۔
ٹریولنگ دماغ کی بند کھڑکیوں کے دروں کو وا کرتی ہے اور انسان کو ایسے تجربات سے روشناس کرتی ہے جن سے رسمی تعلیم اسے دور رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ سیکڑوں کتابیں پڑھ کر کسی علاقے کی معلومات حاصل نہیں کر سکتے جتنا اس کی سیر کر کے اس کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ بارہویں صدی تک چین کے باسیوں، ان کے جغرافیہ اور طرز زندگی کے حوالے سے لوگوں کا علم محدود تھا، لیکن پھر ایک اطالوی تاجر مارکو پولو نے شاہراہ ریشم پر سفر کرکے چین اور اس کے ملحقہ علاقوں کے بارے میں تاریخی کتاب لکھی اور یوں دنیا کو چینی معاشرے کے بارے میں آگہی ملی۔ اسی کتاب کو پڑھ کر کرسٹوفر کولمبس متاثر ہوا۔ شوق سفر جاگا اور وہ اسپین کی ملکہ ازابیلا سے اجازت اور پیسے لے کر مغرب کے رستے سے انڈیا دریافت کرنے نکل پڑا۔ کئی ہفتے کی مشقت اور تکلیف دہ سفر کے بعد وہ براعظم امریکہ جا پہنچا۔ اپنی دانست میں کولمبس انڈونیشیا تک آ چکا تھا جس سے چند ہفتوں کے سفر کے بعد وہ انڈیا پہنچ سکتا تھا۔ راستے میں آنے والے دو جزیروں کو اس نے چین اور جاپان سمجھا۔ کرسٹوفر لاسلز کی "دنیا کی مختصر تاریخ" میں لکھا ہے کہ مرتے دم تک کولمبس کو معلوم نہ تھا کہ وہ انڈونیشیا نہیں کسی اور جگہ پہنچا ہے۔ کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے پوری دنیا پر مرتب ہونے والے اثرات سے سب ہی واقف ہیں۔ 


چارلس ڈارون بھی ایک ایسا نوجوان تھا جسے گھومنے پھرنے کا شوق تھا۔ ۱۸۳۱ میں اسے دنیا کے سفر کرنے کا ایک موقع ملا۔ اس نے مسلسل پانچ سال بذریعہ بحری جہاز دنیا کے مختلف ممالک کی سیر کی جہاں اس نے انواع و اقسام کے پودوں اورجانوروں پر تحقیق کی۔ اسی ریسرچ کو ڈارون نے کتابی شکل دے کر 1859 میں چھاپ دیا جس کو بے مثال پذیرائی ملی۔ "آن دی اوریجن آف سپیشیز" آج بھی کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔ ڈارون جب خود کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا تو اس کو اوسط درجے کا طالب علم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن دنیا گھومنے کے بعد اس کے علم اور مشاہدے میں جو اضافہ ہوا اس پر پوری دنیا کی جامعات اور لائبریریاں آج بھی تحقیق کر رہی ہیں۔


واسکوڈے گاما، فرڈیننڈ میگلن اور شانزان کے سفر کی داستانیں لوگوں میں اتنی مقبول ہوئیں کہ عام آدمی کے دل میں بھی ان دیکھی دنیا دریافت کرنے کی امنگ جاگ اٹھی۔سو پندرھویں صدی عیسوی سے اٹھارہویں صدی تک سیاحت عروج پر رہی۔ اس دور کو یورپ کی تاریخ میں "زمانہ دریافت" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس وقت سیاحت کے مقاصد میں نئے راستوں اور ممالک کی تلاش، مذہبی تبلیغ اور سونے چاندی کے حصول کا لالچ بھی شامل تھے۔ بعد ازاں اسٹیم انجن کی ایجاد نے زندگی کی روانی کو تیز کردیا۔ جگہ جگہ فیکٹریاں لگ گئیں اور پوری دنیا انڈسٹریلائزیشن کا شکار ہو کر کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دوڑ میں لگ گئی۔ اور یوں لوگوں کے پاس سیاحت کے لئے سالوں یا مہینوں کی بجائے صرف ہفتے رہ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں ہمیں بڑے سیاحتی نام کم ملیں گے۔


مارکوپولو اور جیمز کک کے ادوار کو سیکڑوں سال گزر گئے۔ اب سیاحت بہت آسان ہو چکی ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں جانا ممکن ہے، شرط صرف وسائل کے موجود ہونے کی ہے۔ ٹورازم ایک شوق تک محدود نہیں رہا بلکہ صنعت کی شکل اختیار کر گیا ہے جس سے کئی ممالک اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔
2018 میں سوئٹزرلینڈ نے سیاحت سے 18 ارب ڈالر جبکہ یو کے نے 146 بلین پاؤنڈ کاریونیو اکٹھا کیا۔ پاکستان اپنی تمام تر خوبصورتی کے باوجود صرف 7 ارب ڈالر تک محدود رہا، یعنی:


پانچ پوت اور پندرہ پوتے
پھر بھی بابا گھاس کھودے 
برٹش بیک پائپر سوسائٹی اور فوربز میگزین کے مطابق پاکستان دنیا کی حیران کن جگہوں میں سے ایک ہے اور یہاں سیر، تفریح اور سیاحت کے لیے ضرور جانا چاہیے۔ ٹورزم انڈسٹری میں ہمارے پوٹینشل کے پیش نظر اس کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان نے ویزوں کو آن لائن کرنے اور اس کا طریقہ کار آسان کرنے کی پالیسی وضع کر دی ہے۔ یہ ایک احسن اقدام ہے جس سے نہ صرف سیاحت کی انڈسٹری کو فروغ ملے گا بلکہ معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاحتی مقامات کی طرف جانے والی سڑکوں کو شاہراہ قراقرم کی طرح بہتر بنایا جائے اور سیاحتی مقامات کے اردگرد عالمی معیار کی تمام سہولتیں میسر کی جائیں تاکہ دوسرے ممالک سے آنے والے سیاح واپس جا کر پاکستان کے سفیر بن سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -