ضیاء شاہد بھی چل بسے ۔۔۔!!!

ضیاء شاہد بھی چل بسے ۔۔۔!!!
ضیاء شاہد بھی چل بسے ۔۔۔!!!

  

محترم قارئین کرام ، ضیاء شاہد کا نام صحافتی حلقے میں "استاد" کے طور پر جانا جاتاہے ۔ 1945 ء میں پیدا ہونے والے ضیاء شاہد نے اپنی پوری زندگی بطور صحافی و لکھاری بے پناہ خدمات سر انجام دیں ۔بہاولنگر و ملتان سے ابتدائی تعلیم اور پنجاب یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ صحافت سے منسلک ہو گئے ۔ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ میں جائنٹ ایڈیٹر کے طور پر ذمے داریاں ادا کیں اور روزنامہ پاکستان کے بانی ارکان میں شامل ہیں بعد ازاں انہوں نے بطور چیف ایڈیٹر خبریں اور پھر نیا اخبار کا آغاز کیا ۔

ضیاءشاہد نےدرجن کےقریب تصانیف لکھی جن میں باتیں سیاست دانوں کی،صحافی کےسفرنامے،میرا دوست نوازشریف،سچاو کھرالیڈر و دیگر قابل ذکر ہیں۔میں نےاپنےصحافتی کیرئیر میں ضیاءشاہدکے ادارے کےساتھ کام تونہیں کیالیکن میں ان کی صحافتی جدوجہد سےمتاثرضرورتھا۔2013ءمیں علاقائی رپورٹرکی حیثیت سے روزنامہ اوصاف میں  لکھتا تھا تو خبریں ملتان کی جنوبی پنجاب میں ایک منفرد حیثیت تھی اور ضیاء شاہد کا نام گونجتا تھا ۔

میں نے اپنے صحافتی کیرئیر میں ضیاء شاہد کے متعلق زیادہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی اور نہ ہی میری ان سے کبھی تعارفی ملاقات ہوئی البتہ میں انکے کالم پڑھنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا تھا ۔ تجسس ہوا ضیاء شاہد کے وفات کے بعد بڑےبڑے نام نمایاں ہوئےجنہوں نےتسلیم کیا کہ وہ بھی ضیاء شاہد کی وجہ سے آج سب کچھ ہیں اور درجنوں دوستوں نے تو فیس بک پر انہیں "استاد" کا لقب دیتے ہوئے انکی خدمات کو سراہا تو کسی نے انکا معترف ہونے کا دعوی کیا ۔

بلاشبہ ضیاء شاہد کا خلاء صحافتی حلقے میں کبھی بھی پُر نہیں کیا جاسکتا ۔بارہ اپریل کو میری بیٹی لاریب زینب کی سالگرہ تھی اور تیرہ اپریل کو کالم نگار خان خدایار چنڑ کے ہمراہ ہمارے دوست نامور کالم نگار چیئرمین نیشنل کالمسٹ کونسل تحسین بخاری کے اعزاز میں نامور شاعر و کالم نگار رازش لیاقت پوری کی جانب سے منعقدہ "تقریب تحسین" میں شرکت کے لئے جانا تھا تو مجھے بارہ اپریل کو بذریعہ وٹس ایپ اور فیس بک اطلاع ملی کہ ضیاء شاہد کا انتقال ہو گیا ہے جسکی تصدیق میں نے خان خدایارچنڑ سے کی چونکہ چنڑ صاحب ضیاء شاہد کے قریبی ساتھی تھے اور دریاۓ ستلج کی آواز بننے کے لئے چنڑ صاحب کی جانب سے منعقدہ تقریب میں ضیاء شاہد حاصل پور آئے اور ہیڈ اسلام کے مقام پر ایک عظیم الشان ریلی کی صورت میں دریائے ستلج پہنچ کر یہاں کے باسیوں کے حق میں بات کی انکا جوش، ولولہ اور وطن سے محبت اس بات کا ثبوت ہے کہ ضیاء شاہد محب وطن اور حق گو بھی تھے ۔

خبر غم کی کنفرمیشن کے بعد ایک لمحے کے لئے دکھ بھرے الفاظ میں آہ نکلی اور محسوس ہوا جیسے کوئی اپنا کھو گیا ہو ۔میرا ذاتی خیال تھا کہ صحافت کے روح رواں اور مجھ جیسے سینکڑوں عام صحافیوں کو لکھاری بنانے والے ضیاء شاہد کے ساتھ صحافت کابھی جنازہ پڑھا دینا چاہئیے کیونکہ درجنوں اسیر صحافت اور نامور لکھاری اللہ کی جانب رخصت ہوچکے ہیں اور شاید الیکٹرانک میڈیا کی رفتار اس قدر زیادہ ہے کہ ہمارے بڑوں کے اندر وہ جذبات اور احساسات ختم ہو گئے ہیں جو 90ءاور 2000ء کی دہائی میں ہوا کرتے تھے، اب کوئی سینئر کسی جونئیر کو سیکھا کر راضی نہیں ہے،کسی ادارے میں جگہ بنانے کے لئے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور نئے آنے والوں کے لئے رہنمائی کا فقدان ہے ۔

چند اچھے لوگوں کی وجہ سے احساسات اور کچھ روایات باقی ہیں جو انکے ساتھ ہی ختم ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں۔ یقیناضیاء شاہد کی وفات کے ساتھ کئی نام ادھورے ہوکررہ جائیں گے ۔ضیاء شاہد نے اپنے ادارے میں سینکڑوں صحافیوں کو عام سے خاص بنایا اور انہیں اصول صحافت سیکھائے ان پر شفقت و رہنمائی کی جس بناء پر انکی وفات کے بعد ہر سو "استادضیاء شاہد"کی گونج تھی ۔ ضیاء شاہد نے صحافتی جدوجہد میں سات  ماہ جیل بھی کاٹی، اسکے علاوہ انہیں صدر پاکستان کی جانب سے اعلی سول اعزاز "ستارہ امتیاز" اور نواز شریف کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

ضیاء شاہد کا آخری کالم انکی رخصتی کی طرف اشارہ تھا جس میں انہوں نے فلاح انسانیت کے لئے کام کرنے کا درس دیا ۔اپنے بیٹے امتنان شاہد کو اور اپنے ادارے کے لئے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے دعائیں دی ۔ ضیاء شاہد اپنے ساتھ یادوں اور ملاقاتوں کا سمندر لے ڈوبے۔۔ دعاگو ہوں اللہ رب العزت ضیاء شاہد کو جواررحمت میں جگہ عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبرِجمیل عطاء فرمائے ،آمین۔۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -